- الإعلانات -

دین کا سکھانا ہماری اہم ذمہ داری

کیا ہمیں اندازہ ہے اور ہم نے کبھی غور کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں کیوں پیدا کیا اور ہماری دنیا میں آمد کامقصد کیا ہے اللہ تبارک تعالیٰ کا قرآن کریم کی سورہ الذاریات کی آیت 57 میں ارشاد مبارک ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا اللہ تمام مخلوق کا خالق اور پالنے والا ہے اور وہی قادر مطلق جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور جس نے ہمیں اپنی خاص حکمت سے پیدا کیا اور احسن تقویم کے اعلیٰ درجے پر فائزکردیا اور وہی ماوا و ملجا ہے اور "ہو جا اور ہوگیا” پر قادر ہے جس نے ہمیں اندھیرے کوٹھڑی یعنی ماں کے شکم میں ایک لوتھڑے کی شکل میں محفوظ فرمایا پھر ہڈیاں بنائیں ان پر گوشت چڑھایا ان انسان کو ایک صورت عطا کی اس کے بعد ہمیں شعور و عقل عطا کی اللہ نے دنیا میں اپنی عبادت کیلئے صرف جنوں اور انسانوں کو ہی منتخب فرمایا ہے اس کا مطلب باقی مخلوق پر انسان کا تصرف ہو جس میں چرند پرند اور دنیا میں موجود بحر و بر اور اس میں موجود مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کیلئے تخلیق کیا اور ان کو انسان کیلئے خوراک اوردیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے انسان کے تابع کیا انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کاشرف بخشا اور زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اس کو مصاحف بشمول قرآن مجید اور انبیاء کرام کے ذریعے شر اور خیر کی راہ بھی دکھلادی اور اعمال خیر اور تعلیمات الاہیہ کے مطابق زندگی گزارنے اور اللہ کی خوشنودی کیلئے اس کے احکامات پر مکمل عمل درآمد پر جنت میں دئے جانے والے انعامات اور نعمتوں کے بارے میں تفصیلا بتا دیا تو دوسری جانب اعمال شر اور اللہ کی نافرمانی کیلئے سزا کے طور پر دوزخ کی آگ میں جلائے جانے اور عذاب الیم کی خبر سنائی گئی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت ایک ماں کے اپنے بچے کیلئے محبت سے 70 گنا زیادہ ہے اللہ یکتا ہے اس جیسا کوئی نہیں اور نہ وہ کسی جیسا ہے اور وہ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اس کی کبریائی بیان کریں اس کی یکتائی اس کی شان بیان کریں اسی طرح اللہ نے ہمارے ذمے حقوق بھی رکھے ہیں اور فرائض بھی جس میں حقوق اللہ جو اس خالق و مالک نے اپنے لئے رکھے ہیں جن میں سر فہرست اللہ کی وحدانیت اور کبریائی کا اقرار حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کی رسالت کا اقرار اللہ کی ذات یا صفات میں کسی بھی اعتبار سے شریک نہ ٹھہرانا پھر نماز ہے جس کی کسی بھی صورت میں معافی نہیں اور ضروری ہے کہ اپنے وقت پر پڑھی جائے اسی لئے اسے صلات موقوت کہاگیا ہے اور اس کے تاخیر میں وعیدیں ہیں اور دیگر عبادات مثلا روزہ زکوات اور حج ہے ساتھ ہی حقوق العباد یعنی ایک بندے کے دوسرے بندے پر حقوق اور ذمہ داریاں عائد کی ہیں جس میں باہمی احترام تو ہے ہی اور باقی پورا معاملہ باہمی معاملات کا ہے کسی دوسرے انسان کا نا حق مال کھانا حرام قراردیا ہے۔ یتیموں اور بے واؤں کے مال کو آگ کہا گیا ہے کسی کی جائیداد کھیت کھلیان پر قبضہ اور ناجائز تصرف کو حرام قرار دیا گیا ہے ناپ تول میں کمی بیشی پر سخت پکڑکی وعید ہے ملاوٹ اور دھوکہ دہی کے مرتکب کو کہا گیا ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں ذخیرہ اندوزی کو بھی ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ سود کیخلاف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی جانب سے جنگ کا اعلان کیا گیا ہے ۔