- الإعلانات -

موت کا وقت اور جگہ متعین ہے

uzairahmedkhan

کوئی کسی کے گھر میں مرضی کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا ۔اگر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد گھرکا مالک دروازہ نہ کھولے اور آنیوالے کو ا ندر آنے کی اجازت نہ دے تو وہ یقینی طور پر واپس چلا جائیگا ۔پھر ایک یہ بھی طے ہے کہ جس کا وقت جہاں کالکھا ہوا ہو ۔وہ وہیں پر تمام ہوتا ہے ۔جہاں کی مٹی ہو وہیں جاکر مدفن ہوتا ہے ۔ان دونوں باتوں پر کوئی دوسری رائے نہیں ۔آج دنیا سانحہ منیٰ اور حرم پاک میں کرین حادثے کے حوالے سے طرح طرح کی آوازیں اٹھارہی ہے ۔کوئی کچھ کہہ رہا ہے ،کوئی کچھ کہہ رہا ہے جبکہ مفتی اعظم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اللہ کے کاموں میں کسی طرح مداخلت نہیں ہوسکتی لہذا یہ بات بھی طے ہے کہ جو واقعہ وقوع پذیر ہونا ہو اس نے ہونا ہی ہوتا ہے ۔حرم پاک جانیوالا ہر شخص یہ دعا کرتا ہے کہ اگر اس کی زندگی کے دن پورے ہورہے ہوں تو خدا تعالیٰ اسے مکہ مدینہ میں ہی عزیز کرلے اوروہیں پر جاکر دفن ہوجائے ۔اللہ تعالیٰ اس کو جنت البقیع میں جگہ عطا فرمائے تو یقینی طور پروہاں پر وفات پانیوالے خوش نصیب ہی ہوتے ہیں ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ حرم پاک اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور جس کو وہ چاہتاہے وہاں بلاتا ہے کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے نہیںجاسکتا ۔جب اس کاحکم ہوتا ہے تب ہی ایسے وسیلے بنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حج جیسی مبارک سعادت سے نوازتا ہے ۔حج کے دوران ماضی میںبھی مختلف حادثات ہوتے رہے ہیں ۔سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ہونیوالے حادثات کے حوالے سے تحقیقات ہورہی ہیں اور جوبھی حقیقت ہوگی اس کو سامنے لایا جائیگا ۔یہ حادثہ کیوں پیش آیا،کس وجہ سے پیش آیا یہ ایک طویل بحث ہے اس میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیا وہاں پرجانیوالے حجاج کرام کا بھی کوئی قصور ہے یا نہیں ۔اس بات سے ماوراءکہ عازمین حج قصوروار ہیں انہیں قصور وار قرار نہیں دیاجاسکتا ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ جوبھی ممالک ہیں اور جہاں سے حاجی صاحبان حج ادا کرنے جاتے ہیں وہاں پر ان کی اس حوالے سے باقاعدہ تربیت ہو اور گروپ لیڈر ہمیشہ تجربہ کار ہونا چاہیے ۔جس نے کم از کم دو یا تین بار حج ادا کیا ہو ۔اسے وہاں کے حالات اور واقعات کے بارے میں پوری طرح علم ہو اور جب وہ اپنے گروپ کو لیکرنکلے تو گروپ اپنے امیر کی قطعی طور پرپابندی کرے ۔ہمارے وطن پاکستان میں ایک بات بہت اہم ہے کہ جب بھی ہم پچاس سال کی عمر کراس کرتے ہیں تو اس وقت یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے تو اب حج کرلینا چاہیے ۔دراصل حج باقاعدہ ایک جسمانی مشقت بھی ہے اور بہتر تو یہ ہے کہ اس کو چالیس سال سے پہلے کی عمر میں ہی ادا کیاجائے ۔