- الإعلانات -

نیا امریکی صدر

آج جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے نئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بطور 45 ویں امریکی صدر کا پہلا دن گزر چکا ہو گا جہاں ان کو اس بریف کیس پر دسترس دے دی جائے گی جس میں نیوکلیائی بٹن ہوتا ہے اور امریکی صدر ایٹمی حملہ کرنے کی براہ راست صلاحیت حاصل کر لیتا ہے جس کی تربیت اس کو انتخابات کو بعد سے لیکر 20 جنوری تک کی بریفنگز میں دی جاتی ہے اور سب رازوں کی امانت داری بھی اسے سونپ دی جاتی ہے ڈونلڈ ٹرمپ کا دور امریکہ کے تمام پچھلے ادوار سے مختلف ہوگا امریکہ پوری تاریخ گواہ ہے کہ وہ لگی بندھی اور مسلسل پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے جس کے کئی component ہیں جن میں سی آئی اے ،ایف بی آئی ،پینٹاگون اور ہوم لینڈ سیکیورٹی شامل ہیں اور ہر آنے والے امریکی صدر کے پاس جو صرف 4 سال کیلئے آتا ہے اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ کوئی ایسے فیصلے کرے جس سے ان طے شدہ خطوط میں کوئی جوہری یا بنیادی تبدیلیاں لا سکے اس میں خارجی داخلی تجارتی دفاعی اور دیگر امور ہیں طے شدہ ہوتے ہیں حتی کہ کانگریس اور امریکی سینٹ بھی ان پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کرسکتے خصوصا بیرون ملک فوجی آپریشن جنگی مشین کی نقل و حرکت اور فوجی یونٹوں کے قیام و سفر دوسرے ممالک سے سفارتی تعلقات جو سفارتی کم اور حاکمانہ زیادہ ہوتے ہیں ان امور میں سی آئی اے کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن ڈونالڈ ٹرمپ ان پالیسیوں سے انحراف کا اظہار اعلانیہ طور پر کر چکے ہیں جس پر دو روز قبل امریکی سی ائی اے کے سربراہ تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور ان کو روس کے تعلق سے ایک طرح کا انتباہ بھی دے چکے ہیں اور سی آئی اے کہ چکی ہے کہ روس نے الیکٹرونک ووٹنگ نظام میں مداخلت کی تھی اور اوبامہ انتظامیہ متعدد روسی سفارتی عملے کو نا پسندیدہ شخصیات قرار دے کر واپس بھجوا چکی ہے اور امریکہ روس کو امریکی سیکوریٹی کے لئے رسک قرار دے چکا ہے لیکن روس نے اس کے ردعمل میں کوئی قدم نہیں اٹھایا روایت ہے کہ الیکشن کے دوسرے روز نو منتخب صدر کو موجودہ صدر کی جانب سے ناشتے پر بلایا جاتا ہے دونوں صدور کی یہ پہلی ملاقات بھی تلخی پر منتج ہوئی تھی اور صدر اوباما کی جانب سے کل آنے والا بیان بھی یہی بتا رہا ہے کہ خارجہ پالیسیوں کی نزاکتوں کے سبب ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی ہماری ہی پالیسیوں کو اپنانا پڑے گا نو منتخب امریکی صدر کہ چکے ہیں کہ ہم اپنی ملازمتیں غیر ملکیوں کو نہیں دیں گے دراصل امریکہ کے کئی بنکوں اور دیگر کئی بڑے اداروں نے اپنے کال سنٹر انڈیا میں کھول رکھے ہیں۔ امریکی صارفین کی جانب سے امریکی بنکوں اور دیگر ہزاروں اداروں میں کی جانے والی کالوں کے جوابات انڈیا جیسے ملکوں میں بیٹھے لوگ دیتے ہیں ان افراد کی تعدار لاکھوں میں ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ یہ کال سنٹر ختم کرکے یہ کام امریکیوں سے امریکہ کے اندر ہی کروانا چاہتا ہے تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو قابو میں لایا جا سکے تو اس عمل سے انڈیا کا متاثر ہونا یقینی ہے اور انڈیا چونکہ امریکی مصنوعات اور خدمات کا بڑا خریدار ہے تو انڈیا کی جانب سے کوئی ردعمل آنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا اسرائیل کیلئے نئے امریکی صدر کے نرم رویے پر اسرائیلی وزیراعظم خوشی سے بغلیں بجا رہا ہے اور ٹرمپ اسرائیل کا دارالحکومت یروشلم منتقل کرنے کا بڑا پرجوش حامی ہے جب کہ صدر اوبامہ اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان