- الإعلانات -

پاکستان کی ترقی بلوچستان کے استحکام اور ترقی میں پنہاں ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خضدار میں بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمنار سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ خطہ کی معیشت میں بلوچستان کے مرکزی کردار کی وجہ سے دشمن اس صوبہ میں بد امنی اور عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مخصوص جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ہمیں بیرونی چیلنجز درپیش ہیں جب کہ دشمن نے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر داخلی چیلنج پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن آج بلوچستان پہلے سے زیادہ مضبوط، مربوط اور بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ گوادر بندرگاہ، اس کو ملک سے منسلک کرنے کیلئے 870 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر اور چین، پاکستان معاشی راہداری منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہمارے قومی عزم کی دلیل ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت اور فوج مل کر بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے کوششیں کررہی ہے اور کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ ہماری پائیدار کوششوں کے نتیجہ میں آج بلوچستان کے لگ بھگ 20 ہزار سپوت فوج میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں جن میں 603 آفیسرز شامل ہیں جبکہ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں اس وقت 232 کیڈٹس بھی زیر تربیت ہیں ماضی میں بلوچستان میں فوج کی نمائندگی انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ یہ تعداد صرف فوج میں بلوچستان کے نوجوانوں کی ہے پاکستان ایئر فورس نیوی اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں بھی بلوچوں کی نمائندگی موجود ہے۔ وہ دن زیادہ دور نہیں کہ جب آپ میں سے ہی کوئی میری جگہ پر کھڑا ہو گا اور اس عظیم صوبے کے نوجوانوں سے بات کر رہا ہو گا۔ سڑک کے ذریعے صرف علاقے ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے بلکہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے ذریعے یہ لوگوں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور پاکستان کی ترقی بلوچستان کے استحکام اور ترقی میں پنہاں ہے۔ سی پیک کے تحت ترقیاتی منصوبوں کا نیٹ ورک بلوچستان کو ہماری قومی ترقی کی کوششوں کے قلب میں لے آئیگا۔ اقتصادی راہداری منصوبہ بلوچستان سمیت ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری پورے خطے کے لیے گیم چینجر ہے، جو عناصر اس منصوبے کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلارہے ہیں وہ نہ صرف اس منصوبے کے بلکہ بلوچستان کے عوام کے بھی دشمن ہیں۔گذشتہ دنوں بیجنگ میں مشترکہ تعاون کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان کے 12 اہم منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی جس کے بعد یہ پروپیگنڈہ زائل ہوجانا چاہیے کہ سی پیک صرف ایک صوبے کے لیے ہے اور بلوچستان کے لیے اس میں کچھ نہیں۔آرمی چیف نے تقریب میں شریک نوجوانوں کو بطور خاص مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا مستقبل ہیں۔ انہیں پاکستان کو اس مقام تک پہچانے کی کوششوں کی قیادت کرنی ہے جس کا وہ حق دار ہے، لہٰذا چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ موقعوں سے فائدہ اٹھائیں اور ہم سب کا سر فخر سے بلند کردیں۔ ہمارے دشمن طویل عرصہ سے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور حالات خراب رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، الحمدللہ ہم نے انکے عزائم کو شکست دی ہے۔ ہمیں معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے پورے خطے کو اور اس سے آگے کے علاقوں کوباہم منسلک کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا اور وعدہ ہے صوبے کے ہر علاقے کو ترقی دیں گے۔ خوشی ہے کہ بلوچستان کے نوجوان امن، ترقی اور خوشحال کی جانب گامزن ہیں۔ پہاڑوں پر جانے والوں میں سے بہت سے لوگ واپس آچکے ہیں اور امن اور عزت کی زندگی بسر کررہے ہیں جو لوگ ابھی بھی پہاڑوں پر موجود ہیں ہم انہیں ایک بار پھر سے قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ ماضی میں بدقسمتی سے بلوچستان کئی وجوہات کے بنا پر نظرانداز کیا جاتا رہا اب بلوچستان کو نظرانداز نہیں کیا جائیگا۔ آرمی چیف نے بھارتی ہم منصب کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک کے من گھڑت دعوے اور آئندہ امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان کی مسلح افواج منہ توڑ جواب دیں گی۔ بھارتی آرمی چیف یہ دعویٰ کرکے خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ضرورت پڑی تو پھر سرجیکل سٹرائیک کرینگے۔