- الإعلانات -

متشدد ہندو تنظیموں اور داعش کا خفیہ گٹھ جوڑ

پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے منڈلاتے خطرات کم ہونے پر نہیں آتے کیونکہ دونوں سرحد وں کے پار پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت کی بڑھتی ہوئی خفیہ سرگرمیوں کی وجہ سے دہشت گردی کی باگ ڈور ’ ’ نان اسٹیٹ ایکٹروں‘‘ نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے جو وقتاً فوقتاً مختلف لبادے اْڑھنے میں اینا ثانی نہیں رکھتے‘جن کے ’زبانی سہولت کار یعنی ’ہمدرد‘ اورکسی ’ٹھوس‘ شکل میں ’عملی مددگار‘ اپنے آپ کو لاکھ چھپائیں مگر وہ چھپ نہیں سکتے‘ پاکستانی سیکورٹی فورسنز کی عقاب نما ’نگاہوں‘ میں ہمہ وقت ادھر سے اُدھر آتے جاتے رہتے ہیں جنہوں نے آئینی نقاب پہن رکھے ہیں پاکستان کے پاس بھارت کے خلاف مشرقی ومغربی سرحدوں کو عدم استحکام کئے رکھنے کا ثبوت موجود ہے، 2016 کے وسط میں پاکستان سپریم انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے پاک ایران سرحد پر کامیاب کارروائی کرکے بھارتی خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا جس نے اعترافا ت میں بتا دیا تھا کہ پاکستانی شہروں کو دہشت گردی کی مسلسل لپیٹ میں ر کھنے کا اُسے اہم ٹاسک دیا گیا تھا جس کی بناء پر بھارتی ایجنٹ یادیوکے پاکستان کی چند مسلح گروپوں سے رابطے تھے، اُس نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ پاکستانی سرحدوں پر اْس کی فوج کو مسلسل نبرد آزما رکھ کر شہروں کے امن امان بھی کسی صورت میںSustain نہ ہونے دیا جائے، پاکستان کی انتہا پسند کالعدم مذہبی ونیم سیاسی مسلح گروہوں کو اسلحہ سمیت ہر قسم کی مالی تعاون و اعانت میں ذرا بھی کوئی رخنہ تک پیدا نہ ہونے دیا جائے، بھارتی خفیہ ایجنسیوں را اور دیگر سرکاری خفیہ تنظیموں مثلا آئی بی’ آے آر سی ’ایوایشن ریسرچ سینٹر‘ایس ایس بی ’اسپیشل سروسنز بیورو‘اور ایس ایس یف’ اسپیشل فرنٹیئر فورس‘ جن کے رابطے ایک ز مانے سے دنیا کی مختلف اسلام دشمن ایجنسیوں سے جڑے ہوئے ہیں، جو اب ’آئی ایس آئی ایس‘ داعش سے بھی اپنا خصوصی گٹھ جوڑ بنانے میں کافی آگے نکل چکی ہیں’ آئی ایس آئی ایس‘ داعش کے بارے میں کسے یہ علم نہیں کہ دنیا کی اس بدنامِ زمانہ و گھٹیا شہرتِ یافتہ متشدد جنونی تنظیم کے پاس غیر قانونی دولت کی کوئی کمی نہیں، مطلب یہ کہ دوسرے لفظوں میں اگر یوں کہا جائے تو یقیناًیہ انکشاف غلط نہ ہوگا کہ "را” اب براہ راست داعش کے ساتھ اپنا تعلق بنانے میں سی آئی اے کو کافی پیچھے چھوڑ چکی ہے یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کا برملا اعتراف امریکی حکام نے بارہا کیا ہے حالیہ دنوں افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کئی خوفناک کاروائیوں میں داعش کا نام لیا جاتا رہا ہے داعش اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے مابین سامنے آنے والے خفیہ گٹھ جوڑ سے یہ رائے اور مزید تقویت پاتی دکھائی دیتی ہے ہو نہ ہو نئی دہلی کی مودی حکومت بھارت کی واضح مسلم اقلیت کو دباو اورپریشر میں رکھنے کے علاوہ داعش کے انتہائی وحشی صفت جنونی مسلح گروہوں کو دیش کے مختلف علاقوں میں پنا ہ دینے میں ملوث ہے اور اْنہیں دیگر سہولیات کی فراہمی تو یقیناًوہ کرتی ہی ہوگی، جیسا کچھ راقم نے عالمی انٹر نیٹ نیوز کی ویب سائٹس کی توسط سے قارئین تک یہ ٹھوس حقائق پہنچا نے میں اپنا فرض نبھا یا ہے وہاں یہ پردہ بھی بلاکسی لگی لپٹی کے اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے کہ بھارت بھر میں داعش کی خفیہ سرپرستی کل کی بات بالکل نہیں لگتی، جب داعش وجود پذیر ہوئی آرایس ایس سے اُسی وقت بغگیر ہوگئی ہوگی متشدد تنظیم داعش ہو ‘القاعدہ ہو‘ یا پھر کسی ’مسلم ‘ نام کی مسلح تنظیم؟ اوّل تو یہ کہ اسلام کے نام سے بنی کوئی بھی مسلح متشدد تنظیم اور کچھ بھی ہوسکتی ہے دینِ اسلام سے اُس کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا کیونکہ ’دین اسلام‘ امن وآشتی کا دین ہے جس کا پہلا سبق ہی یہ ہے کہ ’انسانیت کا تحفظ‘ کیا جائے انسانیت کی تذلیل کرنے والے کا دینِ اسلام سے رتی برابر کوئی واسطہ نہیں ہوسکتا، اب اُن تنظیموں کے ظاہری وباطنی مکروہ ترین کردار پر بھی ایک نگا ہ ڈالیں تو جو درندہ صفت حیوانی سرگرمیوں میں لتھڑے نظر آتی ہیں داعش ہو یا کالعدم ٹی ٹی پی ہو ‘ بجرنگ دل ہو یا بی جے پی کی تقریباً سبھی جنونی ہندو تنظیمیں‘اِن کے ماضی وحال کی بہیمانہ انسانیت دشمن ستم کارانہ کا رکردگیوں پر دل کھول کر آنسو بہا لیجئے شرم مگر اِنہیں نہیں آئے گی نادم مگر یہ کبھی بھی نہیں ہونگے شام اور عراق کے جن علاقوں میں داعش ہے وہاں داعش کیا زندہ انسانوں کو جلا کر بھسم نہیں کررہی ؟ مودی کی سرپرستی میں گجرات میں بلوہ کرایا گیا تھا تو نریندرا مودی نے وہاں بھی زندہ مسلمانوں کو اجتماعی طور پر سر عام زندہ نہیں جلایا تھا ٹی ٹی پی نے16 ؍دسمبر2015 میں اے پی ایس میں جہاں اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کرکے سینکڑوں معصوم بچوں کو بھون کررکھ دیا تھا وہاں کیا کئی ٹیچروں کو اُن کی بہادر پرنسپل سمیت زندہ نہیں جلایا گیا؟ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم مودی کی نشوونما چونکہ اِ یسے ہی انسان دشمن تنظیموں مثلاً آر ایس ایس کے جنونی کارسیکوں کے مابین ہوئی، لہٰذا وہ بھی کسی لمحہ کو چین سے بیٹھنا پسند نہیں کرتے انسانی لہو سے کھیلنا اُن کی فطرت کا خاصا بن چکا ہے، رہی سہی کسر اقتدار کے باطل نشے نے اور پوری کردی اُوپر سے چونکہ اُن کے ’عقل ‘ کا خانہ بالکل خالی اور فکر ونظر بستہ بالکل تہی دست تھا جس میں سوائے مسلمانوں سے نچلے درجے کی نفرت اُن کی فطرتِ ثانیہ تھی اپنے ہندوتوا کے پر چارک کا اُنہیں ناز ہے غالباً یہی وجوہ ہوگی کہ آج بھارت بھر میں کہیں نہ مسلمان محفوظ نہ عیسائی محفوظ‘ بھارت میں نہ سکھوں کو چین نہ ماؤ نواز بھارتیوں کو کسی بھی اقلیت کو بھارت میں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے مودی چونکہ بھارت کا وزیر اعظم ہے اور بھارت ہمارے پڑوس کا ملک ‘ لہذاء یہ جتنی باتیں کی گئیں بلا مقصد نہیں کی گئی ہیں، پاکستان دنیائےِ اسلام کا واحد ایٹمی ملک ‘ گزشتہ69 برس سے اپنے مذہبی ‘ ثقافتی ودفاعی تحفظ کی بقاء کیلئے ہمہ وقت اپنے اِسی پڑوسی ملک بھارت سے چوکنا رہنے پر مجبور کردیا گیا ہے، بڑی عالمی طاقتیں مثلاً امریکا ‘ برطانیہ ‘ فرانس اور روس ’عالمی امن ‘ کی نظر سے اِن ممالک کی اپنی اپنی ترجیحات نے جنوبی ایشیا کو ایک ’اَن دیکھے آتش فشاں‘ کے تصورات سے باہر نکل کر دیکھنے کی فرصت ہی کب دی؟ کئی دہائیاں بسر ہوگئیں مگر پھر بھی پاکستان کو یقین ہوچلا ہے کہ آج نہیں تو کل یقیناًدنیا کا مافی الضمیر جاگے گا ،پاکستان کا ایک اور پڑوسی ملک بھی ہے نا عوامی جمہوریہ ِٗ چین جس نے اس خطہ کی قسمت کو یکسر بدلنے کیلئے وہ تاریخ ساز فیصلہ پاکستان کے باہمی دوستانہ تعلقات کو چینی او ر پاکستانی عوام کی امنگوں اور خواہشوں میں رچا بسا دیا جس پر دنیا کی حیرت کااندازہ تاحال کم ہونے پر نہیں آرہا پاکستان اور چین کے اِس تاریخ ساز اقتصادی راہداری کے فیصلے نے مگر بھارت کی نیندیں ضرور اُڑادی ہیں بس آج کے لئے اتنا ہی کافی سمجھیں ۔