گفتگو عملاً بند تھی یورپین یونین نے بھی اسرائیلی دارالحکومت یروشلم منتقلی پر اپنے تحفظات کا نہ صرف اظہار کر چکی ہے بلکہ اس عمل کی مخالفت کا اعلان بھی کر چکی ہے ادھر ٹرمپ جیسی سیمابی شخصیت نے چین سے بھی پنگا یوں لیاکہ انتخابی نتائج آتے ہی تائیوان کے صدر کو فون کرکے اسے مڑدہ سنایا کہ امریکہ آئندہ دو چین کی پالیسی پر عمل کرے گا حالانکہ 1972 کے بعد امریکہ ایک چین کے فارمولے پر عمل کرتا رہا ہے چین نے اس پر شدید ردعمل کا اظہارکیا ہے کہ چین اس معاملے میں امریکہ سے کوئی بات نہیں کرے گا ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف ایسے اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے جس سے مسلمانوں کی امریکہ آمد اور قیام مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے بلکہ مسلمانوں نے ٹرمپ مخالف تنظیموں کے ساتھ مل کر واشنگٹن میں مظاہرے شروع کر دیئے ہیں جس میں 50 امریکی ریاستوں سے لوگ شریک ہو رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ خود سفید فام امریکی لوگ بھی ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم تحفظ کا شکار ہیں اور دیگر حلقے بھی بہت ابہام کا شکار ہیں کہ اس متلون مزاج شخص کے دور میں امریکہ کا کیا بنے گا اور دنیا میں مسلم ممالک کی بہت بڑی تعداد امریکہ کی ضرورت رہے گی جس میں مسلم سرمائے اور سیکیورٹی کا بہت بڑا رول ہوگا اس سے ٹرمپ کیسے نمٹیں گے بر صغیر کے حوالے الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ کشمیر دنیا کا ایک بڑا فلیش پوائنٹ ہے اور میں اقتدار میں آتے ہی دونوں ملکوں کو ساتھ بٹھا کر اس معاملے کا تصفیہ کروائیں گے لیکن انڈین لابی کی کوششوں سے اجیت دوول جیسے لوگوں سے ٹرمپ کی ٹیم ملاقاتیں کرتی رہی ہے اور آنے والے دنوں میں نئے امریکی صدر کو رام کرنے اور اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش جاری ہے اور ہمارے مشیر خارجہ امریکہ میں اپنے خاندان کے ساتھ پکنک مناتے رہے اور ٹرمپ کی ٹیم کے کسی فرد کی جانب سے کوئی ملاقات یا پذیرائی نہیں ہوئی ہمارا کوئی وزیرخارجہ ہی نہیں یہ ٹوپی بھی وزیراعظم ہی نے پہن رکھی ہے البتہ ایک پھرتی یہ دکھائی گئی کہ آف دی ریکارڈ گفتگو کو پاکستانی عوام کو الو بنانے کیلئے عام کردیا گیا جس میں وزیراعظم کو کوئی بڑا مدبر اور نجات دہندہ قراردیا جس بات کس ٹرمپ کی ٹیم نے برا منایا اور اسے بچکانہ حرکت قرار دیا اور یوں ہم نے سب کی کا سامان خود ہی پیدا کیا اس سے پہلے ورلڈ بینک کے نام پر اسحاق ڈار کو دنیا کا عظیم ترین اکانومسٹ قراردیا گیا جس کی ورلڈ بنک نے تردید کردی کہ ہمارا اس بیان سے کوئی تعلق نہیں لیکن شرم کس کیا ہے یہ تو آنی جانی چیز ہے آتی جاتی رہے گی قومی وقار کوئی بکنے والی چیز تھوڑی ہی ہے کہ جس سے پیسے ملیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں کس بھی قیمت پر قرضوں پر قرضے لئے جا رہے ہیں اور پانامہ کی دل دل نے حکمرانوں کو لت پت کر رکھا ہے اوبامہ حکومت کی جانب سے واضح اشاروں کے باوجود ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے خط نہیں لکھا گیا شاید نئی امریکی حکومت کو شکیل آفریدی کو پلیٹ میں رکھ کر امریکہ کو پیش کردیا جائے اور ڈاکٹر عافیت کو لیکر اگلے الیکشن میں یہ نام استعمال کیا جائے اور نوکری بھی پکی ہو جائے ہماری اپنی بھی ایک حیثیت اور اہمیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتاشرط یہ ہے کہ ہم بھکاری نہ بنیں اور اپنے وقار کا مظاہرہ کریں جس کا امکان ذرا کم ہی دکھتا ہے تو پھر ضعیف کی سزا مرگ مفاجات ہی ہوا کرتی ہے اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین
*****