- الإعلانات -

عمرانی ٹیم کا انتخاب

پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی موجودہ سیاسی جماعتوں سے عمر میں سب سے چھوٹی جماعت ہے مگر جماعت کے سربراہ ملک کی تمام جماعتوں کے سربراہوں سے قدر و منزلت کے حوالے سے سب سے زیادہ ہر دل عزیز مشہور اورعوام میں مقبول ہیں ۔ تحریک انصاف کے قائد نے ملک میں پھیلی کرپشن بددیانتی لاقانونیت اقرباپروری لوٹ کھسوٹ اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرکے میدان سیاست میں بھونچال برپا کررکھا ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد کی کھری کھری باتوں سے پاکستان کاہر شہری متاثر ہوا ہے ۔ اور ہر فرد قائد تحریک پر اعتماد کرنے لگا ہے ۔ لاقانونیت ، ناانصافی کرپشن سے ملک کا ہر شہری پریشان ہونے کی وجہ سے کسی مصلح و قائد کی تلاش میں تھا۔ عمران خان نے سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی تو اسے غیر سیاسی اور سخت گیر قرار دیکر اکثر سیاسی جماعتوں نے ان کا مذاق اڑایا ۔ مگر عمران خان نے غیر سیاسی ہوتے ہوئے اپنا مشن جاری رکھا اور میانوالی سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو کر میدانِ سیاست میں باضابطہ قدم رکھا ۔ عمران خان کی جماعت ابھی تنظیمی میدان میں بھی کوری ہے ۔ اس جماعت میں تنظیم سازی پر بھی ابھی کوئی توجہ نہ دی گئی ہے ۔ بلکہ جماعت کے اندر عہدوں کے شوقین حضرات نے عہدوں کے لئے مقابلہ بازی شروع کررکھی ہے ۔ تاکہ اپنے حواریوں کو عہدوں پر فائز کرکے اپنے اپنے حلقہ میں مضبوط اور مستحکم ہوسکیں ۔ اس طرح تنظیم مستحکم نہیں ہوتی افراد طاقتور ہوتے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بھی ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے پارٹی کی رسہ کشی کی جنگ کو کنٹرول کرنے میں مناسب حکمت عملی سے کام لینے میں ناکام ثابت ہورہی ہے ۔ میانوالی پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی مدینہ ہے ۔ یہ حقیقی جائے پیدائش تحریک انصاف ہے ۔ عمران خان نے جو جنگ شروع کی ہے ۔ ملک کے 80 فیصد لوگ عمران خان کی تحریک سے متفق ہیں ۔ ہر فرد اور ہر شہری ملک کے اندر پھیلی خرابیوں سے پریشان ہے ۔ سوائے2 فیصد لوگوں کے جو بااختیار طبقہ کے عزیز و اقارب ہیں ۔ گویا طاقتور لوگوں کے علاوہ ہر شہری کسی نہ کسی طرح روزمرہ کے مسائل کا شکار ہے اور یہ مسائل رشوت کے بغیر چل نہیں سکتے ۔ سفارش بھی مسائل کے حل میں کام آتی ہے ۔ مگر سفارش ہر کسی کے پاس ہوتی نہیں ۔ جس کے پاس سفارش ہوتی ہے وہ بھی ہمیشہ کام نہیں آتی ۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کا ہر فرد پریشان ہے ۔ رشوت اس طرح عام ہوچکی ہے کہ سننے میں آیا ہے کہ بڑے بڑے تگڑے لوگ بھی رشوت دے کر کام چلاتگے ہیں ۔ گویا رشوت غلط العام ہوگئی ہے ۔ اسی بیماری نے قوم کے ہر فرد کو ذلیل و خوار کررکھا ہے اور عمران خان واحد سٹار ہیں جو رشوت اور کرپشن کے خلاف صفاآرا ہونے کا اعلان کرچکے ہیںَ پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ اقتدار کے مزے بار بار لوٹ چکے ہیں ۔ دونوں سیاسی جماعتیں کرپشن اور رشوت کے خاتمے کے لئے کوئی ٹھوس عملی اختیار نہ کرسکی ہیں اور نہ ہی ان جرائم پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکی ہیں ۔ اسلئے عوام ان بیماریوں کے علاج کیلئے ان دونوں جماعتوں کو اہل نہیں سمجھتے ہیں ۔عمران خان کی تحریک انصاف ملکی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرنے کے اہل ہوسکتی ہے ۔ قوم کا بچہ بچہ عمران خان کی کال پر لبیک کہنے کو تیار ہے ۔ بچے جوان بوڑھے خواتین عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں ۔ عمران خان کو اچھی عوام دوست ملک محافظ اور انسان دوست ٹیم کی ضرورت ہے ۔ جو تنظیم سازی کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین، محمود الرشید ،پرویزخٹک ، علیم خان گروپوں کو ختم کرکے پاکستان تحریک انصاف کو منظم کرے ۔ جو جماعت میں گروہوں اور گروپوں کی سیاست کو دفن کرکے عوام دوست ، انسان دوست اور ملک دوست لوگوں کو آگے لائے ۔ جو دھڑوں اور مفاد پرست لوٹوں کی بجائے تحریک انصاف کی سیاست کرے تو عمران خان کی فتح کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ جب تک عمران خان اقتدار میں آکر اپنے منصوبے اور ملک کی تعمیر و کرپشن کے خاتمے کی مہم میں ناکام نہیں ہوتے اس ملک کے پریشان عوام عمران خان کی کال پر دھرنے دیتے رہیں گے اور عمرانی سمندر ملک کے اندر ٹھاٹھیں مار تا رہے گا۔ عمران خان کی کامیابی تک پاکستانی عوام عمران خان کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرتے رہیں گے ۔ ان حالات میں عمران خان کو اپنی صفوں میں گھسے مفاد پرست ٹولہ پر نظر رکھنی ہوگی ۔ جن کو اقتدار کے دنوں میں Watch کرنا پڑے گا۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ آنے والے دنوں میں ہر تحصیل ہر ضلع کا دورہ کرتے ہوئے ہر بڑے گھرانے کے نیک نام لوگوں کو اپنی جماعت میں شامل کرے ۔ ملک کے ہر طبقہ میں عمران خان کا جادو پورے جوبن پر ہے ۔ صرف عمران خان اور ان کی ٹیم کو خوبصورت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ قوم دنیا میں پاکستان کا نام باوقار دیکھنا چاہتی ہے اورقوم اس کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