- الإعلانات -

جائنٹ ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کیوں نہ بن سکا؟

وزیر داخلہ مملکت بلیغ الرحمن نے سینیٹ میں بتایا ہے کہ سال 2017 میں دہشت گردی کے 10 واقعات ہوئے ۔ 2017ء میں دہشت گردی کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوئے اور 31 زخمی ہوئے ۔ 2013ء سے اب تک ملک میں دہشت گردی کے 5321 واقعات پیش آئے ۔ ان واقعات میں 4613 افراد جاں بحق اور 12188 زخمی ہوئے ۔ بلیغ الرحمن نے کہاکہ بعض غیر ملکی حساس ادارے بھی پاکستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ کرتے ہیں ۔ پاک افغان سرحد پر سرگرم مسلح تنظیمیں منشیات فروشوں سے بھی رابطے میں رہتی ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر سرگرم رہتے ہیں اور حکومت نے ایف آئی آر اے کے تحت 498 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں کمی اور اعدادوشمار پر نظرثانی جاری ہی تھی کہ فاٹا کی ایجنسی پارا چنار میں ہفتے کے روز صبح کے وقت عید گاہ مارکیٹ کے قریب سبزی و فروٹ منڈی میں دھماکہ ہوگیا جس کے نتیجے میں بیس سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے دھماکے کے بعد کالعدم تنظیم لشکر جھنگو ی کی طرف سے یہ پیغام عام کیا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر یہ دھماکہ کیا گیا ۔ یہ بات ذہن میں ہونی چاہیے کہ فاٹا دہشت گردی کا مرکز رہا ہے اور آج تک فوجی آپریشن جاری ہے، دہشت گردی اور شدت کے خاتمے کیلئے میں نے کئی بار اپنے کالمز میں یہ لکھا ہے کہ متشدد ذہنیت چاہے کوئی بھی ہو وقتی مفاد حاصل کرنے کیلئے وہ کبھی بھی ایک ہوسکتی ہے۔ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کا یہ دھماکہ کرنا فرض کریں صحیح مان بھی لیا جائے تو متشدد ذہنیت رکھنے والے گروہوں کا ایک صفحے پر جمع ہونا نظر آتا ہے ۔ بلیغ الرحمن صاحب کی رپورٹ پیش کرنے کے دھماکے کے بعد معلوم ہورہا ہے کہ ہمیں زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے شدت پسندی اور دہشت گردی کا وجود اب بھی کہیں نہ کہیں باقی ہے باوجود اس یقین کہ پاکستانی قوم نے اس کو کم کرنے کیلئے بہت سی قربانیاں دیں ہیں ۔ پاکستانی حکومت جس کا اصل کام یہ ہے کہ وہ متشدد ذہنیت اور منفی سوچ کے حامل افراد جو گروہوں کی شکل میں موجود ہیں ان پر نظرکھے اور قانون کے ذریعے ان کو روکے اس ضمن میں سول و فوجی اداروں کے افسران اور جوانوں نے قربانیاں بھی دیں ہیں جو لائق تحسین بھی ہیں۔ وزیر داخلہ مملکت پاکستان بلیغ الرحمن نے یہ کہا ہے کہ غیر ملکی حساس ادارے پاکستان میں ہشت گردوں کو فنڈنگ کرتے ہیں اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی مدد سے 4461 مشکوک بینک اکاؤنٹ بند کیے گئے ہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں متشدد ذہنیت کے ساتھ دہشت گردی کو بڑھانے کیلئے غیر ملکی حساس ادارے بھی کام کرتے ہیں ۔ پارا چنار دھماکے کی اطلاع کے بعد یہ یقین پختہ ہوگیا ہے کہ اگردہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن ہوسکتا ہے تو غیر ملکی حساس اداروں کی پاکستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ کے خلاف آپریشن کیوں نہیں ہوسکتا ۔ ضرورت اس امر کی ہے حکومت پاکستان غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے خلاف باقاعدہ ایک مربوط عملی ڈھانچہ مرتب کرے جو کام حکومتی ادارے پہلے سے کررہے ہیں ان کو اداروں کی شکل دی جائے یا باقاعدہ طورپر 2014 میں پیش کی جانے والی قومی داخلی سلامتی پالیسی میں جس جائنٹ ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کی بات چوہدری نثار نے کی تھی اس کو ترتیب دیا جائے ۔ 2014 میں چوہدری نثار صاحب نے جوکہ وزیرداخلہ پاکستان ہیں پالیسی پیش کرتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والی سول و فوجی حساس اداروں کو ایک چھتری کے نیچے رکھا جائے گا تاکہ ملکی سطح پر ہونے والے واقعات چاہے وہ دہشت گردی کے ہوں یا شدت پسندی کے ان کی خفیہ معلومات کی شیرئنگ ہوگی اور خارجی سطح پر پاکستان کیخلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرکے مخالف حکمت عملی بنائی جائے گی لیکن آج تک ملک میں حکومتی سطح پر قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے جائنٹ ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس National directorate of Inteligence کیوں نہیں بن سکا؟ ۔ کئی سوالات جنم لیتے ہیں اور یہ سوالات مجھ سمیت ہرپاکستانی کو پوچھنے کا حق ہے کہ حکومتی سطح پر اتنی نالائقی کیوں ۔ ریاست کے معیار کو برقرار رکھنے کیلئے ذاتی یا اداروں کی بالا دستی کی دوڑ زہرقاتل ہوتی ہے۔ سوچ میں صرف پاکستان ہونا چاہیے ۔ کیا سول و فوجی حساس ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے گریزاں ہیں؟ کیا نیکٹا کی طرح خفیہ اداروں کو ایک چھتری کے نیچے رکھنے میں مالی دشواریاں ہیں کیا حکومتیں دانستہ طورپر ایسا نہیں کرنا چاہتیں۔ کیا ہم بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی پاکستان دشمنی کو بے نقاب نہیں کرنا چاہیے؟ آخر ہم کب تک پارا چنار جیسے واقعات میں پاکستانی شہریوں کی جانیں قربان کرتے رہیں گے ؟ سوالات شاید تلخ لیکن حقیقت پر مبنی ہیں جن کی بنیاد پر جلد ازجلد عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

بے خانماں۔۔۔ شوکت کاظمی
زمیں پر بھی نہ ٹھہرے آسماں تک بھی نہیں پہنچے
کہ ہم بے خانماں اُس آستاں تک بھی نہیں پہنچے
درِ دولت سے کچھ خیرات ملتی یا نہیں ملتی
تہی داماں تو دستِ مہرباں تک بھی نہیں پہنچے