اس وقت انسان کی جان اور صحت اس قابل ہوتی ہے کہ وہ احسن طریقے سے مناسک حج ادا کرسکتا ہے ۔جب وہ پچاس سال سے زیادہ کی عمر میں پہنچ جاتا ہے تو اس وقت اس کی جسمانی قوت میں خاصا فرق آچکا ہوتا ہے چونکہ وہاں پر دنیا بھر سے مسلمانوں کی آمد ہوتی ہے،ہر شخص اپنی طبیعت کا مالک ہوتا ہے ،رش لاکھوں میں ہوتاہے اگرخدانخواستہ کوئی دھکم پیل ہوجائے تو زیادہ عمر کے جو عازمین ہوتے ہیں وہ اس کو برداشت نہیں کرسکتے ۔اس وقت ایک آواز اور بھی اٹھ رہی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے ۔تو راقم یہاں یہ واضح کرناچاہتاہے کہ وہاں پر خود متعدد بار گیا سعودی حکومت کے انتظامات پر کوئی دو رائے نہیں ۔وہاں کے انتظامات انتہائی اعلیٰ ترین ہوتے ہیں ،باقاعدہ سیکورٹی کیلئے فوج موجود ہوتی ہے اور حاجیوں کی رہنمائی کیلئے بھی جگہ جگہ عربی اہلکار موجود ہوتے ہیں ۔گو کہ زبان کا ضرور فرق ہے لیکن وہ اشاروں سے واضح کرتے رہتے ہیں کہ اس جانب روانہ ہوں اور اب اس جانب روانہ ہوں ۔میدان عرفات میں فرمانروا کی جانب سے لاکھوں حجاج کرام کی دعوت ہوتی ہے ۔جو کہ پوری دنیا میں ایک اپنی مثال ہے ۔پھر وہاں پر جس وافر مقدارمیں کھانے پینے کی اشیاءعازمین حج کو فراہم کی جاتی ہیں اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی ۔پانی سے لیکر ٹوتھ پیسٹ تک ہر چیز پیکنگ میں موجود ہوتی ہے ۔جگہ جگہ منرل واٹر کی سبیلیں اور وہاں پر ”لبن“لسی وافر مقدار میں فراہم کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ بھی بہت ساری کھانے پینے کی دنیاوی نعمتیں بالکل مفت دی جاتی ہیں ۔دھوپ سے بچنے کیلئے چھتریاں تک فری فراہم کی جاتی ہیں ،اس کے علاوہ بھی بہت سارے ایسے انتظامات ہیں جن کے بارے میں اگر یہاں تحریر کیا جائے تو شاید کالم میں جگہ تھوڑی پڑ جائے لہذا خوامخواہ مورد الزام ٹھہرانا کوئی جواز نہیں ۔ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو درست کریں اب اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کا وقت کہیں پر لکھ دیا ہے تو وہ یقینی طور پر وہاں پر ہی پہنچے گا ۔حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں ایک مرتبہ ایک شخص ایک دوسرے شخص کو گھورے جارہا تھا جب وہ چلا گیا تو اس شخص نے حضرت سلیمان ؑ سے پوچھا کہ یہ کون تھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ موت کا فرشتہ تھا ۔تو اس شخص نے کہا کہ آپ مجھے ایسی جگہ پہنچا دیں جہاں یہ نہ آسکے ۔حضرت سلیمانؑ نے ہوا کو حکم دیا کہ وہ اسے کہیں دور پہنچا دے ۔اس شخص کو ہوا نے فوراً وہاں پہنچا دیا ۔جیسے ہی وہ وہاں پہنچا تو وہی شخص پہلے سے وہاں موجود تھا تو اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ اس کی روح اس جگہ قبضے میں لی جائے ۔میں سوچ رہا تھا کہ تو کس طرح اس جگہ پہنچے گا سو تو پہنچ گیا اور اس کی وہاں پر زندگی تمام ہوگئی ۔لہذا جن کی اموات حرم پاک یا منیٰ میں لکھی جاچکی تھیں ان کی جانیں وہاں ہی جانی تھیں ۔کسی پر انگشت نمائی کرنے کی بجائے ہمیں اپنے گریبان میں دیکھنا ہوگا ۔