- الإعلانات -

خطے کا استحکام

گزشتہ چند سالوں کو چھوڑ کا پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں اور افغانستان کی سرحد کے اِس پار رہنے والے بیسیوں نہیں سینکڑوں لوگوں کے دل افغانستان کے ساتھ دھڑکتے رہے ہیں۔ جس کی واضح مثال روس کے خلاف افغان جہاد کے موقع پر سامنے آئی جب پاکستان سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان میں روس کے خلاف لڑتی رہی۔ امریکہ سمیت دیگر طاقتیں افغانستان اور پاکستان کی معاونت کرتی رہیں تاکہ روس کو اس خطے سے نکالا جا سکے۔ ظاہر ہے بڑی طاقتوں کو افغانستان اور پاکستان کی سالمیت سے اتنا سروکار نہیں ہوتا وہ اپنے ایجنڈے پر کام کر رہی ہوتی ہیں۔ اس وقت کے امریکی صدر ریگن نے افغانستان کے جہادیوں کو اپنے آباؤاجداد کے ساتھ تشبیہ دی تھی کہ جنہوں نے امریکہ کی آزادی کے لئے طویل جنگ لڑی لیکن امریکہ کے پاس ان جہادیوں کے لئے بیس سال بعد کا بھی ایک پلان تھا جس کے ذریعے انہی جہادیوں کو شدت پسندوں کی صورت میں اسے خطے میں ایک خوف کی علامت بنا کر کھڑا کرنا تھا۔ گزشتہ 15سالوں سے لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایسا ہی ہوا۔بین الاقوامی سطح پر حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ شدت پسند اپنی ریاستوں کے خلاف ہی نبرد آزما ہو گئے۔ جن کی سرکوبی کے لئے پوری قوم اور ریاست نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ افغانستان میں تو پہلے ہی چھوٹی چھوٹی پاور پاکٹس تھیں اور چھوٹے چھوٹے وار لارڈز اپنے اپنے علاقوں میں ’پھوتی خان‘ بنے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف خون کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں ایسی قوم اور ملک کی تاک میں ہوتے ہیں جو قومیں ازل سے آپس میں لڑ رہی ہوں ان میں اس لڑائی کو مزید بھڑکانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ نیپ کے ایک پرانے کارکن جمعہ خان صوفی کی کتاب ’’فریب ناتمام‘‘ کے مطابق افغانی صدر نجیب آ اور اس سے پہلے کی حکومتوں کے ادوار سے ہی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جاتی رہی ہے۔ اس وقت افغانستان کو بھارت اور روس کی معاونت حاصل تھی اور اس معاونت کا واحد مقصد پاکستان کو غیرمستحکم کرنا تھا۔ اب روس تو ظاہر ہے کہ افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ایسا کچھ نہیں کر رہا۔ لیکن بھارت بہرحال آج بھی پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین اور غیر ریاستی عناصر کو استعمال کر کے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہا۔ حال ہی میں افغانستان کی ایک معروف خاتون شربت گلہ پاکستان کا شناختی کارڈ حاصل کرنے کے جرم میں پکڑی گئی اور بعد ازاں رہا ہو کر افغانستان پہنچی تو بھارت نے فوراً شربت گلہ کے علاج معالجے کی آفر پھینک دی۔ ’فریب ناتمام‘ پڑھیں تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کئی دہائیوں سے بھارت افغان رہنما?ں اور ان کے خیرخواہوں کو اپنے ہاں طبی معائنے کے چکر میں مہمان ٹھہراتا چلا آ رہا ہے۔ افغانستان کو اب اپنے ہاں بھی اچھے ہسپتال قائم کر لینے چاہئے اور اپنے اداروں کو مضبوط بنانا چاہئے۔ 70کی دہائی تک کابل یونیورسٹی کا کبھی دنیا بھر میں ایک نام تھا۔ جسے تباہ و برباد کر دیا گیا تاکہ وہاں تعلیم کے ذریعے روشنی نہ پھیل سکے۔ بین الاقوامی طاقتوں کو تباہ حال اور جنگ و جدل کا شکار افغانستان ہی سوٹ کرتا ہے۔ اب اتنے زخم کھانے کے بعد اور غیرملکی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بعد افغانستان کو چاہئے آپس میں تمام مخالف دھڑوں کو مل بٹھانے کے کوئی صورت نکالے۔ وہاں آج بھی کوئی دھماکہ ہو جاتا ہے تو اس کا الزام بھارت کی طرح فوری طور پر پاکستان پر عائد ہو جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف گزشتہ 15سالہ جنگ سے بہت کچھ سیکھ چکا ہے۔ پاکستان کے شہریوں اور افواج پاکستان نے بے پایاں قربانیاں دی ہیں۔الحمداللہ پاکستان کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پا چکا ہے اور آج اس کے عوام ایک بہتر اور پرامید زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آج پاکستان کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ خطے میں دیرپا امن ہی سے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان خدانخواستہ افغانستان کے اندر حملوں کی کیونکر پشت پناہی کرے گا۔ پاکستان کو تو خود افغانستان کی سرحدوں سے شدت پسندوں کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ایسے کئی واقعات ہوئے جب افغانستان کی طرف سے پاکستان کی حدود کے اندر چیک پوسٹوں اور دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کنٹر اور نورستان میں شدت پسند ڈیرے جمائے بیٹھے رہے۔ اور وہ افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کی آنکھوں سے اوجھل بھی رہے۔ حتی کہ امریکی ڈرونز بھی اْنہیں دیکھنے سے قاصر رہے۔ بہرکیف امریکی ڈرونز ہر اْس بندے کو ضرور ہٹ کر دیتے جس سے ذرا برابر بھی امید ہوتی کہ وہ لڑتے ہوئے طالبان کو امن کی ترغیب دے سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بہرطور اس حوالے سے بہت کلیئر ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں بلکہ اب وقت ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے میں تعاون کرے۔ افغانستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی افغانستان کے صدر کو فون کر کے افغان حکومت اور عوام کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیااور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا فائدہ دونوں ملکوں کو اٹھانا ہے اور بلیم گیم سے امن دشمن مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے موثر بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی تجویز بھی دی تاکہ خطے سے شدت پسندوں کے نیٹ ورک کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع ہو سکے۔
بلاشبہ اب خطے کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جہاں افغانستان کی قیادت کو اپنے ہاں موجود ایسے عناصر پر کڑی نگاہ رکھنی ہے جو دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو گزند پہنچانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حال ہی میں افغانستان میں جو دہشت گردی کا واقعہ ہوا تو اس کے بعد افغانستان میں پاکستان سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ ظاہر ہے افغانستان میں موجود بھارتی اور پاکستان مخالف لابی اس قسم کے احتجاج کروا کر پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ بہرطور افغانستان کی قیادت اور عوام کو یہ خود دیکھنا ہو گا کہ اْن کی بھلائی کس میں ہے۔ خطے میں دیرپا امن صرف اور صرف بہتر اور مثبت پالیسیوں کے ساتھ ہی قائم کیا جا سکتا ہے اور یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بلیم گیم کا راستہ اختیار کرنے سے حالات خراب ہی ہوتے ہیں بہتر نہیں کئے جا سکتے۔