- الإعلانات -

فوج کے وقار پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جہلم اور کھاریاں کینٹ میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آرمی ایک عظیم ادارہ ہے ‘ پاک فوج کا وقار ‘ ساکھ اور کردار فرائض کی ادائیگی سے برقرار رکھیں گے ۔ اس موقع پر آرمی چیف کو سینٹرل ہیڈ کوارٹرز میں آپریشنل تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے جہلم میں پارہ رینج میں فائرنگ مقابلوں کا معائنہ کیا اور مقابلے کے شرکاء کی کارکردگی کو سراہا۔ آرمی چیف نے انسداد دہشت گردی میں افسروں اور جوانوں کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے جہلم اور کھاریاں کینٹ کے دورہ کے موقع پر فوجی افسران اور جوانوں نے سوالات کئے جس کے آرمی چیف نے تفصیلی جوابات دیئے ، فوجی افسران اور جوانوں نے فوجی عدالتوں کی کارکردگی سے متعلق رانا ثناء اللہ خان کے بیانات پربرہمی کا اظہار کیا ایک انگریزی اخبار کی متنازعہ خبر پر بھی سوالات کئے ۔ فوجی افسروں نے سوال کیا کہ متنازعہ خبر کی تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں ‘ افسران نے شکوہ کیا کہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے فوجی عدالتوں کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دی ہے۔ آرمی چیف نے تمام سوالات کے تفصیلی جواب دئیے ۔ آرمی چیف نے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ اس امر کا عکاس ہے کہ پاک فوج اپنے وقار پر کوئی حرف نہیں آنے دے گی ۔ فوجی عدالتوں اور سابق آرمی چیف کو حرف تنقید بنانے والے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کررہے ۔ یہ پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے کہ ایک طرف وہ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے تو دوسری طرف سرحدوں پر اس کی کڑی نظر ہے اور وہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے بھی تیار ہے سیکورٹی لیکس سے متعلق فوجی افسران کے سوالات وقت کے تقاضے کے آئینہ دار ہیں ۔ وزراء کوپاک فوج اور فوجی عدالتوں پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے ۔ فوجی عدالتوں کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ان عدالتوں کے قیام سے انسانیت کے دشمنوں کو عبرتناک انجام سے دوچارہونا پڑا ۔ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے میں فوجی عدالتوں نے اہم کردار ادا کیا جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس لئے فوجی عدالتوں کی توسیعی میں دیر کرنے کی ضرورت نہیں پاک فوج کے سپہ سالار نے جس عزم کو دہرایا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فوج جیسے عظیم ادارے کی حرمت کا ہر صورت پاس رکھیں گے ۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے اور ان کے نیٹ ورک کو تباہ و برباد کیا ہے جس سے ملک میں امن کی فضا دیکھنے کو مل رہی ہے۔سیاستدان سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام لیں اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں ۔ پاک فوج کا جو کام ہے وہ کررہی ہے دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج کا کردار لائق تحسین ہے جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ پاکستان آرمی ایک عظیم ادارہ ہے اس کی ساکھ اور وقار کو مجروح نہ کیا جائے ۔ پاک فوج نے ہی ملک میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں ۔ سیاستدان اپنے مفاد کیلئے فوجی عدالتوں کی مخالفت سے گریز کریں۔آرمی چیف سابق سپہ سالار کی پالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھ کر ہی ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب قرار پاسکتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر کماحقہ عمل کرکے ہی ملک کو دہشت گردی سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ آرمی چیف نے جوکچھ فوجی افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے اور دوررس نتائج کا حامل ہے۔
چیف جسٹس کا اجلاس سے خطاب
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے افسران اور سٹاف سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں پر نظر رکھنا بھی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے ‘ نظام انصاف میں عدالتی عملہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے‘ عدالتی عملہ ایمانداری سے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ عدالتی عملہ کے بغیر انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ۔ لوگ عدالت میں داد رسی کیلئے آتے ہیں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ ہماری ذمہ داری ہے جبکہ سائلین کو قانون کے مطابق سہولت فراہم کرنا بھی ہماری ذمہ داری میں شامل ہے۔ نظام انصاف میں عدالتی عملہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چیف جسٹس نے بجافرمایا نظام انصاف میں عدالتی عملہ ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے اور اس کا عادلانہ کردار ہی معاشرے میں حصول انصاف کا باعث قرار پاتا ہے۔ اداروں پر نظر رکھنا بھی عدالت عظمیٰ کا فرض ہے قوم کی نظریں اس وقت عدالتوں پر لگی ہوئی ہیں ۔ منصفانہ اور عادلانہ عدالتی فیصلے ہی انصاف کی فراہمی اور داد رسی کا باعث قرار پاتے ہیں ۔ چیف جسٹس سے قوم کی امیدیں لگی ہوئی ہیں ہوئی کہ وہ پاکستان میں کرپشن زدہ اداروں کی تطہیر میں اہم کردار ادا کریں گے اور قانون پر عملداری اور اس کی بالا دستی ہر صورت قائم رکھی جائے گی۔ عادلانہ عدالتی نظام ہی قوم کی امنگوں کا ترجمان قرار پاتا ہے ۔ چیف جسٹس نے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ اس امر کا عکاس ہے کہ وہ لوگوں کو انصاف کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
پی ٹی آئی کا اجلاس
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہواجس میں پانامہ لیکس کے حوالے سے جاری سماعت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااور کیس کی پیش رفت پر اظہار اطمینان کیا گیا۔اجلاس میں اس بات کا اظہار کیا گیا کہ نون لیگ کے اقتدار کی کشتی میں پانامہ نے بڑا شگاف ڈالا ہے اور اب وزیر اعظم اور انکے وزراجھوٹوں سے اپنی کشتی کے سوراخ بند کرنے کی سر توڑ ناکام کوشش کررہے ہیں۔اجلاس میں یہ بات بھی زیر بحث رہی کہ قوم اب گواہ ہے کہ نون لیگ کے پاس قوم کے سوالوں کا جواب نہیں۔لیگی وکلا زبانی جمع خرچ کے ذریعے عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی خواہش ہے کہ ان سے جواب طلبی کی بجائے شک کا فائدہ دے کر انہیں بری کر دیا جائے۔ جس سے ثابت ہوا کہ اخلاق ،ساکھ کی وزیر اعظم کے ہاں نہ پہلے کوئی قدر تھی نہ آج ہے۔ تحریک انصاف کے جانب سے پیش کردہ شواہد کے بعد وزیر اعظم کیلئے فرار ممکن نہیں۔قوم صرف انصاف اور بے لاگ انصاف کی طلبگار ہے۔ پانامہ کیس پر جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا اتفاق اس امر کا عکاس ہے کہ سیاسی جماعتیں اس کیس کی بھرپور پیروی کررہی ہیں اور وہ پانامہ کو منطقی انجام تک پہنچانے میں بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ پانامہ کیس چونکہ زیر سماعت ہے اس پر مزید رائے زنی نہیں کی جاسکتی ۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ فیصلے کا انتظار کریں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز کریں۔ مقدمے کی اصل روح کے مطابق پیروی کرکے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ فیصلہ عدالت نے دینا ہے اس لئے عدالت سے باہر سیاسی بیان بازی ہماری نظر میں درست نہیں ہے۔ عدالتی فیصلے کا انتظار کرلینا چاہیے۔