- الإعلانات -

میاں صاحب ” ہم آپکو نہیں چھوڑیں گے”

لاہور ، گوجرانوالہ ، قصور، پاکپتن ، ہری پور، مانگا منڈی اور بہت سے دیگر شہروں میں مقیم نامہ نگاروں سے موصول ہونے والی ایک ہی قسم کی خبروں کو یکجا کرتے ہوئے انکی ڈیٹ لائنز کے ساتھ ایک بڑی سرخی کی شکل میں شائع ہونے والی خبر کا لب لباب یہ ہے کہ شدید سردی کے اس موسم کے باوجود لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کا نعرہ لگا کر حکومت میں آنے والے نیک نام حکمرانوں کے دورمیں دس سے بارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے کاروبار ٹھپ صنعتی سرگرمیوں کو صفر اور گھریلو معاملات کو شدید متاثر کر دیا ہے جبکہ خبر میں ایک بڑے اہم معاملے بلکہ محکمانہ ڈکیتی کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ محکمہ واپڈا نے لاہور ، گوجرانوالہ، سرگودھا، راولپنڈی اور دیگر واپڈا ڈویژنوں میں اچھے بھلے کام کرتے بجلی کے میٹروں کو ڈیفیکٹو قرار دے کر گزشتہ کئی ماہ سے ان غریب مظلوم بے بس و بے کس بلکہ لا وارث صارفین کی جیبوں پر ڈاکے ڈال کر ہر ماہ مجموعی طور پر ایک ارب روپے بڑی کامیابی سے وصول کر رہے ہیں جبکہ بجلی و پانی کے وزیر صارفین کیساتھ ہونے والی اس ڈکیتی پر خاموش تماشائی بنے چھوٹے بڑے جلسوں میں اپنی پارسائی کا رونا رونے میں مصروف ہیں اور اسی لیے شاید تحریک انصاف کے عمران خان اس اپنی قسم کی واحد جمہوریت کو بادشاہت قرار دینے میں حق بجانب نظر آتے ہیں یہ تو واپڈا اور حکمرانوں کی کار کردگی اور لا وارث صارفین بجلی کی لاوارثگی ہے جبکہ ایک اور خبر میں حکمرانوں کو یہ بتانے بلکہ یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ موسم سرما کے شروع ہونے کے ساتھ ہی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے غریب عوام کے گھروں میں چولہے بجھا دیئے ہیں اور اس سلسلے میں پہلے گھریلو خواتین توے ، پراتیں، چکنے بیلنے اٹھا کر مظاہرہ کر رہی تھیں اب بچوں نے بھی جلوس نکال کر احتجاج شروع کر دیا ہے مگر قطری شہزادوں کی شکار گاہیں آباد کرنے اور اپنی آف شور کمپنیوں کیلئے سرمایہ فراہم کرنے کی دوڑ میں مصروف ہر دلعزیز حکمرانوں کو عوام کی بے بسی پر ترس کھانے کی فرصت نہیں اور ملکی حالات اور سیاسی کمالات حکمرانوں کو اس بات کی پوری آزادی دے رہے ہیں کہ لگے رہو بھائی بھائی کوئی پوچھنے والا نہیں پوچھنے والوں کا ذکر آیا تو وہ بھی سن لیں کہ 27دسمبر بی بی شہید کی برسی تھی اور زرداری بادشاہ برسی سے چند روز قبل ڈیڑھ سال کی خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچے انکی انٹری کو دھماکے دار بنانے اور محکموں کو سمجھانے کیلئے استقبال میں سارے رنگ بھرے گئے اور ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے 27دسمبر کو زرداری صاحب بڑا اعلان اورخوشخبری دیں گے برسی کا جلسہ ہوا خوشخبریاں دو ہی تھیں ایک تو یہ کہ زرداری فاروق لغاری بننے والی راہ پر چلتے ہوئے انتخاب لڑیں گے اور چھوٹے زرداری بھی پارلیمنٹ جانے کیلئے انتخاب لڑیں گے جبکہ دوسری خوشخبری حکمرانوں کیلئے تھی کہ میاں صاحب ہم آپکو ” نہیں چھوڑیں گے ” خوشخبری میں جو پیغام تھا وہ بریکٹوں میں بند ہے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ اس کا مطلب کیا ہے اگر نہیں معلوم تو غور کریں سمجھ آ جائے گی ۔ باقی رہی بات اپوزیشن کی تو بلا شبہ 27دسمبر کی تقریب کے بعد سمجھ یہی آ رہی ہے کہ اپوزیشن صرف عمران خان ہے اور وہ بیچارہ اکیلا ہی لڑے گا ۔ جبکہ اپوزیشن کے نام پر اپوزیشن کو بدنام کرنے والے نعرہ لگائیں گے کہ عمران خان کو سولوفلائٹ کا خبط سوار ہے ۔ بہر حال حکمرانوں کو پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں انہیں اپنا کام جاری رکھنا چاہئے بلکہ 2018کے انتخابات کے بعد بھی کامیابی سے جاری رکھنا ہو گا عوام جائیں بھاڑ میں انہیں بجلی وگیس کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ مہنگائی ، بیکاری ، بیروزگاری ،غربت ، جہالت کے سمندر میں غوطے لگانے کا اب عادی ہو جانا چاہئے شاید یہی انکا مقدر ہے ہم انہیں ملکی حالات اس کا اشارہ دے رہے ہیں ۔

مسیحائی۔۔۔؟۔۔۔ شوق موسوی
تین گھنٹے وہ ہسپتال میں تھی
اس نے کب جانِ نا گہاں دے دی
بسترِ مرگ بھی اسے نہ ملا
فرش پر لیٹے لیٹے جان دے دی