- الإعلانات -

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟

قسمت بیگ کی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ خوبصورت تھی اسکی دوسری بد قسمتی یہ تھی کہ وہ ایک گمنام خاندان سے تھی اسکی تیسری بد قسمتی یہ تھی وہ ابھی غریب تھی اور اتنی زیادہ امیر نہیں ہوئی تھی کہ امیروں والے تمام تحفظات بولٹ پروف گاڑی تجربہ کار محافظ اور وہ تمام حفاظتی سہولیات رکھتی کہ جن کے ہوتے ہوئے کوئی ایرا غیرا اس تک نہ پہنچ سکتا اس کی چوتھی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ اس دیس میں پیدا ہوئی تھی جہاں حکمرانوں کی ترجیحات میں فنکاروں کا مکمل تحفظ شامل نہیں اس کی پانچویں بد قسمتی یہ تھی کہ وہ خطرات کا اداراک نہیں رکھتی تھی اسکی چھٹی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ اس معاشرے میں فنکاری کر رہی تھی جہاں چاہنے والے یا تماش بین اپنی سفلی خواہشات میں ناکامی پر انتقام لینے اور قصائی بن جانے میں دیر نہیں لگاتے قسمت بیگ کی بد قسمتیاں تواس قدر زیادہ تھیں کہ شمار نہیں ہو سکتیں بس اتنا کافی ہے کہ اس کی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ صوبائی دار الحکومت لاہور میں دن دیہاڑے سر عام ایک محفوظ سڑک پر واری گئی اور اب وہ بیچاری منوں مٹی کے نیچے پڑی سوچ رہی ہے کہ اس شہر نا پرساں میں جہاں قدم قدم پر ناقے اور گلی گلی میں پہرے اور ہر چوک میں کیمرے لگے ہیں اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہوا یہ تو قسمت بیگ تھی اس سے پہلے ماڈل قندیل بلوچ کے ساتھ بھی تو یہی کچھ ہوا تھا اور آج اُس کی کہانی پر بھی دھول جم چکی ہے کون اس کی فائل کھولے گا کون اسکے مقدمے کی پیروی کرے گا اور کون ملزموں کو مجرم کے درجے پر لا کر انہیں سزا دلوائے گا یہ ہمارا معاشرہ ہے یہاں ایسی پتہ نہیں کتنی قسمت بیگیں اور کتنی قندیل بلوچیں روز جیتی اور روز مرتی ہیں اور جو بچ جاتی ہیں انیں ایان علی بنا دیا جاتا ہے جو دوسرون کے جرم میں کبھی جیل کبھی کچہری کبھی تفتیشی افسر کے کمرے اور کبھی کسی اور در پر ذلیل و رسوا ہوتی لا تعداد کہی اور ان کہی اچھی بری کہانیوں کو جنم دیتی سوچ رہی ہوتی ہے کہ یہ کیسا ملک اور معاشرہ ہے یہاں کون سان قانون اور کیسے ضابطے ہیں کہ تفتیش کاروں سے لیکر قاضی تک اور محکموں سے لیکر حکمرانوں تک سبھی کو حقیقت کا علم ہونے کے باوجود سب کے سب بے بس ہیں اور اپنی بے بسی پر پردہ ڈالنے اور اصل مجرموں تک رسائی پانے کی بجائے ایک بے بس اور مظلوم کی آڑ میں معاہدے طے کرنے اور اپنی کرسیاں بچانے میں لگے ہوئے ہیں بات صرف قسمت بیگ ، قندیل بلوچ یا ایان علی تک ہی محدود نہیں لگتا ہے کہ ہم ایک گونگے بہرے ، سفاک بلکہ قصائی معاشرے میں زندگیاں گزار رہے ہیں جہاں طاقتور اور کمزور دو طرح کے لوگ رہتے ہیں اور طاقتور طاقت کے زور پر جو چاہے کرے اسے کوئی پوچھنے والانہیں ہوتا اور کمزور کا جرم یہ ہوتا ہے کہ وہ چونکہ کمزور ہے لہٰذا اس کی جرم کمزوری ہی اس کے لیے سب سے بڑا جرم قرار پاتی ہے اور تو اور یہی کوئی ایک ماہ قبل ممبران پارلیمنٹ کے ہوسٹل چمبہ ہاؤس میں ایک ممبر قومی اسمبلی کے نام پر الاٹ کمرے میں بر سراقتدار پارٹی مسلم لیگ ن کی بہت خوبصورت ہر دلعزیز متحرک کارکن سمعیہ چوہدری پر اسرار طور پر جاں بحق ہوئی تھی سمیعہ چوہدری کو اکثر پارلیمنٹ گیلری ، لاؤنج اور ار د گرد دیکھا جاتا تھا سکی کئی ممبران پارلیمنٹ اور با اثر لوگوں تک رسائی تھی سمعیہ چوہدری کی سیاسی قوت کا اندازہ لگانے کیلئے کافی ہے کہ وہ ممبران پارلیمینٹ کے ہوسٹل میں مقیم ہوئی تھی جہاں کسی عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں جس ممبر پارلیمینٹ کے کمرے میں وہ رہتی تھی سمعیہ کے موت کے بعد اس نے سمعیہ سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سمعیہ نام کی کس عورت کو جانتا تک نہیں تو تین روز سمعیہ کی موت اخبارات اور ٹیلی ویژن کی خبروں کا عنوان رہی اور پھر اس کی فائل پر بھی دھول جم گئی اور بڑی کوشش کے بعد میں نے جومعلومات حاصل کیں ان میں محض اس قدر بتایا گیا ہے کہ سمیعہ کے نرخرے نیل ، پھیپھڑوں پر سیاہ دھبے پائے گئے ہیں اور موت کی وجہ کا تعین فرانزک سائنس ایجنسی اور کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا یہ کب آئیں گی، آئیں گی بھی یا نہیں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا بس اتنا کافی ہے کہ سمعیہ چوہدری مر گی و ہ قتل ہوئی یا نہیں اس کی موت بلکہ پر اسرار موت کا راز بھی پر اسرار ہی رہے گا اور یہ پر اسراریت بڑ ی ظالم ہے۔ پتہ نہیں کیوں یہ ہم جیسے ممالک میں ہی رہتی ہے ترقی یافتہ ممالک میں کیوں نہیں ملتی اس پر اسراریت کا پر اسرار راز معلوم کرنے کیلئے میرے کالم کا حجم نا کافی ہے میں اس کالم کا کیا عنوان رکھوں ؟
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
یاپھر
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نگاہ ڈالی