- الإعلانات -

مودی سرکار اور حسینہ واجد کا مخاصمانہ رویہ

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں منعقدہ سالانہ کانفرنس’رائی سینا ڈائیلاگ‘ کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے اور مذاکرات کا خواہاں ہے تو اسے خود کو دہشت گرد سرگرمیوں سے الگ کرنا ہوگا۔اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔انہوں نے اسی ترنگ میں یہ بھی دعوی کر ڈالا کہ ہمارے وہ پڑوسی جو تشدد، نفرت اور دہشت گردی کو سپورٹ کرتے ہیں وہ تنہا کھڑے ہیں اور انہیں نظر انداز کردیا گیا ہے‘‘۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مودی کے دعوے کی نفی خود اسکے لہجے کی بوکھلاہٹ کررہی ہے۔مودی نے اپنی قوم کو پاکستان کے حوالے سے جس بدگمانی میں مبتلا کررکھا ہے اس سے نہ وہ نکل سکتی ہے نہ خود مودی نکلنے جوگے رہے ہیں۔جوں جوں پاکستان کے خلاف بلند آہنگ الزامات کے غبارے سے ہوا نکل رہی ہے توں توں وہ خطے میں تنہائی محسوس کرنے لگے ہیں۔پاکستان اللہ کے فضل سے آگے کی طرف گامزن اور عالمی برادری اسکے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگلے روز برطانیہ نے سی پیک میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کردی ہے جبکہ اس سے قبل روس ایران اور دیگر ملک بھی شریک ہونے جارہے ہیں۔ہاں اس وقت خطے میں افغانستان اور بنگلہ دیش کی صرف حکومتوں کی صورتحال ایسی ہے جن کے سربراہ مودی کی ڈگڈگی پر محو رقص رہتے ہیں۔اشرف غنی اور شیخ حسینہ واجد کی اپنے اپنے ملک میں کیا ساکھ ہے، وہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ڈاکٹر غنی کو اقتدار کن شرائط پر حوالے کیا گیا اس سے سب آگاہ ہیں جبکہ شیخ حسینہ واجد دو سال قبل 5 جنوری 2014ء کو جس طرح کے متنازعہ انتخابات سے منتخب ہو کر برسراقتدار آئیں اس پر اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیا کی بی این پی اس دن کو گزشتہ تین سال سے یوم سیاہ کے طور منا رہی ہے۔5جنوری 2017کو بنگلہ دیش نیشنل پارٹی بیلجیم برانچ نے یورپیئن کمیشن برسلز کے سامنے حسینہ واجد حکومت کیخلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کرکے جمہوریت کے قتل کے دن کے طور منایا۔ بیلجیم میں مقیم بنگالی کمیونٹی نے اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کی اور مطالبہ کیا کہ جمہوریت پسند کہاں ہیں ہمیں انکی مدد کی ضرورت ہے اور بنگلہ دیش کو حسینہ واجد کی ناجائز حکومت کے قبضے سے چھڑایا جائے۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ہم گزشتہ تین سال سے اس دن کو جمہوریت کے قتل کے دن کے طور پر منا رہے ہیں۔پانچ جنوری 2014 کو ہونے والے جعلی الیکشن کی مذمت کرتے ہیں،ان انتخابات سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بنگلہ دیشی عوام کے حقوق کی پامالی ہوئی۔حسینہ واجد حکومت اور اسکی ایجنسیاں جمہوری اپوزیشن کے خلاف ریاستی دہشت گردی کررہی ہیں۔عدالتوں کے ذریعے اپوزیشن کا گلہ گھونٹا جارہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بنگلہ دیش میں عدالتوں میں بھی سیاست اس بری طرح داخل ہو چکی ہے کہ انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے گزشتہ برس اپنی رپورٹ میں یہ تک کہا تھا ہے کہ عدالتیں بجائے قانون کی حکمرانی کو سہارا دینے کے، اس کی بیخ کنی کر رہی ہیں۔برسلز ہی میں قائم عالمی انجمن نے سیاسی تنازع، شدت پسندی اور مجرمانہ انصاف نامی رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں عوامی لیگ کی حکومت کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ جرائم کے خاتمے کے بجائے حزب اختلاف کو کو ختم کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کی وجہ سے جیلیں بھر چکی ہیں۔رپورٹ کہتی ہے کہ اب ایک ایسا نظام انصاف بنگلہ دیش میں موجود ہے جو دو انتہاؤں کے درمیان جھول رہا ہے، عام مقدمات میں انتہائی سست اور ناکارہ اور سیاسی مقدمات میں انتہائی تیز اور اہم پہلوؤں کو بالائے طاق رکھ کر فیصلہ کرنے والا۔ ایسا عدالتی ماحول ملک میں شدت پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔ رپورٹ حکمران عوامی لیگ اور حزب اختلاف کی اہم جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے درمیان تنازع کے بارے میں کہتی ہے کہ یہ اب اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے اور ملک میں بحران کا بنیادی سبب ہے‘‘۔
عوامی لیگ نے جنوری 2014ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد چند ہی مہینوں میں حزب اختلاف کے 24 ہزار رہنماؤں اور کارکنوں کو مقدمات میں گھسیٹا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، 1971ء کی جنگ میں مبینہ جرائم پر جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو بھی پھانسی دی جا چکی ہے،حالانکہ 9اپریل 1974 کو پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ اس جنگ کے کسی کردار کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔شیخ مجیب اور بعدازاں ان کے بعد جتنی بھی حکومتیں اقتدار میں آئیں انہوں نے اس معاہدے کی پاسداری کی،لیکن حسینہ واجد کی پاکستان کے خلاف نفرت کی آگ ختم نہیں ہورہی،اور اپنے باپ کے معاہدے کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ لیا ہے۔ جنونی حسینہ کی اس پالیسی کی وجہ سے پاکستان سے اسکے تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں۔شیخ حسینہ واجد کو اگر غصہ ہے کہ 71ء میں ان کے لوگوں کے ساتھ مظالم ہوئے، تو وہ اگر درست یا غلط تھے بھی تو شیخ مجیب اپنی زندگی میں معاف کر گئے تھے۔ حسینہ واجد کا یہ مخاصمانہ رویہ بنگلہ دیش کی ساکھ کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔2010ء میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل انہوں نے اپنی جس انتقامی پالیسی کااعلان کیا تھا کہ وہ ’جنگ آزادی ‘ کے ’باغیوں ‘ کو ٹھکانے لگائیں گی،اس پر وہ پوری طرح کاربند ہیں اورایک عدالتی ٹربیونل کا استعمال کررہی ہیں۔خالدہ ضیا کی بی این پی اگر پانچ جنوری کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے توغلط نہیں کررہی۔