- الإعلانات -

موجودہ سیاست اور عبادت

سندھ تک محدود ایک وفاقی پارٹی کے ایک رہنما ٹی وی شو میں بیٹھے فرمارہے تھے سیاست عبادت ہے اور ہم عبادت کر رہے ہیں یہ سن کر ہمارا آج تک تھوڑا بہت پڑھ لکھ جانا بھی ہیچ نظر آیا ہم بڑی دیر تک لفظ عبادت اور اس کے اس کے مفہوم پر غور کرتے اور موجودہ ملکی سیاست کا عبادت سے تعلق تلاش کرتے رہے کہ یہ صاحب جو علم و آگہی کے دریا بہا رہے ہیں لگتا ہے کہ یہ زہد کے کسی اعلی مقام پر فائز ہیں۔ سچی بات ہے ہمارے ناقص علم میں یہ نہیں تھا سبحان اللہ یعنی آج جو کچھ سندھ میں ہورہا ہے اور سندھیوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ عبادت ہے یہ کیسی عبادت ہے کہ عبادت زدہ غریب کے تن پر کپڑے تک نہیں جوتی تو دور کی بات ہے۔ عبادت زدگان ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں اس عبادت کے مارے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لئے نوکریوں کی تلاش میں سڑکوں پر جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں مزدور ہیں مزدوری نہیں سڑکوں پر گٹر ابل رہے ہیں گندا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔ گٹر ملا پینے کا پانی لوگوں کو مہیا کیا جا رہا ہے جس سے پورا معاشرہ بیماریوں جکڑ میں آیا لگتا ہے عبادت کا یہ ماڈل پولیس میں بھی خاصہ مقبول ہے اس کا اندازہ اور مشاہدہ تو پولیس سے واسطہ پڑنے پر ہی کیا جا سکتا ہے کہ وہ کیسے تہجد گزار ہیں اور کیسی کیسی صلواتیں پڑھاتے ہیں اس عبادت سے کراچی واٹر بورڈ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی پوری طرح متمتع ہے فشری کے محکمے نے بھی اس ضمن میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی وہ بھی بڑے زہد و تقویٰ والے ہیں ایک بڑے امام کینیڈا میں بیٹھ کراچی میں ہونے والی عبادت کی ریموٹ کنٹرول سے امامت فرمارہے ہیں اور ان کوتو آج بھی ہرے ہرے نوٹوں کی صورت میں ثواب پہنچایا جا رہا ہے لمبی چھٹی پر گئے وزیر اطلاعات بھی اس نوع کی عبادت میں پیچھے نہیں رہے اپنی ڈھب کی عبادت گاہ سے نکلتے ہوئے کسی دل جلے کی جانب سے ان کی عزت افزائی کی ویڈیو آج بھی یو ٹیوب پر موجود ہے وہ بھی خاصے بڑے امام ثابت ہوئے ہیں ہم بڑی دیر تک لفظ عبادت اور اس کے اس کے مفہوم میں غوطہ زن ہوکر مفاہیم تلاش کرنے نکلے تو سوائے چند چھینکوں کے کچھ نہ پایا موجودہ ملکی سیاست کا عبادت سے تعلق تلاش کرتے رہے پھر سوچا کہ اگر عام عابد کے ثقہ بند عابد ہونے کا یہ مقام ہے تو بڑے امام کس درجے پر فائز ہوں گے جو پچھلے اٹھارہ ماہ سے ملکوں ملک گھومتے ہوئے چلے کاٹتے پھرے اور ہیلری کلنٹن تک کو آداب درویشی سے آگاہی کے محاضرے دیتے پھرے کہ شکست کی صورت میں موصوفہ تزکیہ نفس کے گر جان سکیں جو صدمات برداشت کرنے کی سکت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور جیسے ایک جنگل میں ایک ہی شیر ہوتا ہے اور دوسرا شیر جو سب پر بھاری بھی کہلاتا ہے اسی اصول کے احترام میں 18 ماہ تک جنگل واپس نہیں آیا جیسے ہی پہلے شیر نے بن چھوڑا دوسرے نے آنے میں دیر نہیں لگائی کہ بادشاہت یا ریاضت کی گدی خالی نہیں چھوڑی جاتی ویسے بھی لوگوں کے بقول وہ بھی بہت بڑے امام بلکہ اماموں کے امام ہیں اور مستند طور پر اپنی گدی کے سب سے بڑے اور ثقہ بند امام ہیں اور ان کے بقول بڑے بڑے جغادری ان کی بیعت کر چکے ہیں اس بات کی ہم بھی تصدیق کر سکتے ہیں کہ جن لیڈروں کی زندگیاں سیاست کی نذر ہو گئیں انہیں ایک نوجوان کے سامنے طفل مکتب بنا کے بٹھا دیا گیا ہے ہم چونکہ نہ عالم ہیں نہ زاہد اور سوچتے رہے کہ یہ کیسی عبادت ہے اور کس کی عبادت؟ مسلمان تو ایک ہی معبود کی عبادت کرتا ہے کیا غبن، لوٹ مار،سرکاری ٹھیکوں میں کمیشن بھی عبادت ہے کیا 100 کا مال ہزار میں خرید کر ریاست کو 900 کا چونا لگانا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے ملک میں بننے والی بکتر بند گاڑیاں جو بلاشبہ دنیا کی بہترین اور مضبوط ترین گاڑیوں میں سے ایک ہیں اور قیمت ایک تہائی اس سے تین گنا سے بھی زیادہ قیمت میں غیر ملکی گاڑیاں خریدنا اور اس پر متعلقہ اداروں کے شدید مالی اور فنی تحفظات کے باوجود انہیں گاڑیوں کے خریدنے پر اصرار بھی کیا عبودیت کے تقاضوں کے ہم آہنگ ہے پھر تو سستے تندور کے معاملات بھی عین عبادت ہی شمار ہوں گے کہ چلو اس میں کچھ لوگوں کو سستی روٹی ملی نندی پور میں بھی اسی عبادت و ریاضت کے معاملات کارفرما نظر آتے ہیں اس عبادت کی مشق نے قوم کو صرف 450 ارب کا ٹیکہ لگایا سنتے ہیں کہ میٹرو بس منصوبے میں اسی زہد و تقویٰ کی جلوہ فرمائیاں کارفرما رہیں بلکہ پنڈی میٹرو کے منصوبے میں تو کمال ہی ہو گیا جہاں یہ عبادت گزاری زہد کی منزلوں سے کہیں اوپر چلی گئی ہے اور اس میں سب سے بڑے متقی تو صاحب اتقان عباسی صاحب بھی ٹھہریں گے جن کو امامت بھی ان کے بڑے امام کی جانب سے تفویض کی گئی گو ہمارے کنوارے شیخ صاحب کی اٹھکیلیاں ماضی میں جاری رہا کرتی تھیں یوں پردہ اخفا کی باتیں خلوت سے نکل کر جلوت میں آجاتیں اور لوگوں کو علوم حاضرہ سے خاصہ افاقہ ہوتا لیکن آج کل ان کا ہتھ ذراہولا ہی ہے اور ان کی عبادت گزاری کی ذرا سی تحقیق و تفتیش ہوئی وظیفوں اور چلوں کی وہ وہ پرتیں کھولیں گی یہاں بیٹھے لوگ یا جنگلوں میں ہونگے یا جیلوں میں ایسا ماہرین فن کہتے ہیں اور ہمارا ان سے اتفاق ضروری بھی نہیں ہے ہمارے لیڈر حضرات جس کو عبادت کہتے ہیں دنیا اس کو کسی اور نام سے پکارتی ہے یہ بے ثبات دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں اور جو نظر آ رہا ہے اسے قرآن کریم” متاع الغرور” یعنی یا دھوکے کا سامان کہتا ہے پتہ نہیں ہم ان اہل و عیال کی خاطر اپنی قبریں بھاری کر رہے ہیں جن سے شاید بعد از مرگ ایک فاتحہ کی امید بھی نہ ہو ۔کیونکہ یہ دور ہی نفسا نفسی کا ہے جس کے مظاہر ہمیں جگہ جگہ نظر آتے ہیں کبھی ضعیف والدین گھر میں باعث برکت سمجھے جاتے تھے آج بوجھ سمجھے جاتے ہیں تبھی تو اولڈ ایج ہوم بڑھتے جا رہے ہیں قرآن مجید کہتا ہے ” آنکھوں والو عبرت پکڑو” اللہ ہمیں حرام و حلال میں تمیز حق اور نا حق کی پہچان کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔

دیوار۔۔۔۔۔شوکت کاظمی
قیمت کو نہیں شوقِ خریدار کو دیکھو
خواہش کو نہیں ذوقِ طلب گار کو دیکھو
سستانے کو دو پل کیلئے بیٹھ گئے ہو
سائے کو نہیں حالتِ دیوار کو دیکھو