- الإعلانات -

حاکموں! انصاف کے قلعے بنادو !

خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز ؒ کا شاندار دورِ خلافت تھا۔ آپ کی نافذ کردہ معاشی و سماجی انصاف کی وجہ سے جہاں پورے ملک میں امن و سکون کی دولت کی فراوانی تھی وہاں زروجواہربھی بیسار تھے۔لیکن یہ سب کچھ حکمرانوں کی ذاتی عیاشیوں کے لئے نہیں بلکہ عام آدمی کی فلاح کے لئے صرف ہوتے تھے۔بعض گورنروں نے سوچا کیوں نہ اس بیش بہا دولت سے پرانے اور بو سیدہ شہروں کی از سر نو تعمیر و مرمّت کی جائے اور ان کی تزئین و آرائش کرکے اسے پاک صاف ،خوبصورت اور ماڈرن بنا دیا جائے۔لیکن اس مقصد کے لئے خلیفہ وقت کی زبانی یا تحریری اجازت درکار تھی کہ آپؒ کی اجازت کے بغیر اتنا بڑا اور ’’ میگا پروجیکٹ‘‘شروع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یوں کئی گورنرز صاحبان نے خلیفہ عمر بن عبد العزیزؒ کو لکھا: امیر المومنین!ہمارے کچھ شہر ویران اور خراب ہوگئے ہیں۔عمارتیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں۔آپ اجازت دیں تو ہم مالیانہ سے کچھ لے لیں اور اِن کی تعمیر کرادیں‘‘۔امیر المومنین کو خط موصول ہوا۔آپ نے خط پڑھا فوراََ انہیں جوابی خط ارسال کیااور سلام دعا کے بعد لکھا: جب تم میرا یہ خط پڑھو تو اِسی وقت سے اِن خستہ اور خراب شہروں کے قلعہ عدل سے تعبیر کردو اور اِن کے راستے ظلم وستم سے پاک صاف کردو،یہی اِن کی مرمّت ہے‘‘۔اگر میاں نواز شریف کی موجودہ دورِحکومت پر نظر دوڑادی جائے تو الحمد للہ اس حکومت میں ملکی ترقی کے اربوں کھربوں کے اَن گنت میگا پروجیکٹس پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔بڑی بڑی سڑکیں ،شاہراہیں اور موٹر ویز تعمیر ہورہی ہیں۔بجلی کے متعدد سولر،تھرمل ،ونڈ ،ہائیڈل اور اٹامک انرجی کے متعدد منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں جس سے مستقبل قریب میں ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا۔پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت چائنا پاکستان میں چھیالیس ارب ڈالرز کی ریکارڈ سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کے تحت پاکستا ن کے چاروں صوبوں بلوچستان ،سندھ،پنجاب ،خیبر پختون خوا ، کشمیر ،گلگت بلتستان اور فاٹامیں خوبصورت اور کشادہ شاہراہوں سمیت متعدد صنعتی زونز قائم کئے جائیں گے جس سے نہ صرف لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے بلکہ ہماری برآمدات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا۔گوادر جیسے عظیم الشان منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکاہے اور چائنا اپنی برآمدات کے لئے اسی روٹ کو استعمال کر رہا ہے۔لاہور اور پنڈی اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں دنیا کا جدید ترین میٹرو بس سروس کام کر ہاہے جس سے روزانہ لاکھوں مسافر مستفید ہورہے ہیں جبکہ کراچی اور ملتان میں اسی ہی قسم کے میگا پروجیکٹ پر بڑی تیزی سے کام ہورہا ہے۔علاوہ ازیں ملک بھر میں سکولز ،کالجز ،یونیورسٹیاں اور ہسپتال بن رہے ہیں اور گلی کوچے پختہ ہورہی ہیں۔مختصراََ ایسا کوئی شہر یا گاؤں نہیں جہاں ترقیاتی کام نہ ہورہے ہوں۔برعکس اس کے اگر آپ ملک بھر میں قائم انصاف کے نظام ، طرزِحکمرانی، گورننس اور لاء اینڈ آرڈر سیچوئیشن پر نظر دوڑائیں ۔آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ یہاں نظام انصاف کا کوئی منظّم ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں۔