- الإعلانات -

نیشنل ایکشن پلان قومی سلامتی کیلئے انتہائی ضروری ہے

وزیر اعظم محمد نوازشریف نے میں خارجہ پالیسی کے متعلق اجلاس میں پاکستان کے پڑوسی ممالک اور سٹرٹیجک پارٹنرز کے ساتھ تعلقات کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ملکی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان قومی سلامتی کیلئے انتہائی ضروری ہے ، ہم اس منصوبے کی ایک ایک شق پر من و عن عمل کر رہے ہیں اور اسی منصوبے کی وجہ سے ملک میں قیام امن کو ممکن بنایا جا سکا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پاکستان پر غیرمعمولی انسانی‘ طبعی قربانیوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور انہیں عالمی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ بقول وزیر اعظم پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور ان کے ساتھ باہمی طور پر مفید مضبوط تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔ پرامن بقائے باہمی احترام اور معاشی طور پر مربوط خطہ ہم سب کا مشترکہ مقصد ہونا چاہئے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم امن‘ ترقی اور خوشحالی کے احساسات کے ساتھ ٹھوس وابستگی ظاہر کریں۔
دہشت گردی کیخلاف مسلح افواج نے بے مثال قربانیاں دیں جسے پوری دنیا نے سراہا۔ پاکستان خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔ تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر مضبوط معاشی و باہمی تعلقات ہماری ترجیح ہے۔ خطے کے تمام ممالک کو اس مقصد کے حصول کے لئے ملکر کاوشیں کرنا ہوں گی اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم امن‘ ترقی اور خوشحالی کو اپنی ترجیح بنائیں گے۔قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دہشتگردی جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔ نیشنل ایکشن پلان دہشتگردی کے خاتمے کا روڈ میپ ہے۔ بلا تفریق من وعن عمل ہو رہا ہے۔اجلاس میں ملک بھر میں کومبنگ اپریشن مزید تیز کرنے اور صوبائی ایپکس کمیٹی کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس کے فیصلہ کے تحت سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کو مزید اختیارات دیئے جائینگے جس کے تحت سکیورٹی فورسز ملک بھر میں کہیں بھی بغیراجازت کے چھاپے مار سکیں گی۔ اجلاس میں تحفظ پاکستان بل میں مزید توسیع اور ترامیم کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ ملک بھر کے مدارس کی رجسٹریشن اور انکی اصلاحات کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کیلئے علماء کرام کو اعتماد میں لیا جائیگا۔
پاک چین اقتصادی راہداری علاقائی رابطہ اور مشترکہ خوشحالی کی مقصد کے لئے سنگ میل ہے۔ سی پیک خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری ہمارے لئے خطے کو جوڑنے کا وسیلہ ہے۔سی پیک کے تحت چاروں صوبوں میں کام جاری ہے۔2013کے مقابلے میں پاکستان معاشی طورپرآج زیادہ مضبوط اور محفوظ ہے۔(ن) لیگ کی حکومت نے ملک کو معاشی طور پر بھی درست سمت میں ڈال دیا ہے اور ملک معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے۔ سی پیک کا منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے ایک گیم چینجر ہے چین کا46ارب ڈالرز سے زائد کا یہ منصوبہ پاکستان سے بھی دوستی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود سی پیک کے تحت چاروں صوبوں میں جاری منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہوں سی پیک کے تحت گودار سی پورٹ اور اےئر پورٹ بھی بن رہا ہے اور اس سے پاکستان کی بھی قسمت بد ل جا ئیگی اور اس سے ترقی کی نئی راہیں کھولیں گی۔
دہشت گردی کی جنگ میں قوم کے علاوہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بھی بلاشبہ بے بہا قربانیاں دی ہیں اس لئے ان قربانیوں کو ضائع نہیں جانے دینا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشیدشاہ اور پی ٹی آئی کے مخدوم شاہ محمود قریشی نے دہشت گردی کے تدارک کے مؤثر اقدامات اٹھانے کیلئے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا تقاضا کیا ہے۔ بے شک یہ کام بھی کرلیا جائے مگر اب خالی خولی نعروں اور زبانی جمع خرچ سے قوم کو مزید مایوس نہ کیا جائے۔ آج ضرورت ایک عزم کے ساتھ ٹھوس قدم اٹھانے اور نیشنل ایکشن پلان کو پوری فعالیت کے ساتھ عملی جامہ پہنانے کی ہے۔ اب محض گفتند‘ نشستند‘ برخاستند سے کام نہیں چلے گا۔