- الإعلانات -

ہندوستان کا ایٹمی پرگرام اور آزاد دنیا کا رویہ

بھارت تضادات کا شکار ایک ایسا ملک ہے جس کے اپنے معاشرے کے اندر شدید سماجی اور مذہبی منافرت اپنے عروج پر ہے خاص طور پر مذہبی تضادات اس قدر ہیں کہ رواداری ناپید ہو گئی ہے عدم برداشت اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے موجودہ ہندوستانی حکومت جس کی سربراہی ایک کٹر مہاسبھائی شدت پسند نریندر مودی کرہا ہے جس کی متشدد پالیسیوں کی وجہ سے پورا ہندوستان ایک ہیجان کا شکار ہے اس سے پہلے معاشرے میں جو تھوڑی بہت سیاسی اور مذہبی ہم آہنگی موجود تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہے کوئی مربوط پالیسی نہیں جس سے مذہبی اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھ سکیں اقلیتیں انتہائی خوف کا شکار ہیں تان ہندو شدت پسندی سے اٹھتی ہے اورہندو دہشتگردی پر جا ٹوٹتی ہے مرکزی حکومت یعنی مودی جی کی زندگی کا سب سے بڑا ہدف پاکستان کا وجود ہے اور اس کو خدا نہ خواستہ مٹانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے کئی دہائیوں سے پاکستان کے اندر خلفشار اور بدامنی کے لئے انڈیا نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے بلوچستان میں علیحدگی پسندی کو مسلسل ہوا دے رہا ہے کراچی میں انڈین خفیہ ایجنسی RAW نے ایک ٹولے کو استعمال کرتے ہوئے نام نہاد سیاسی جماعت کھڑی کی اور اس کے ذریعے ملک کے اندر خصوصا کراچی اور اندرون سندھ تخریب کاری کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جس میں بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ کا کلیدی کردار ہے محب وطن سیاستدانوں اور حکیم سعید جیسے روادار اور انسان دوستوں کا خاتمہ کردیا گیا انڈیا کی جانب سے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت فاٹا میں بے چینی پیدا کی جارہی ہے مختلف بلوچ گروپوں کو مسلح کیا گیا اور ان کی ذہن سازی کر کے تخریب کاری کروائی گئی کراچی میں صنعتی سرگرمیاں ختم ہی کر دیں اس دہشتگردی اور بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے سرمایہ کراچی سے نکل کو بیرون ملک چلا گیا ملک میں بے روزگاری بڑھ گئی خصوصا سندھ میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا کراچی اور اندرون سندھ میں عدم استحکام پیدا کیا گیا گمراہ نوجوانوں کو کبھی ماہی گیروں کی صورت میں یا براہ راست سرحد پارکرا کر ہندوستان ہندوستان لیجا کر تخریب کاری بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی تربیت دی گئی اور واپس پاکستان بھجوا کر ان سے تخریب کاری اور دہشتگردی کرائی گئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالیاں ہو رہی ہیں بڑھے بچے مرد اور عورتوں کو بہیمانہ طور پر شہید کیا جا رہا ہے انڈیا کی جانب سے مغرب سے جدیدترین جنگی مشینیں خریدی جارہی ہیں جن کا فوری ہدف پاکستان ہی ہے اسلحے کے انبار لگائے جارہے ہیں اور آج دنیا بھر میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بھی انڈیا ہی ہے ایک اور بات جس کا مغرب کو احساس نہیں اور وہ مالی ہوس میں اندھا ہوکر صرف نظر کئے ہوئے ہے کہ انڈیا کے اندر مختلف علاقوں سے نکلنے والے یورینیم کی مقدار 1500 کلوٹن ہے جس سے انڈیا 200 سے 256 تک ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے اور اسے باہر سے یورینیم خریدنے کی ضرورت نہیں لیکن حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کیبعد انڈیا مزید یورینیم درآمد کرنے کی کوشش کر رہا ہیاور انڈیا آج کل 90 فیصد تک یورینیم انرچمنٹ کررہا ہے اور اس کیپاس استعمال شدہ یورینیم کو صاف کرنے کی صلاحیت بھی ہے جس مواد سے مزید ایٹم بم بھی بنائے جا سکتے ہیں لیکن انڈیا نے اس کو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی حفاظتی تفتیشی دائرہ کار سے باہر رکھا ہوا ہے لیکن ایک منظم سازش کے تحت پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی جدت اور صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ بظاہر وہ پاکستان کی تعریف لگتی ہے لیکن اصل میں پاکستان کو غیر ذمہ دار ریاست اور ایٹمی ہتھیاروں کے دہشتگردوں کے ہاتھوں میں چلے جانے کے جعلی خدشات کا اظہار کرکے دنیا کو ڈرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور پاکستان کے خلاف رائے عا مہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس آڑ میں انڈیا اپنے مقاصد کو آگے بڑھا رہا ہے دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور اثاثے محفوظ ترین ہیں اور آج معمولی حادثہ تک نہیں ہوا چور چکاری تو بعید از امکان بلکہ نا ممکن ہے جبکہ دو دن قبل انڈیا میں کچھ ہندوستانی لوگ یورینیم بیچتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں اور یہ معاملہ دنیا بھر کے میڈیا میں بھی آ چکا ہے لیکن کیا محال کہ کہیں سے کوئی آواز اٹھی ہو یہ ہے مغرب اور دنیا کا دہرا معیار، کئی نامور ہندوستانی ایٹمی سائنسدان یا تو ہلاک کئے جا چکے ہیں اور غائب کردئے گئے اور ان سائنس دانوں کو غائب کردینے والے ممکنہ طور پر عالمی دہشگرد بھی ہو سکتے ہیں جس پر دنیا کو کوئی تشویش نہیں ہوتی لیکن پاکستانی جوہری پروگرام پر نظر کرم ہمہ وقت جمی رہتی ہے ایک اور تشویشناک بات جو دنیا کو سمجھنا چاہئے کہ انڈیا کی موجودہ مقتدر پارٹی اکھنڈ بھارت کی دعوے دار ہے جس کی سرحدیں ایران چین اور افغانستان سے لے کر ملائشیا اور انڈونیشیا تک پھیل ہوئی ہیں اور انڈیا کامیزائیل پروگرام بھی 8 ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور اس کا ہدف صرف پاکستان تو نہیں ہو سکتا خطے کی دیگر ممالک بھی ہیں تو سمجھا جا سکتا ہے کہ موجودہ جنونی کٹر مذہبی متعصب حکومت عالمی امن کے لئے کس قدر خوفناک ثابت ہو سکتی ہے اس لئے عالمی اسٹیبلشمنٹ کو بھی پروپیگنڈے اور ہوس زر سے بالاتر ہو کر ہوش کے ناخن لینے ہوں گے کہ اگر موجودہ جنونی مودی اور اس کے ہم نوا جن کو اقتدار میں آنے سے پہلے دنیا دہشتگرد کہا کرتی تھی اور مودی کا مغرب اور امریکہ میں داخلہ تک ممنوع تھا ان کو روپے پیسے اور تجارتی مفادات کے حصول کی خاطر برداشت کیا تو یہ کیا کیا گل کھلا سکتے ہیں اس کا اندازہ چنداں مشکل نہیں ہمارا کام صورت حال پر دنیا کی توجہ دلانا ہے اور خطرات سے آگاہ کرنا ہے شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔

کارِمشکل۔۔۔ شوق موسوی
آگ لگ جائے تو غیر آئیں بجھانے کیلئے
آئیں گے چینی یہاں سڑکیں بنانے کیلئے
ہم سے کچرا بھی اٹھانا اس قدر دشوار ہے
غیر ملکی فرمیں آئیں گی اٹھانے کیلئے