- الإعلانات -

نیانَودن پراناسَودن

سیانے کہتے ہیں کہ نیا نو دن پراناسو دن اور عربی کاایک مقولہ بھی ہے ہر چیز اپنے اصل طرف لوٹتی ہے لیکن یہاں معاملہ واپس لوٹنے کا نہیں بس حالات اپنے مقاصدکو آگے بڑھانے کے لئے سازگار ہوتے ہی ہے اپنا ملمع اتار کر پوری بے شرمی سے اپنا ایجنڈے کوآگے بڑھایاجارہاہے جب سے خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے اور جس طرح پی ٹی آئی کی حکومت نے انتظامیہ کی اصلاحات کی ہیں مثلا ٹریفک کا نظام بہتر بنایا ہے اور قانون کا سختی سے نفاذ ہونے لگا ہے بڑے سے بڑے سرکاری عہدے کے حامل شخص کے ساتھ بھی وہی رویہ رکھا جاتا ہے جس کا عام آدمی بھی مستحق قرار پاتا ہے کوئی ایم پی اے یاایم این اے دھمکی نہیں دیتا اور نہ کسی سے ناجائز رعایت برتی جاتی ہے تعلیم کے نظام میں مثبت تبدیلیاں کی گئی ہیں نتیجتا پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے ہزاروں بچے سرکاری اسکولوں میں شفٹ ہوئے اسپتالوں کا انتظام وانصرام بہتر بنانے سے جس طرح اسپتال کے عملے کے رویے میں تبدیلی آئی ہے کہ لوگ کے پی کے، کے ہسپتالوں کا موازنہ دبئی کے ہسپتالوں سے کرنے لگے ہیں جہاں علاج اور دوائیں ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہیں پٹواری جو سابق ادوار میں خود کو کوئی خلائی مخلوق سمجھا کرتے تھے اور اپنے ڈیروں اور بنگلون میں بیٹھ کر شاہانہ انداز سے پٹوار چلایا کرتے تھے اب اپنی اصل اوقات میں آکر دفتری اوقات میں سرکاری دفتر میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں اور رشوت کو شجر ممنوعہ کہتے ہیں موجودہ حکومت نے پولیس کلچر میں بنیادی اصلاحات کی ہیں اور اس سے جس طرح عام انسان کو راحت ملی ہے سابق ایزی لوڈ حکومت نیکی کے پی کے میں بے مثال کار کردگی دکھائی اور اپنی گڈگورننس سے اوج ثریا کو جا لیااور کارگزاری سے ثابت کیا کہ کسی صوبے کا اس طرح سے بھی بیڑہ غرق کیا جا سکتا ہے اور جہاں معیارہی روکڑا (نقد)ہو تو پھر پرانی سرخیاں دھوڈالنے میں کس بات کی دیر تقریبا ایک صدی کا موقف بھی چند ملین ڈالر کی مار ہی نکلا سرخ کو سبز کرنے میں امریکہ کا ایک پھیرا اور چند منٹ ہی لگے بزرگوں کی ارواح بھی حیران ہوکر سوچتی ہوں گی کہ ٹھیک ہے سودا ہوتا ہی بیچنے کے لئے ہے لیکن اتنا سستا کچھ بارگین ہی کر لیتے تو چار چھلڑ(نقد) زیادہ ہی مل جاتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بے اوقات بندہ بھی سوچتا ہے کہ ضمیر کی بولی روز تو لگتی نہیں پتہ نہیں پھر کبھی بولی لگانے والا ملے نا ملے جو قیمت ملتی ہے تو بیچ ڈالو ضمیر کوئی گائے بھینس تو ہے نہیں جو کوئی بھی خرید لے اصولی موقف اور پرانا موقف اور اٹل موقف محض قیمت بڑھانے کی چالیں ہوتی ہیں سرکاری اداروں بشمول وزیراعلی کے ایزی لوڈ دفتر میں دل و دماغ کو تازہ رکھنے والی بھینی بھینی مہک سے فضا میں مخموری کی کیفیت برقراررہتی ہر کار پرداز سکون سے بیٹھے ہوتے تھیدفتروں میں دھوئیں کے مرغولے اٹھتے دیکھ کر لگتا تھا کہ کچھ ملنگ نما حضرات بابا شاہ گودڑا کے دربار پر حال مست بیٹھے ہیں ریلوے کا تو یہ حال تھا انجن ہانپ اور کانپ رہے ہوتے تھے کہیں دھکا دیکر کسی ٹرین کے آگے لگا بھی دیا جاتا تو تھک کر کہیں کسی جنگل میں لیٹ جاتے کئی مرتبہ راستے میں ڈیزل ختم ہوجاتا کیونکہ یہ ڈیزل راہنماؤں کی بسیں پی جاتیں مفاہمت کے شہنشاہوں