- الإعلانات -

پورے پاکستان کو رینجرز کے حوالے کیا جائے !

کراچی میں رینجرز کی مخالفت کرنے والے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے کیا بھول گئے ہیں کہ رینجرز کے آنے سے پہلے کراچی میں ٹارگٹ کلرز،چوروں ،ڈاکوؤں ،قبضہ مافیا،سمگلروں،کارلفٹرز اور بھتہ خوروں کا راج تھا۔روشنیوں کا یہ شہر تاریکیوں میں بدل چکا تھا۔قاتل ،بھتہ خور اور ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد یہاں دندناتے پھر رہے تھے۔روز نہتے اور معصوم شہریوں ،ڈاکٹروں،پروفیسروں،جید علماء کرام ،صنعت کاروں ،مزدوروں،اساتذہ کرام اور طلباء کا خونِ ناحق بہایا جاتا۔کارخانہ زندہ مزدوروں سمیت جلایاجاتا اگر کارخانہ دار بھتہ دینے سے انکار کرتا یا دینے میں کسی لیت و لعل سے کام لیتا۔ایسا کوئی کاروباری شخصیت ،تاجر اور دوکاندار نہ تھا جو انفرادی یا اجتماعی طور پر کس نہ کسی شکل میں بھتہ نہ دیتا۔پرچی کلچر یہاں رائج تھا۔مارکیٹوں اور بازاروں کو ایک پرچی بھیجی جاتی ،اتنا فی دکان ،فی تاجر بھیجو ورنہ اگلے روز اپنا لاش پاؤ ،اپنے بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ بنا دو۔عیدین پر دس دس لاکھ ،بیس بیس لاکھ جبراََ فطرانہ بھیجنے کی پرچیاں اور کاغذ تقسیم ہوتے۔مجال کوئی دینے سے انکار کرتا۔بہ امر مجبوری کوئی نہ دے پاتا تو وہ یا اُس کے خاندان کے کسی فرد کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا۔اور تو کیا قربانی کی کھالیں بھی بندوق کی نوک پر جمع کی جاتیں ۔اسلحے کا انبار ،دنیا جہاں کا خطرناک ترین آتشیں اسلحہ کراچی میں موجود تھا۔اسلحے کا اتنا بڑا ذخیرہ شائد دنیا کے کسی اور شہر میں ہو۔یہ شہر جہاں ملک دشمنوں ایجنسیوں کا مرکز تھا وہاں لسانیت ،قومیت اور فرقہ واریت کے نام پر بھی ہزاروں لوگوں کا خون بہایا گیاتھا۔یہ شہرنو گوایریاز میں تقسیم تھا۔مسلمانوں کے اس شہر میں ایک قومیت کے لوگوں کو دوسری قومیت کے علاقے میں جانا ممنوع تھا۔تھانے جرائم پیشہ افراد کے اڈے بنے ہوئے تھے۔پولیس سیاست زدہ ہوچکی تھی ۔کراچی کو لندن سے کنٹرول کیا جارہا تھا۔سیاست دان محض دو روزہ کرسی کی خاطر آپس میں ملے ہوئے تھے لیکن انہیں روز درجنوں بے گناہوں کا بہتا خون کراچی کی سڑکوں،شاہراہوں اور چوراہوں پر دیکھائی دے نہیں رہا تھا۔ڈاکوؤں سرے عام بازاروں میں گھستے،تاجروں کو لوٹتے۔کسی بس پہ چڑھ جاتے ،پہلے ان لوگوں سے موبائل اور نقدی چھین لیتے اور پھر یہ ظالم انہیں گولیوں سے بھون لیتے۔لیکن ان ظالموں کو ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں تھا بلکہ سب کے سب ظالموں کے سر پرست اور ہم نوا تھے۔یہاں کی پولیس سیاست دانوں اور جرائم پیشہ افراد کے آگے بے بس تھی۔اگر کوئی اچھا پولیس آفیسر کسی مجرم کو پکڑتا بھی تو پہلے اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا اور پھر زندگی سے۔نہ جانے کتنے ایماندار آفیسرز کو اگلی جہان میں پہنچایا جاچکا ہے۔ حکومت اور حکمرانوں کو پریشرائیزڈ کرنے کے لئے معمولی معمولی باتو ں پر لمبی لمبی شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اور فائرنگ کی جاتی۔ لیکن یہ سب کچھ مٹھی بھر سیاست دانوں کی ملی بھگت کا نتیجہ تھا۔گویا ظالموں کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں تھا۔میاں صاحب نے اس دفعہ تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو اپنے پہلے دورۂ کراچی میں وہاں کی تاجر برادری اور کاروباری طبقے سے ملاقات کی۔ان سب کا بس ایک ہی مطالبہ تھا ۔