- الإعلانات -

ہم بھی کیا قوم ہیں

میں گاڑی پر سوارہوا، پچھلی سیٹ پر ایک نوجوان لڑکابیٹھا تھا، اس نے ایک آڈیو ڈیوائس اٹھائی ہوئی تھی جس میں ایک تیز ٹون کاگانا چل رہاتھا، آواز اتنی تیز تھی کہ ہرکوئی بیزارنظرآرہا تھا مگر اس نوجوان کو احساس نہیں ہورہاتھا، ایک بزرگ نے کہاکہ بیٹے ! لوگ دن بھرکے کام کے بعد تھکے ہارے واپس آ رہے ہیں ، اس حالت میں انسان کی ذہنی برداشت جواب دے چکی ہوئی ہوتی ہے لہٰذا آپ ایئر فون لگالیں یا اس کو بندکردیں، نوجوان نے ان کی بات سنی ان سنی کردی ، اس کے پیچھے ایک اور مولوی صاحب بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا کہ بھائی جان ! آپ کواحساس نہیں ہے کہ لوگ آپ کی وجہ سے کس قدر تنگی محسوس کررہے ہیں ؟ مولوی صاحب کی بات سن کر نوجوان بھڑک اٹھااورکہنے لگاکہ مولویوں نے اسلام اور پاکستان کا بیڑا غرق کردیاہے ، تم لوگ زبردستی لوگوں کو نیک بناناچاہتے ہو ، اگر کوئی گانے سنناچاہتا ہے تو اس کی مرضی ہے ، آپ کوکیاتکلیف ہے ؟ مولوی صاحب کہنے لگے کہ بھائی جان ! یہ مولوی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اسلام کا مسئلہ ہے ، اورساتھ ساتھ اخلاق کا بھی مسئلہ ہے کہ آپ اپنے کسی بھی قول یا فعل کی وجہ سے لوگوں کو تنگ نہ کریں ، نوجوان کہنے لگا کہ یہ میرا انفرادی مسئلہ ہے اور اس میں کسی کو دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے ، یہ سن کرمولوی صاحب کہنے لگے کہ جب بھی کوئی کسی مذہب کا پیروکاربنتا ہے تو اس کی زندگی اس مذہب کی پابند ہوجاتی ہے ، پھر وہ اس مذہب کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق جیتا ہے ، نوجوان نے آواز مزید اونچی کردی اور کہنے لگا کہ قرآن کہتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے ، مولوی صاحب نے جواب دیا کہ بے شک ! لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ دین قبول کرنے کے سلسلے میں کوئی جبر نہیں ہے لیکن جب آپ کسی دین کو اختیار کرلیتے ہیں تو پھر اس کی تعلیمات کو ماننااوران پر عمل بھی کرنا پڑتا ہے ، لیکن اگر آپ جان بوجھ کرایسا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ، نوجوان نے ایک دفعہ پھر تنقید کا نشتراٹھایااورکہنے لگا کہ میں کسی کو مجبورنہیں کررہاکہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفرکرتے ہوئے اونچی آواز میں گانالگائے یا سنے تو اسی طرح مجھے بھی کوئی مجبور نہیں کرسکتا کہ میں نہ سنوں اور یہی اخلاقیات کا تقاضا بھی ہے ، بات اب برداشت سے باہرہورہی تھی ، آگے ایک سوٹد بوٹڈ بابو قسم کا بندہ بیٹھا تھاجن کے بارے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پروفیسر تھے، اس نے اپنی گردن پیچھے موڑی اورنوجوان کو مخاطب کرکے کہنے لگا کہ آپ کو معلوم ہے کہ پبلک مقامات پر سیاسی یا مذہبی گفتگو کرنے پر کیوں پابندی لگائی جاتی ہے ؟ پروفیسر صاحب کی بات سن کر نوجوان حیرت زدہ رہ گیا ، انہوں نے بات آگے بڑھائی اورکہنے لگے اورکیا آپ کو معلوم ہے کہ ہسپتال ، پارک یا کسی بھی عوامی جگہ پر سگریٹ نوشی کرنا کیوں منع ہوتا ہے ؟ نوجوان لاجواب سا نظر آرہاتھا ، جب اس نے کوئی جواب نہ دیا تو پروفیسر صاحب نے خود ہی جواب دیا اورکہنے لگے کہ ایسا اس لیے کیاجاتا ہے کہ وہ پبلک مقامات ہیں ، وہ جگہیں آپ کی ملکیت نہیں ہوتیں بلکہ وہاں آپ کے علاوہ اوربھی لوگ ہوتے ہیں اورآپ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ آپ اپنی تفریح کی خاطر لوگوں کی زندگیاں عذاب بنائیں ، آپ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ آپ اپنے مزے کی خاطر لوگوں کوبے مزہ کریں ، آپ کو خوشیاں منانے کا پورا حق حاصل ہے مگر لوگوں کی لاشوں پر نہیں ، آپ کو شہنائیاں بجانے کی آزادی ہے مگر لوگوں کے جنازے پر نہیں ، اگرچہ یہ آڈیو ڈیوائس آپ کی ملکیت ہے اور آپ اس کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں لیکن جب آپ تنہا ہوں ، اگر آپ پبلک پراپرٹی میں ہیں تو آپ کو دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا ہوگا ، پروفیسر صاحب کی باتیں سن کر نوجوان لاجواب سا ہوگیاتھا مگر ایسامعلوم ہوتا تھا کہ اب اس چیزکو اس نے اپنی انا کا مسئلہ بنالیا ہے ، پس اس نے آواز کو اوراونچا کردیا ، گاڑی میں اب خاموشی چھاگئی تھی ، ڈرائیور سے بات کی گئی تو وہ کہنے لگا کہ مجھے پیسوں سے غرض ہے ،آپ لوگ مجھے اس کا کرایہ دے دیں تو میں اس کو اتار دیتا ہوں ، ایک صاحب نے پیشکش قبول کی مگر نوجوان نے اترنے سے انکار کردیا ۔
میں یہ منظر دیکھ کر سوچ رہاتھا کہ ہم بھی کیا قوم ہیں ؟ ہم اپناتے کسی ایک تہذیب کو ہیں مگر مزا کسی دوسری تہذیب کا لیتے ہیں ،ہم وہ قوم بن چکے ہیں کہ دوسروں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں مگر اپنی عزت محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں ، ہم جذبات انگیختہ حد تک عریاں ہوکر باہر نکلتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں گھور کر نہ دیکھے ، ہم اپنے بچوں کے لیے امیر کبیررشتے تلاش کرکے کروڑوں کا جہیز دیتے ہیں مگر نکاح پڑھانے والے مولوی کو دوہزار بھی بڑی مشکل سے دیتے ہیں ، ساری زندگی مولوی کو گالیاں دیتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ نکاح اور جنازہ وہی مولوی پڑھائے ، ساری زندگی حرام کی کمائی سے ایک محل بناتے ہیں اور اس کے دروازے پر ’’ھذامن فضل ربّی ‘‘ لکھ دیتے ہیں ، خودمختار ہونے کے بعد ماں باپ کو دیہاتی سمجھ کر منہ نہیں لگاتے اور مہنیوں تک ان کو اپنی زیار ت سے مشرف نہیں کرتے مگر کار کے ماتھے پر ’’یہ میری ماں کی دعا ہے ‘‘ ضرور لکھتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قومی زبان اردوہو مگر تعلیم انگلش میڈیم میں حاصل کرنا چاہتے ہیں ، ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک مدینہ ہے مگر ہم ویزا یورپ ، امریکا، آسٹریلیااورکینیڈاکا لینا چاہتے ہیں ، ہم جینا ناروے میں چاہتے ہیں مگر دفن جنت البقیع میں ہونا چاہتے ہیں ۔
اسی وجہ سے ہمارے گھر بڑے ہیں مگر خاندان چھوٹے ہیں ، ڈگریاں بڑھ گئیں ہیں مگر عقل کم ہو گئی ہے ، ہسپتال اورڈاکٹر زیادہ ہوگئے مگر صحت کم ہوگئی ، چاند تک پہنچ گئے مگر پڑوسی کی حالت سے بے خبررہے ،کمائی میں اضافہ ہوگیامگر ذہنی سکون جاتا رہا ، معلومات آتی رہیں مگر سمجھ بوجھ جاتی رہی ، ذہانت بڑھ گئی مگر احساس ختم ہوگیا، نئے رشتے بنے مگر ان میں خلوص نہ رہا ، سوشل میڈیا میں کئی دوست ہیں مگر ساتھ دینے والا کوئی نہیں ، دنیا انسانوں کی ہے مگر انسانیت نہیں ہے ، لاکھوں کی گھڑیاں میسر ہیں مگر کسی کے لیے وقت نہیں،اورتواورہم چودہ اگست کو یوم آزادی بھی اس طرح مناتے ہیں کہ گاڑی کے اوپر جھنڈاپاکستان کا لگاہوتا ہے مگر اندر میوزک انڈین بج رہاہوتا ہے ،ہماراسب سے بڑادشمن انڈیا ہے مگر ہماری پسندیدہ فلمیں بھی انڈین ہی ہیں ، ایسا کیوں ہے ؟ کیا ہم کبھی اس غور کریں گے ؟ لیکن شاید کبھی نہیں کیونکہ ہماری حالت اس کبوترکی طرح ہے جس نے بلی کودیکھ کر کچھ کرنے کی بجائے آنکھیں بندکرلیں تھیں کہ موت ٹل گئی ہے لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ آنکھیں بندکرلینے سے حقیقت اوجھل تو ہوسکتی ہے مگر نہ تو چھپ سکتی ہے اورنہ ہی بدل سکتی ہے۔