- الإعلانات -

معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ڈیووس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم توانائی بحران، معاشی اور سماجی مسائل سے نمٹ رہے ہیں ، پاکستان کے معاشی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں ، عالمی ادارے پاکستانی معیشت میں بہتری کے معترف ہیں، ہم ادارے مضبوط کر رہے ہیں تاکہ دنیا پاکستان کا رخ کرے ، دوسرے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کررہے ہیں، جی ڈی پی کی شرح نمو بہتر اور مہنگائی انتہائی کم ہے ،اقتصادی راہداری منصوبے پر تیزی سے کام ہوا ہے ۔ سی پیک آہستہ آہستہ گیم چینجر بن رہا ہے۔ معاشی ترقی کے سبب پاکستان میں بے روزگاری میں کمی ہوئی ہے ۔ پاکستان کے معاشی اشاریے دن بدن بہتر ہو رہے ہیں اور پاکستان اچھی رفتار سے معاشی ترقی کررہا ہے ۔ عالمی ادارے اور میڈیا بھی پاکستانی معیشت میں بہتری کے معترف ہیں ۔ دوسرے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔ جی ڈی پی کی شرح نمو بہتر اور مہنگائی انتہائی کم ہے ۔ ماضی کے مقابلے میں محصولات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ سی پیک آہستہ آہستہ گیم چینجر بن رہا ہے ۔ خوشی ہے کہ تمام علاقوں کو ترقی کے یکساں ثمرات مل رہے ہیں ۔ سڑکیں بنتی ہیں تو لوگ قریب آتے ہیں اور ملک ترقی کرتے ہیں ۔ معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان میں بہترین روڈ نیٹ ورک بن رہا ہے۔ یہ کام آج سے 40,30 سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا مگر کسی نے توجہ نہیں دی۔ وزیراعظم نے جو کہاہے وہ بجا ہے لیکن معاشی ترقی کی رفتار میں تیزی لانے کی اشد ضرورت ہے جب تک معاشی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے اس کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوپائے گا اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کاسامنا ہے ۔ایک طرف دہشت گردی کاناسور ہے تو دوسری طرف سیاسی محاذ آرائی جس سے مسائل بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں جس ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو وہ کیا ترقی کرے گا اس وقت ایک طرف مہنگائی ہے تو دوسری طرف سماجی ناانصافی کابازارگرم ہے اور خودساختہ مہنگائی نے غریب عوام کی کمرتوڑ کررکھ دی ہے۔ اشیاء ضروریہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے دکاندارمنہ مانگے دام وصول کررہے ہیں اور انتظامیہ بے بسی کی تصویر بنی دکھائی دے رہی ہے۔رہی سہی کسر حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے نکال دی ہے جس سے عوام متاثر ہوئے ٹرانسپورٹروں نے کرائے بڑھادیئے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان تمام تر وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود غیرملکی قرضوں پرانحصار کررہاہے جو ناقص معاشی پالیسیوں کانتیجہ ہے جو ملک غیروں کادست نگر ہوگاوہ ترقی کیسے کرسکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ خود انحصاری کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کی تدبیرکرے اورایسی ٹھوس پالیسیاں اوراقدامات کرے جو معاشی ترقی کاباعث بنیں یہ افسوس کامقام ہے کہ پاکستان کو دنیا کے نقشے پرابھرے کئی سال بیت چکے لیکن ابھی بھی یہ مسائل کی دلدل سے نہیں نکل سکا حکومت کا یہ فرض قرارپاتا ہے کہ وہ ملک کی تعمیر وترقی کیلئے ایسے اقدامات کرے جو عوام کی خوشحالی کاباعث بنیں۔اقتصادی راہداری منصوبے سے انقلاب آئے گا لیکن سیاسی استحکام کے بغیرترقی وخوشحالی ناممکن ہے حکومت اس طرف توجہ دے اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات دورکرے اوران کو ساتھ لیکرچلے اور سیاسی پالیسیاں مرتب کرے جو بیرونی قرضوں سے چھٹکارا دلوانے کاباعث بنیں معیشت کی مضبوطی سے مسائل کا ادراک ہوپائے گا۔اس لئے ٹھوس معاشی اقدامات کئے جائیں۔
فوجی عدالتوں میں توسیع۔۔۔التواء کیوں