پرائم منسٹر!ہمیں امن دو، یہاں سے ظالموں ،لٹیروں، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کا خاتمہ کرو تاکہ پاکستان کا یہ اقتصادی ھب ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔میاں صاحب نے ان کی باتیں غور سے سنیں اور فوراََ اس نتیجے پر پہنچے کہ کراچی کا بس ایک ہی حل ہے کہ یہاں نوّے کی دہائی کی طرح ایک بار پھر آپریشن کیا جائے جس کا مطالبہ پاکستان کا انٹیلیکچول طبقہ اورہر محب وطن پاکستانی کافی عرصہ سے کر رہا تھا اور میری طرح کے لوگوں نے اپنے درجنوں کالموں میں بار بار یہاں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھا۔ادھر ہزاروں مظلوم بہنوں ،بھائیوں ،ماؤوں اور بیٹیوں کی فریادیں اور دعائیں بھی رنگ لائی اور میاں صاحب نے کراچی میں رینجرز کے ذریعے آپریشن کا فیصلہ کر لیا۔رینجرز نے یہاں بلاتفریق آپریشن کیا اور سیاسی جماعتوں میں موجود کالی بھیڑوں کے سیاہ چہروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔آج الحمد للہ ثم الحمد للہ پورے کراچی میں امن کے چشمے بہہ رہے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری ،اغواء برائے تاوان کے واقعات اور جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کی گئی ہے۔کراچی کا ہر شہری آج سکون کی نیند سورہا ہے ۔نو گوایریاز ختم کئے جاچکے ہیں اور کاروباری طبقہ بلا خوف و خطر اپنا کاروبار کر رہاہے۔لیکن لیکن کچھ لوگ رینجرز کو توسیع نہ دینے کی بات کر کے کراچی کے امن پسند عوام کی دشمنی مول لے رہے ہیں۔یہ لوگ کراچی سے رینجرز واپس بلا کر کراچی والوں کے ہاتھ پاؤں باند ھ کر انہیں ایک بار پھرقاتلوں ،بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے آگے پھینکنے کی بات کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے جرائم پیشہ افراد ختم نہیں ہوئے بلکہ دب گئے ہیں اور ایک بار پھر کسی اچھے موقع کی تلاش میں ہیں ۔ایسے میں رینجرز کو محض تین ماہ کی توسیع کافی نہیں۔بلکہ انہیں کم از کم دس سال مذید یہاں رہنا چاہیئے۔تاکہ کراچی کو عارضی نہیں مستقل امن نصیب ہو۔گزشتہ دنوں کراچی میں رہائش پزیز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں سے گفتگو اور بات چیت کا موقع ملا۔نوجوان ،بوڑھے ،مرد و خواتین اور کاروباری طبقہ سب امن کے حوالے سے رینجرز کی مثالی کار کرد گی سے خوش تھے اور رینجرز کے اختیارات اور مدت میں اضافے کا پر زور مطالبہ کر رہے تھے۔یہ سب متفق تھے کہ کراچی کو مدتوں بعد رینجرز کی بدولت امن نصیب ہوا ہے لیکن ساتھ ڈر بھی رہے تھے کہ اگررینجرز کو واپس بلا لیا گیا تو کراچی ایک بار پھر جہنم بن جائے گا۔میری سگی بوڑھی خالہ جان جو ایک معصوم شہید کی ماں بھی ہے ،نے مجھے بتایا کہ اس کا سولہ سالہ بیٹا فرخان جسے پانچ سال پہلے کراچی میں ڈاکوؤں نے لوٹنے کے بعد اپنی بہن کے سامنے شہید کیا تھا،گو واپس نہیں آسکتا لیکن رینجرزنے کراچی میں مثالی امن دیکر بہت سارے فرحانوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔وہ رو رو کر بار بار کہہ رہی تھی کہ کراچی میں اب امن ہے لیکن اس کا فرحان نہیں ہے۔لیکن وہ خوش تھی کہ اب میری طرح دیگر مائیں ،بہنیں رینجرز کی بدولت نہیں روئیں گی۔میرا تو اپنا ذاتی خیال ہے کہ ملک بھر کی پولیس سیاست زدہ ہے اور وہ خطرناک گینگز اور مجرموں کے آگے بے بس ہے ،اس لئے پورے پاکستان کو آئندہ دس سال کے لئے رینجرز کے حوالے کیا جائے تاکہ پورے پاکستان کے باسیوں کو امن و سکون کی نیند نصیب ہو۔
*****