- الإعلانات -

امریکی مظالم

یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم کبھی امریکہ کوسٹریٹجک پا رٹنر کہتے اور کبھی بڑی شان اور فخر یہ انداز سے کہتے ہیں کہ پاکستان دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کر دار ادا کر رہا ہے ۔ امریکہ کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جنگ میں ہم ہزاروں لوگوں کے قُربانی کے علاوہ 100 ارب ڈالر کا نُقصان بھی کر چکے ہیں اور ہر کام امریکہ کی مر ضی اور مفادات کیلئے کرتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے امریکہ اور یو رپ ہاتھ سے کوئی ایسا مو قع جانے نہیں دیتے جس سے پوری دنیا میں مسلمانوں کی دل آزاری، تذلیل اور رسوا ئی نہ ہو۔ کبھی وہ پاک پیغمبر نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستا خی کر کے اُنکے کا رٹون بناتے ہیں اور کبھی اُ نکی شان میں گستا خانہ کتابیں لکھنے والے ملعونوں اور خبیثوں جیسے کہ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو نہ صرف پناہ دیتے بلکہ اُنکو انعامات اور میڈلز سے بھی نوازتے رہتے ہیں۔ کبھی قُر آن مجید اور فُرقان حمید کو گندگی میں پھینکتے اور کبھی اس کتاب الہی کو سور کے آگے پھینکنا اُنکا ایک معمول ہے۔ عراق پر اٹیمی ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر اُنکے خلاف فو ج کشی اور افغانستان اور قبائیلی علاقہ جات پر دہشت گر دی اور انتہا پسندی کا الزام لگاکر سر حد کے اُ س اور اس پار بے گناہ پختونوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ امریکہ خود تو ٹنوںِ من مہلک اور جراثیمی ہتھیار بناکر دنیاکی مختلف اقوام پر بے در دی اور سفاکی سے استعمال بھی کر چکے ہیں اور جب کوئی مسلمان ریاست توانائی کی ضروریات اور اٹیمی توانائی کے حصول کیلئے سعی کر تا ہے تو اُن پر یہود و ہنود سب یک قالب اور یک جان ہو کر پا بندیاں لگا تے ہیں۔ ایک طر ف اُمت مسلمہ کی ماؤں بہنوں اور علمائے کرام کا ایر پو رٹس پر ننگا سکریننگ ٹیسٹ کر کے تضحیک کی جاتی ہے جبکہ دوسری طر ف بے گناہ لوگوں کو دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں مارا جاتا ہے ۔ اب تو بات یہاں تک پہنچی ہے کہ امریکہ نے 200 کروڑ مسلمانوں کی بہن، بیٹی اور بہو کو جھوٹے الزامات کی پا داش میں گذشتہ کئی سالوں سے پابند سلاسل کر کے اُن پر بے پناہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔وہ مسلمانوں کی عزت کو للکارتے اور ڈنڈے کی چو ٹ پر 200 کروڑ مسلمانوں کو چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر آپ میں دم خم ہے توُ اپنی بہن اور بیٹی کو ہمارے خون خوار پنجوں سے چھڑالو۔ دراصل اس قسم کے واقعات سے وہ مسلمانوں کی عزت اورحمیت کا امتحان لینا چیک کر انا چاہتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مغربی ذرائع ابلاغ کے منفی پر وپیگنڈے اور حکمرانوں کی کرپشن اور بد عنوانی کی وجہ سے مسلمان ذلالت اور پستیوں کے کونسے درجے تک پہنچ گئے ہیں۔ ایک طر ف اگر اہل مغرب اور مغربی ابلا غ عامہ کے اداروں نے مسلمانوں کو ذلت اور پستی میں پھینک دیا ہے تو دوسری طرف اس دھرتی پر ایسے ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنی مذہب ، وطن، اپنی ماؤں اور بہنوں کے جذبے سے سر شار ہیں۔ اور وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اپنی دھرتی، عزت، ناموس کی حفاظت کر سکتے ہیں۔مسلمان ہونے کے ناطے اُمت مسلمہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کوششیں کریں۔امت مسلمہ اور ہمارے حکمران اب بھی غفلت کے نیند سورہے ہیں۔ مُجھے سمجھ نہیں آتی آخر مسلمان اپنے حکمرانوں کی وجہ سے کب تک ذلیل ہوتے رہینگے؟۔ آخر ہماری ماؤں بہنوں کی کب تک یہو د و ہنود کے آگے رسوائی اور ذلالت ہوتی رہے گی؟۔ آخر ہم کب تک یہود ہنود کے غلام رہیں گے۔؟ ۔آخر ہم کب تک اُنکی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ لڑ کے اپنے ملک اور قوم کا بیڑہ غرق کر تے رہینگے؟۔ آخر ہم کب تک اپنے ملک کے پُر امن لوگوں کو دہشت گر د اور انتہا پسند کہتے رہینگے؟۔ آخر ہم کب اُ سکو اس بات کا احساس دلا سکیں گے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو سب غلط اور نا جا ئز ہے؟۔ویسے وہ کونسی بات ہماری رہ گئی جسکے بعد ہمارا سویا ہوا ضمیر جاگے گا۔ وہ کونسی کسررہ چکی ہے جو ابھی باقی ہے۔ کیا اس سے بھی ہم مذہبی اوراخلاقی طور پرذلیل کمینے اور بے خمیت ہو سکتے ہیں۔کیا مسلمانوں کے امتحان کیلئے کچھ اور رہ گیا ہے۔شاید یہ ایسے سوالات ہیں جنکا جواب ۲۰۰ کروڑ مسلمانوں اور چند ہزار حکمرانوں کے پا س نہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جنکے جوابات دنیا کے 70 فی صد وسائل رکھنے والے مسلمان حکمران نہیں دے سکتے۔ یہ ایسے سوالات ہے جنکے جوابات سے امریکہ اور یہود و ہنود کے پٹھوں دو چار ہیں۔ میں اس کالم کی تو سط سے وزیر اعظم نواز شریف ، بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان ،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔ اگر ہمارے حکمران امریکہ کے کہنے پر امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر سکتے ہیں تو وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی با عزت رہائی کے لئے بھی کو شش کر سکتے ہیں۔ میں اس کالم کی تو سط سے سر فروشان اسلام سے استد عاکرتا ہوں کہ وہ پشاور پریس کلب کے سامنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہائی قومی جرگہ میں جو ق درجوق شرکت کرکے اسلام دوستی ، وطن دوستی ، غیرت اور خمیت کا ثبوت دیں۔امریکہ جو کہ دنیا میں ایک سُپر پاور کا دعویٰ کر تی ہے وہ ایک معصوم اور نہتے بہن اور بیٹی سے کیسے خوف محسوس کرتی ہے۔دوسروں کو انسانی اور بشری حقوق کا سبق اور درس دینے والا ملک ، جمہو ری، اورانسانی حقوق کا علمبر دار امریکہ، انسانی حقوق کو روندتے ہوئے شرماتے نہیں۔