یہاں انصا ف مفت نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں میں بکتا ہے۔انصاف کا حصول غریب اور پسے ہوئے طبقے کی بس کی بات نہیں ہوتی۔یہاں ظالم ،پیسہ والے ،مونچھوں والے اور اثر رسوخ والے دندناتے پھر رہے ہوتے ہیں لیکن کوئی ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔جبکہ یتیم و یسیراور مظلوم فریق خون کے آنسورُلاتا ہے لیکن اُن کی داد رسی والا کوئی نہیں ہوتا۔عموماََ ظالم فریق باعزت بری ہوجاتاہے۔عدالتوں اور تھانہ کچہریوں کے نام سن یہاں بہت ساروں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ تھانہ کچہریوں سے بالا بالا جرگوں اور پنچایتوں میں فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔لاء اینڈ آرڈر کی اس ملک میں صورتحال یہ ہے کہ بم دھماکوں ،خودکش حملوں نے اس ملک کا ستیاناس کردیا ہے۔سٹریٹ کرائمز زوروں پر ہیں۔ہماری پولیس اور شہریوں کی حفاطت پر مامور ادارے اور لوگ بڑے بڑے منظم جرائم پیشہ گروپس اور گینگز کے آگے بے بس ہیں۔ چوری،ڈاکے، بھتہ خوری ،بوری بند لاشیں،قتل مقاتلے ،لڑائی جھگڑے ،اغوابرائے تاوان اور کارلفٹنگ کے روز کے اَن گنت واقعات نے اس ملک کو ممالک اور قوموں کی صفوں میں ایک مذاق بنا کے رکھ دیا ہے۔آپ بتا سکتے ہیں کہ اس ملک کی کونسی شاہراہ ،سڑک یا گلی ہے جہاں آپ محفوظ اور بے خطر ہیں۔ایسا کونسا بازار اور کاروباری مرکز ہے جہاں ملاوت،ناجائز منافع خوری اور بھتہ خوری نہیں ہے۔اور تو چھوڑ یئے دودھ جیسی اللہ کی دی ہوئی بڑی نعمت میں سرف اور یوریا سمیت بائیس خطرنا ک قسم کے مضر صحت کیمیکلز ملائے جاتے ہیں۔گھی اور کوکنگ آئلز بھی بغیر ملاوٹ کے نہیں ملتے۔یادش بخیر!ہاں ایسا کونسا دفتر اور ادارہ ہے جہاں رشوت،سفارش اور اقربہ پروری کا بازار گرم نہیں۔یہاں ان گنت لوگ غربت ،افلاس ،بے گھری ،بے روزگاری کے عذاب میں پس کر روز مرتے اور جیتے ہیں۔حکومت کی طرف سے غریبوں کے لئے جاری کردہ اسکیموں سے صر ف امیر اور سرمایہ دار ہی فوائد اٹھا رہے ہیں۔سوچئے یہاں معاشی انصاف ہے نہ سماجی و معاشرتی۔مال ،جان،عزت اور آبرو یہاں کسی کی محفوظ نہیں۔طیبہ جیسی معصوم دس سالہ کمسن ملازمہ بچی کو انصاف بانٹنے والے کے گھر میں تشدد کا نشانہ بنا کر اس کا چہرہ اور ہاتھ جلائے جاتے ہیں لیکن مجرموں کو سزا کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
آپ اندازہ لگائیں یہ ہمارے اس ’’ترقی یافتہ ‘‘ اور ’’تہذیب یافتہ‘‘معاشرے کے دو مکروہ رخ ہیں۔ایک ترقی والا اور دوسرا ظلم والا۔ایک میں اربوں کھربوں کے ترقیاتی کا م اور میگا پراجیکٹس پر کام ہورہا ہے جبکہ دوسرے میں ملک بھر میں انصاف پر مبنی نظام کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں۔جبکہ جہاں انصاف نہ ہوں ،ظالم دندتانے پھر رہے ہوں اور مظلو م خون کے آنسو روتے ہوں ایسے میں یہ ترقیاتی منصوبے ،کام ،پروجیکٹس اور میگا پروجیکٹس زہر لگتے ہیں۔عمر بن عبد العزیزؒ نے تو اس لئے کہا تھا ،انصاف کے قلعے بنادو اور ان کے راستوں اور گلی کوچوں کو ظلم سے پاک صاف کردو،یہی ان شہروں کی مرمت ہے۔ہمارے حکمران بھلا اپنے ترقیاتی منصوبے جاری رکھے لیکن انہیں بھی ملک بھر میں انصاف کے قلعے بنانے ہونگے اور ان کے گلی کوچوں کو ظلم سے پاک صاف کرنا ہوگاکہ حضرت علی کے فرمان کے مطابق ملک کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہیں لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