پارلیمانی قائدین کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے آئینی روم میں منعقد ہوا جس میں وزیرقانون و انصاف زاہد حامد اور وزیر مملکت ،معاون خصوصی انسانی حقوق بیرسٹر ظفراللہ نے حکومت کی نمائندگی کی۔اپوزیشن لیڈر سیدخورشید شاہ،سید نویدقمر،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی،ڈاکٹر شیریں مزاری،جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان،وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات اکرم خان درانی،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور،اعجاز الحق،قومی وطن پارٹی کے صدر آفتاب احمد شیرپاؤ،مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما غوث بخش مہر،مسلم لیگ ق کے رہنما طارق بشیر چیمہ،عوامی مسلم لیگ کے صدرشیخ رشید احمد و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعتوں نے بھی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی شدید مخالفت کی ہے۔مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی نے بھی واضح کردیا ہے کہ ان عدالتوں کی حمایت نہیں کی جاسکتی ۔اپوزیشن جماعتوں نے بریفنگ کیلئے جو مزید سوالات اٹھائے ہیں وہ فرقہ وارانہ و کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں،مدارس کے معاملات،نظام عدل میں مجوزہ اصلاحات اور دیگر اہم معاملات کے بارے میں ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہاکہ یہ معاملات انتہائی حساس ہیں،دہشتگردی کا خاتمہ ہماری ترجیح بھی ہے اور قومی ضرورت بھی ہے،وزیرقانون نے بریفنگ دی ہے جس سے مزید سوالات اٹھ گئے ہیں،حکومت سے کہا گیا ہے کہ آئندہ اجلاس میں ان سوالات کے جوابات دیئے جائیں۔پارلیمنٹ کو آگاہ کرنا ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی کیا ہے۔آئندہ اجلاس 31جنوری کو ہوگا۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردی اور انتہاپسندی ایک بہت بڑا چیلنج ہے جوکہ ہمارے لیے مشترکہ طور پر چیلنج کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔وزیرقانون وانصاف زاہد حامد نے بھی تصدیق کی کہ اپوزیشن جماعتوں نے مزید سوالات اٹھائے ہیں،مشیر قانون و انصاف بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتیں جب تک اتفاق نہیں کرتیں فوجی عدالتوں کے معاملے پر کچھ نہیں کرسکتے،تمام جماعتیں اس بات کا ادراک رکھتی ہیں کہ اس پر سیاست نہ کی جائے ہم نے تفصیل سے بریفنگ دے دی ہے،فوجی عدالتوں اور نیشنل ایکشن پلان پر اعتماد میں لیا ہے،آئندہ اجلاس میں سوالات کے جوابات دے دیئے جائیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ دہشتگردی کا خاتمہ سب کی ترجیح ہے مگر ہم نے کارکردگی کا جائزہ بھی لینا ہے اس لیے ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس طلب کرکے سیکیورٹی اداروں کی طرف سے بریفنگ لی جائے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کہاں کھڑا ہے،اب تک کیا کچھ کیا ہے اور جو پیشرفت ہوئی ہے اس سے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے،یقیناً دہشتگردی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور پوری قوم نے ضرب عضب کی کامیابیوں کا اعتراف کیا ہے،مزید سوالات کی تشفی ضروری ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے کہاکہ دوسرا اجلاس بھی انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا اور تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس میں رویہ انتہائی مثبت ہے۔فوجی عدالتوں کی توسیع میں حکومت اوراپوزیشن کو اتفاق رائے پیدا کرناچاہیے فوجی عدالتیں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ممدومعاون ثابت ہورہی تھیں سیاسی تدبر اوربصیرت سے کام لیتے ہوئے حکومت اوراپوزیشن فوجی عدالتوں کے توسیع کے معاملے کو حل کرے ان عدالتوں کاالتواء کسی بھی لحاظ سے درست قرارنہیں دیاجاسکتا۔