- الإعلانات -

یومِ حق خود ارادیت کشمیر اور ۔ ۔ ۔ !

پانچ جنوری کو دنیا بھر میں یومِ ’’ حق خود ارادیت‘‘ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے کیونکہ 1949 میں اسی دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے استصواب رائے کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔ اس سے پہلے اگست 1948 میں بھی اسی ضمن میں ایک قرار داد منظور کی جا چکی تھی ۔ اسی تناظر میں ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اگر عالمی برادری کی موثر قوتیں اور بھارتی حکمران تعمیری روش کا مظاہرہ کریں تو مستقبل قریب میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق نکالا جا سکتا ہے ۔یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مودی نے اپنی حلف وفاداری کی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان کو مدعو کر کے ساری دنیا کو کسی حد تک چونکا دیا تھا اور پاکستان کی جانب سے بھی بہت سے تحفظات کے باوجود اس پیش رفت کا مثبت جواب دیا گیا تھا مگر اس کے فوراً بعد مودی سرکار نے پچیس اگست 2014 کو طے شدہ خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کو یک طرفہ طور پر جس طرح منسوخ کیا اس سے دہلی کے عزائم بڑی حد تک واضح ہو گئے تھے ۔ اور پھر اپنے اقتدار کے ابتدائی چھ ماہ میں LOC اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیز گولہ باری کو جاری رکھ کر بھارت نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ۔ یہ ایک الگ امر ہے کہ اپنی اسی پالیسی کے نتیجے میں مودی مہاراشٹر ، ہریانہ ، جھارکھنڈ اور مقبوضہ کشمیر کے صوبائی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہو گئے مگر شاید وہ بھول گئے تھے کہ ا نہوں نے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی محض پاکستان دشمنی کے ایجنڈے پر حاصل نہیں کی تھی بلکہ بھارتی عوام سے اقتصادی خوشحالی کے وعدے پر وہ کامیاب ہوئے تھے جس میں وہ کوئی پیش رفت نہ کر پائے تو دس فروری 2015 کو دہلی کی اسمبلی کے انتخابی نتائج نے BJP سرکار کو ہلا کر رکھ دیا ۔ جب 70 میں سے 67 سیٹیں وہاں کی علاقائی جماعت ’’ عام آدمی پارٹی ‘‘ کے حصے میں آئیں مگر تب بھی مودی غالباً بھارتی عوام کے موڈ کو سمجھنے میں بڑی حد تک ناکام رہے اور انھوں نے اپنی ساری توانائی بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے پر صرف کرنے کو ترجیح دی ۔ مگر جب آٹھ نومبر کو بہار اسمبلی کے انتخابی نتائج میں 243 میں سے صرف 52 سیٹیں BJP کے حصے میں آئیں اور 178 پر علاقائی جماعتوں RJD اور JDU جیت گئیں مگر تب بھی انھیں خطرے کا احساس نہیں ہوا ا کہ شکست کا یہی سلسلہ جاری رہا تو BJP بھارتی داخلی سیاست میں عبرت کا نشان بن کر رہ جائے گی ۔ اس کے بعد 8 جولائی کو برہان وانی کی شہادت کے بعد سے جس طرح بھارت نے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و سفاکیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور پیلٹ گنوں کے استعمال سے جس بڑے پیمانے پر کشمیریوں سے ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کے ضمن میں مودی نے جس طرح کی اشتعال انگیزی پر مبنی روش روا رکھی ہے وہ بھی بھارتی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ ایسے میں یومِ حقِ خود ارادیت مناتے ہوئے امید کی جانی چاہیے کہ عالمی رائے عامہ اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں پر عمل کرانے پر سنجیدگی سے توجہ دے گی وگرنہ دنیا کا یہ خطہ عدم استحکام سے دو چار رہے گا ۔