- الإعلانات -

پنجاب پولیس کی کارکردگی

کسی بھی ملک کی سالمیت اور بقا کے لئے کئی ادارے کام کرتے ہیں۔ مثلاً فوج سرحدوں کی محافظ ہے تو دوسرے ادارے وطن عزیز کے اندر دہشت گردوں کا سراغ لگا کر ان کو ٹھکانے لگاتے ہیں جبکہ پولیس اہلکار شہریوں کی جان ومال اورجائیداد کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہماری پرسکون نیند کیلئے پولیس حکام اوراہلکار ہرطرح کے موسم میں رات بھر گشت کرتے ہیں ۔عید سمیت کوئی بھی تہوار ہووہ اپنے اہل خانہ سے دورڈیوٹی پرہوتے ہیں۔ اگرپنجاب کادوسرے صوبوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے توپنجاب پولیس کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔اس پربلاشبہ لاہورپولیس شاباش کی مستحق ہے۔حال ہی میں پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ایک پرُ ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور کیپٹن (ر)محمد امین وینس نے بتایا کہ لاہور پولیس نے تھانہ ملت پارک کے علاقہ پکی ٹھٹھی میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران پانچ افرادکو قتل کرنے والی واردات کا سراغ لگا کر ایک خاتون سمیت 04رکنی گینگ کو گرفتار کر لیا۔ملزمان کی شناخت ظہیر عباس عرف باسو، زاہد علی، جہانگیر رعرف بھولا اور امہ فرواسے ہوئی ہے۔ اس کیس کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔گینگ کے ارکان کا تعلق مسلم شیخ برادری سے ہے اور یہ پنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد کے رہائشی ہیں۔ملزمان گوجرانوالہ، شیخوپورہ، حافظ آباد اور لاہور میں درجنوں وارداتیں کر چکے ہیں اورڈکیتی ، قتل ، راہزنی و دیگر سنگین کئی مقدمات میں ملوث ہیں۔سی سی پی او لاہور نے بتایا کہ 19نومبر کوپرواز پان شاپ میں دو ڈاکو داخل ہوئے اور کیش چھینا اور مزاحمت پر دکاندار نے ایک ڈاکو کو پکڑ لیا ۔ باہر کھڑا ڈاکو دکان کے اندر آیا تو اس نے فائرنگ کر کے دکان کے اندر موجود چار افراد کو ہلاک کر دیا۔جب وہ باہر گئے تو انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے سائیکل پنکچر لگانے والا فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ ڈاکوؤں نے ماسک پہنے ہوئے تھے اور دوران مزاحمت ان کا ماسک اتر گیا۔وہاں پر موجود لوگوں نے پولیس کو ان کے حلیے سے آگاہ کیا۔ اس المناک واردات کو ٹریس اور ملزمان کو گرفتار کرنا لاہور پولیس کیلئے ایک چیلنج تھا۔ اس ہولناک واردات کو ٹریس کرنے کے لئے آپریشنز، انویسٹی گیشن ونگ اور سی آئی اے پولیس کی قیادت میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر سفاک ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک دیا گیا۔ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کئے ۔ واردات کی سنگینی کے پیش نظر برآمد اسلحہ اور موقع واردات سے ملنے والے خول اور گولیوں کا معائنہ پنجاب فرانزک لیبارٹری سے کرایا گیا ۔ پولیس نے پہلے 229افراد کو تفتیش کیلئے شاٹ لسٹ کیا اور سائینٹفک طریقہ کار اور پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹیمیں اصل ملزمان تک پہنچ گئیں اور گرفتار کر لیا۔ واردات میں 9mmپسٹل اور 30بور پسٹل استعمال کیئے گئے ہیں۔ سی سی پی او لاہور نے اس گینگ کا طریقہ واردات بتاتے ہوئے کہا اس گینگ نے جس علاقہ میں واردات کرنی ہو تو وہاں پر پہلے مکان کرائے پر لیتے ہیں ۔ گینگ میں شامل ملزمہ امہ فروا علاقہ کی ریکی کرتی ہے اور دوران واردات اپنے ساتھیوں کو اسلحہ بھی سپلائی کرتی ہے ۔ گھروں کے مالکان بلال صدیق ، عدنان شوکت اور محمد رضوان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے ملزمان کو گھر کرایہ پر دیا تھامگر اس کا اندراج تھانہ میں نہیں کروایا تھا۔ ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کاروائی کی۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن(ر) امین وینس نے اس بلائنڈ واردات کا سراغ لگانے پر لاہور پولیس کے افسران و جوانوں کو مبارک باد دی ہے ۔ لاہور پولیس نے اس کیس کو ایک چیلنج سمجھ کو قبول کیا اور سپاہی سے لے کر ڈی آئی جی تک تمام نے کام کیا ۔

عدالت میں۔۔۔۔۔شوق موسوی
کئی دنوں سے بڑے مخمصے میں منصف ہیں
دلوں میں اور خیالات روز اٹھتے ہیں
تسلی بخش جوابات مل نہیں پاتے
نئے نئے سے سوالات روز اٹھتے ہیں