نے سرخوں اور اپنے والدین کے پرانے تعلق کو خوب نبھایا اور وہ کچھ بھی دے دیا جو کبھی سنجیدگی سے مانگا ہی نہیں گیا مطالبے محض خود کو زندہ رکھنے کے لئے تھے فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ اب شاید حالات ان کے ڈھب کے ہو گئے ہیں جو محض خام خیالی ہی کہی جاسکتی ہے کہ فوج میں کسی کی انفرادی نہیں بلکہ ادارے کی سوچ ہوتی ہے حکومتی لوگوں کو بھی اگر فوج سے کوئی شکایت ہے تو وہ اس وقت کے سربراہ سے بجا طور پر ہوسکتی ہے لیکن فوج حکومت اور ریاست کے ماتحت ادارہ ہے اور یہ ہر وہ حکم بجالاتا ہے جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لے دے کر فوج ہی ایک ایسا ادارہ جو ابھی تک اپنے مینڈیٹ کے مطابق نہ صرف خود درست کام کر رہا ہے بلکہ دیگر تمام اداروں کا دست و بازو بنا ہوا ہے سیلاب ہو انتخابات ہوں کوئی قدرتی یا غیر قدرتی آفت ہو گھوسٹ اسکول ہوں واپڈا ہو اندرونی امن و امان کی صورتحال نہروں کی کھدائی ہو یا دشوار گزارسڑکوں کی تعمیر ہو موٹر وے کا انتظام و انصرام حالانکہ اصولا یہ فوج کے کام نہیں ہیں اور آج کے حالات میں جب ہم نے سی پیک جیساعظیم منصوبہ شروع کیاجس سے انڈیا کو اپنی موت مغربی یورپ کو ہاتھوں سے نکلتا گاہک امریکہ کے خطے میں مفادات کا ضیاع اسرائیل کی سیادت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں دنیا کی 54 ایجنسیاں ریاست پاکستان سے بر سر پیکار ہیں اپنے پرائے سبھی اس کار شر میں شامل ہیں دوسری جانب وہ تمام عناصر جو تاریخی طور پر ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو قیام پاکستان کے شدید مخالف تھے اور قائداعظم کو کافر اعظم قراردیتے تھے لیکن جب پاکستان بن گیا تو یہ لوگ اپنے ناپسندیدہ ملک آ براجے اور پرانی شراب نئی بوتلوں ڈال کر حب وطن کے چورن کے ساتھ بیچنے لگ گئے خاندان کے خاندان اقتدار میں آجانے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے سرکاری حلوے مانڈے وزارتیں مشاورتین چیر مینیاں اورصدارتیں بھی خوئے خباثت نہیں بدل سکیں آج جب ان کے مطابق اپنی خباثت اور اپنے مربیوں کیایجنڈے پر عمل درامد کے لئے حالات سازگارلگنے لگے تو کوئی پارلیمنٹ میں متحرک ہے تو کوئی کسی غدار وطن کی برسی پر اندر کی غلاظت باہر لے آتا ہے کسی کو فاٹا کے عوام کا غم کھائے جارہا ہے کسی کو الگ صوبہ چاہئے لگتا ہے یہ خطہ ان کے ابا جی سسرال سے تحفہ میں لے آئے تھے اگر کل ملا کر پڑھا جائے یہ کسی کی آشیرواد سے متحرک ہو چکے ہیں بظاہر دو انتہاؤں کے موقف رکھنے والے دینی اور بے دینی اپنے پرکھوں کی آتما کی شانتی کی خاطر پھر سے اکٹھے ہوگئے ہیں اور ہدف وہی جو ان کے پرکھ انہیں دے گئے تھے لیکن وہ بھول رہے ہیں تو یاد دہانی کروادیں کہ یہ ملک پاکستان بے شمار قربانیوں اور آپ کے پرکھوں کی مخالفت کے باوجود بن گیا ہے تو اللہ کے نام پر بننے والا ملک تا ابد قائم رہنے کے لئے بنا ہے آپ کی درفنطنیاں محض میاں صاحب کی ذات کی مرہون منت ہیں آپ کی حیثیت کل بھی صفر تھی آج بھی صفر اور کل بھی صفر ہی رہے گی حلوے مانڈے تمتع فرمائیے نہ جانے کب تک اللہ منہ کالا فرمائے ان کا جو جس ڈال پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹنے کی کوشش میں ہیں اللہ انہین دنیا اور اخرت میں رسوا کرے گا اللہ اس وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے آمین۔
****