سورہ المائدہ کی آیت 90 میں شراب جوا قسمت کے حال جاننااور بتوں کی پوجا کو شیطانی عمل قرار دے دیاگیا اور فلاح پانے کیلئے اس سے اجتناب کو ضروری کہا گیا ہے لیکن آج کے دور میں کیا ہم دین کی روح کو سمجھ سکے ہیں کہ دین اور دین کے مالک کی منشاء کو سمجھ لیاگیا ہے ۔ہمارا آج کا مسئلہ یہ ہے کہ دین کو ہم نے مغرب کی طرح نجی مسئلہ سمجھ لیا ہے کہ دین اور دنیا شاید کوئی الگ الگ چیزیں یا دین کوئی چند رسومات کا مجموعہ نماز بھی محض ایک رسم روزہ زکواۃ حج وغیرہ بھی شاید رسومات ہیں جی نہیں بالکل بھی نہیں ہماری زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا عمل دین ہی ہے ہر جس کیلئے مکمل لائحہ عمل قرآن کریم,سنت نبویﷺ احادیث مبارک کی صورت میں موجود ہے ۔یہاں اپنی پسند اور ناپسند نہیں بلکہ حکم الٰہی کے مطابق "پورے کے پورے دین میں آجاؤ” اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم الحمد اللہ مسلمان تو ہیں لیکن ہم نے شاید نماز روزے زکواۃ اور حج ہی کو اسلام سمجھ لیا ہے جی نہیں زندگی کا ہر ہر عمل دین ہے جس کو اسلام کی روح کے مطابق سمجھنا بہت ضروری ہے اور ہم اپنا محاسبے کریں کہ ہم اپنی زندگیاں اسلام اصل روح کے مطابق گزار رہے ہیں اس کیلئے دین کو سمجھنا اور سیکھنا بہت ضروری ہے ہم چند سالوں کی دنیاوی زندگی کیلئے دنیاوی علم کو سیکھنے کیلئے کتنی سخت تربیت لیتے ہیں بڑی سے بڑی اور مہنگی درسگاہوں میں داخلہ لیتے ہیں اور ان علم پر مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ مستقل زندگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی اس کیلئے کیا اور کتنی تیاری کرتے ہیں ۔یہ سوال ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ ہمارے لئے کیا زیادہ اہم ہے تو درست جواب سامنے آجائیگا اس کام کو سیکھنے کیلئے ہیں کسی لمبی چوڑی تگ و دو یاکوئی بڑی یونیورسٹی جانے کی ضرورت نہیں ۔یہ ویسے بھی اس امت ذمہ داری ہے کہ یہ خاتم الانبیاء علیہ صلواۃوالسلام کی امت ہے جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اب دین کو سیکھنے اور پھیلانے والے پیغمبروں عمل کے ذمے دار ہم خود ہیں۔ آئیں اور دین سیکھیں اور اس کو اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی سکھائیں اپنے سے زیادہ صاحب علم لوگوں سے رابطہ کریں اللہ کے یہ ولی نہایت محبت کرنے والے لوگ ہوتے ہیں اور آگے بڑھ کر صرف رب کریم کی خوشنودی کی خاطر آپ کا نہ صرف استقبال کرتے ہیں بلکہ دین کو عملی طور پر سیکھنے اور تربیت میں آپ کی مدد کرتے ہیں دبئی کی جماعت تبلیغ کے محترم نثار احمد ،اکرم ، عامر،مظہر بلوچ دوستوں زاید، حاجی نور عالم اور دیگر احباب کے شکر گزار ہیں جن کی محبت اور مہربانی سے اس اہم مسئلہ پر متوجہ ہوئے۔ اللہ تعالی سے اپنی کوتاہ علمی اور دیگر کوتاہیوں پر معافی کے خواست گار ہیں اور اسی سے توفیق اور اسقامت کی طلب گار ہیں اللہ تمام احباب کو محبتیں آگے بڑھانے اس سنت نبوی کو لیکر آگے چلنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

امید۔۔۔ شوکت کاظمی
اس شہر کی رونق نہ کبھی ماند پڑے گی
گلیوں کو نہیں کوچہءِ دلدار کو دیکھو
آتیں ہیں نظر چند لکیریں سی افق پر
ظلمت کو نہیں مطلعءِ انوار کو دیکھو