- الإعلانات -

عالمی برادری مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے کردار اداکر ے

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ اور شناخت ہے، جنت نظری وادی کو اس طرح جلتا نہیں دیکھ سکتے،کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے،بین الاقوامی اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کراتے رہیں گے، کشمیری جس بہادری اور عزم کے ساتھ قابض افواج کا جواں مردی سے مقابلہ کر رہے ہیں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کشمیری نوجوان کشمیر کی تاریخ میں نیا باب رقم کر رہے ہیں ، اپنے کشمیری بھائیوں کی ہر خوشی اور غم میں ان کے ساتھ شریک ہیں، ہم نے کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لے مختلف ممالک میں وفود بھیجے،کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اٹھایا، کشمیر کو اس طرح جلتا نہیں دیکھ سکتے اور حق اور سچ کی آواز گولیوں سے نہیں دبائی جا سکتی، دنیا جانتی ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور کون نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کرنا ہوگا ۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سیمینار کا بروقت انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے راہیں تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد نوجوانوں میں نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا۔ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ گزشتہ سال جنرل اسمبلی میں میں نے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا۔ کشمیر کو جلتا ہوا نہیں چھوڑا جاسکتا۔ استصواب رائے سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حقوق دیئے جاسکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر کا ہے۔ ستر سال سے جاری کشمیریوں کی جدوجہد کو طاقت سے نہیں دبایا جاسکتا۔ دنیا کشمیریوں میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ سیمینار مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ہمارے عزم کا عکاس ہے۔مسئلہ کشمیر کا حل گزشتہ سات دہائیوں سے زیر التواء ہے ۔بھارتی فوج کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ گزشتہ تین سال میں مسئلہ کشمیر پر درجنوں قراردادیں پیش کی گئیں ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی قوانین کو کالا قانون قرار دیا ہے۔ بھارت کشمیریوں کا قتل عام فوری بند کرے۔پاکستان کشمیری حق خود ارادیت کیلئے مسلسل جدوجہد کرتا رہے گا۔ بھارتی فوج کشمیریوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ سیمینار میں وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف‘ مشیر خارجہ سرتاج عزیز‘ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق‘ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب‘ آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا ہے کشمیر کو جلتا نہیں دیکھا جاسکتا بھارتی جارحیت سے دوطرفہ تعلقات خراب ہوتے جارہے ہیں ۔ بھارت اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کو دیدہ دانستہ نظر انداز کرتا چلا آرہا ہے جس سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہوتے جارہے ہیں۔ بھارت کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے عالمی برادری کو بھارتی جارحیت پر دم بخود نہیں رہنا چاہیے اورمسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک خطے کا امن قائم نہیں ہوسکتا ہے خطے میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے ادراک سے ہی ممکن ہے۔عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ پاک بھارت تنازعات کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا اس وقت تک خطے میں بدامنی کے سائے منڈلاتے رہیں گے ۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرایا جائے تاکہ پاک بھارت تعلقات خوشگوار قرار پائیں اور خطہ امن کا گہوارہ بن پائے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا کریک ڈاؤن
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستا ن نے ملک کے مختلف شہروں میں جعلی اور مضر صحت ادویات کی فروخت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے ڈریپ کی فیڈرل انسپکشن ٹیموں نے مختلف علاقوں اور ادویات ساز اداروں پر چھاپے مارے اور غیرقانونی ادویات کے گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے کئی میڈیکل سٹورز کو سیل کیا ۔ دکھی انسانیت کو موت کے سوداگروں کے منہ سے نکالنے کا یہ اقدام قابل تعریف ہے لیکن اس کے تسلسل کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے اس وقت ملک بھر میں جعلی ادویات کی بھرمار ہے اور گلی کوچوں میں بیٹھے عطائی ڈاکٹرز انسانیت کے دشمن موت بانٹتے پھر رہے ہیں اور انتظامیہ کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اس نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے تحصیل و ضلعی سطح کے محکمہ صحت کے افسران کی ملی بھگت سے یہ مکروہ دھندہ عروج پر ہے جعلی ادویات اور عطائی ڈاکٹرز کی روک تھام کیلئے موثر ترین اقدامات کی ضرورت ہے دو نمبر ادویات لوگوں کو موت کی وادی میں دھکیلنے کا باعث بن رہی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا کریک ڈاؤن وقتی نہیں ہونا چاہیے اس سلسلے کو جاری رکھا جائے تاکہ جعلی ادویات کی روک تھام کی جاسکے۔عطائی ڈاکٹروں اور جعلی ادویات ساز اداروں کو کھلی چھٹی دینا انسانیت کے خلاف سازش ہے جس کو ناکام بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جعلی ادویات ساز اداروں کی ان گھناؤنی سرگرمیوں کو روکے اور لوگوں کو موت کے منہ سے نکالے۔
بھارتی سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ مسترد
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی ہم منصب کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک کے من گھڑت دعوے اور آئندہ امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان کی مسلح افواج اس کا منہ توڑ جواب دیں گی۔ آرمی چیف نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کرنے اور ایسا دہرانے کے دعوے کو مسترد کردیا ۔ بھارتی فوج کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان کی مسلح افواج اس کا منہ توڑ جواب دیں گی۔مسلح افواج بھارتی جارحیت کا جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔بھارتی آرمی چیف یہ دعویٰ کرکے خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا بھارتی آرمی چیف خود کو دھوکہ دے رہے ہیں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ من گھڑت اور بے بنیاد ہے ۔ بھارت اس طرح کے دعوے کرکے حقائق کو نہیں چھپا سکتا ۔ پاک فوج دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ مکار دشمن یہ بات بخوبی جانتا ہے اس نے جارحیت کی غلطی کی تو پھر اس کو دندان شکن جواب ملے گا ۔ پاک فوج جذبہ حب الوطنی اور جذبہ شہادت سے سرشار ہے اور وہ سرحدوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی آرمی چیف کی دھمکیاں اور گیدڑ بھبکیاں پاک فوج کیلئے بے معنی ہیں ۔ پاک فوج وطن کے دفاع اور بیرونی سازش کو ناکام بنانے سے غافل نہیں ہے۔