- الإعلانات -

کیڈٹ کالج ۔۔۔۔۔!

جنگ عظیم اول 1914-18ء میں بڑی تعداد میں برٹش آرمی کے آفیسرز جان بحق ہوئے تو برطانیہ سامراج کو خدشہ ہوا کہ مستقبل میں ان کو افسران کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے تو انھوں نے اس کمی کو پورا کرنے کیلئے کافی سوچ وبچار کیا۔آخروہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ کوئی ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جس میں لڑکوں کو برٹش آرمی کیلئے تیار کیا جاسکے۔اس سلسلے میں انھوں نے مارچ 1922 میں وادی دون صوبہ اترکنڈ میں رائل انڈین ملٹری کالج (RIMC)قائم کیا۔اس کالج میں زیادہ تربرٹش انڈین آرمی کے افسران کے بچے پڑھتے تھے۔یہ برصغیر پاک وہند میں سب سے پہلا کیڈٹ کالج تھا۔اس کے ساتھ ہی برٹش انڈین آرمی نے3مارچ 1922 ء میں کنگ جارج رائل انڈین ملٹری سکولز (KGRIMS) جہلم اور جالندھر قائم کیے۔ان میں کلاسوں کا باقاعدہ آغاز15ستمبر1925ء کو ہوا تھا۔کیڈٹ کالج جہلم سرائے عالمگیر میں واقع ہے۔جہلم سکول بعد میں ملٹری کیڈٹ کالج جہلم کے نام سے معروف ہوا۔ 1947ء میں برصغیر پاک وہند کی تقسیم ہوئی اور ہماراپیارا ملک پاکستان معرض وجود میں آگیا۔اب پاکستان میں بھی ایک ایسے تعلیمی ادارے کی اشد ضرورت پڑی جو افواج پاکستان کوان کے معیار کے مطابق جوان فراہم کرسکے ۔ تعلیمی ادارے میں لڑکے ایک مخصوص ماحول اور نظم وضبط میں پڑھ کر افواج میں خدمات سرانجام دینے کیلئے تیار ہوسکیں۔پاک آرمی نے پاکستان میں سب سے پہلا کیڈٹ کالج 1954ء میں احسن ابدال ضلع اٹک میں پنجاب کیڈٹ کالج کے نام سے قائم کیا اور 1958ء میں مشرقی پاکستان چٹاگانگ میں Faujdarhat Cadet College قائم کیا۔اس کے بعد دھیرے دھیرے کیڈٹ کالج قائم ہوتے گئے اورعصر حاضر میں صوبہ پنجاب میں سولہ، گلگت بلتستان میں دو ،آزاد کشمیر میں ایک،خیبر پختوانخواہ میں سات،سند ھ میں چھ اور بلوچستان میں پانچ کیڈٹ کالج ہیں۔کیڈٹ کالجز کا شمار پاکستان کے بہترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے جہاں عصر حاضر کی جدید علوم کے ساتھ اخلاقی اور جسمانی تربیت بھی کی جاتی ہے۔صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں ٹولہ منگلی کے مقام پر حال ہی میں عیسیٰ خیل کیڈٹ کالج تعمیر ہوچکا ہے اور کلاسز کا اجراء عنقریب ہوگا ۔ضلع میانوالی خصوصاً عیسیٰ خیل انتہائی پسماندہ تحصیل ہے۔اس تحصیل کو ہمیشہ سے محروم رکھا گیا۔اس کی محرومی کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ تحصیل عیسیٰ خیل کے ساتھ ساتھ60 کلومیٹر پاکستان کا سب سے بڑا دریا سندھ بہتا ہے لیکن تحصیل عیسیٰ خیل کی زمینوں کواس دریا کے پانی سے محروم رکھا گیا ہے۔تحصیل عیسیٰ خیل کے لوگ اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی پینے کے پانی کیلئے ترستے ہیں۔ بعض دیہات ایسے ہیں جہاں انسان وحیوان، چرند وپرند ایک ہی جوہڑ سے آب پیتے ہیں۔یہ علاقہ معدنیات سے مالامال ہے لیکن یہ دولت مقامی لوگوں کی نصیب میں نہیں ہے۔تحصیل عیسیٰ خیل کے پہاڑوں میں نمک، لوہا، کوئلہ، سیلکا ،تیل اورگیس کے ذخائر ہیں۔ان سے غیر مقامی افراد مستفید ہورہے ہیں لیکن مقامی افراد کو بہت ہی کم فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔حتیٰ کہ مقامی آبادی رائیلٹی سے بھی محروم ہے۔تحصیل عیسیٰ خیل کی تقریباً چالیس فی صد آبادی پشتون خٹک قبائل پر مشتمل ہے۔صوبہ پنجاب کے خٹک بیلٹ کے کسی بھی یونین کونسل میں گرلز ہائی سکول موجود نہیں ہے۔ پڑوسی ضلع کرک میں بھی خٹک قبائل آباد ہیں۔وہاں الحمد اللہ خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے۔وہاں کے قبائل کے حالات بھی ضلع میانوالی کے خٹک کی طرح تھے لیکن سابق ایم این اے اسلم خٹک مرحوم نے ضلع کرک کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ الحمد اللہ آج ضلع کرک کے خٹک افراد نے تعلیم سمیت مختلف شعبہ جات میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے اور نوجوان ستاروں پر کمند ڈال رہے ہیں جبکہ صوبہ پنجاب کے خٹک لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔خٹک لوگ بڑی تعداد میں کالاباغ اور دیگر علاقوں میں ہجرت پر مجبور ہیں۔پشتو زبان میں ایک قول ہے کہ” سپل واطان پو ہر چہ کشمیر دا ” یعنی اپنا علاقہ ہر کسی کیلئے کشمیر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کسی کو اپنا علاقہ پیارا ہے اورہر کسی کواپنا علاقہ خوبصورت لگتا ہے۔ کون چاہتا ہے کہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر کسی اور علاقے میں دوسر ے درجے کے شہریوں کی طرح رہیں۔ خٹک بیلٹ میں رابطہ سڑکیں نہ ہونے کے برابر ہیں اوربعض دیہاتوں کیلئے پختہ روڈ تک پانچ چھ گھنٹے پیدل چلنا پڑتا ہے۔اس علاقے کے افراد نے وطن عزیز کیلئے سب سے زیادہ جانی قربانیاں دی ہیں جس پر خٹک قوم کو فخر اور ناز ہے ۔عیسیٰ خیل کیڈٹ کالج کیلئے ٹولہ منگلی کے خٹک قبائل نے 2100 کنال اراضی عطیہ کی ہے۔کیڈٹ کالج کی فیس اٹھارہ ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے جو کہ غریب آدمی کی بس کی بات نہیں ہے۔ضلع میانوالی کیلئے کوئی کوٹہ بھی مخصوص نہیں کیا ہے۔ ضلع میانوالی کے کوٹہ کیلئے اخباری بیانات تک سب سیاستدانوں نے تگ ودو کی ہے لیکن عملی جدوجہد اور احتجاج ابھی تک صرف اور صرف احسن جمال خان نے کی ہے۔جب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی مذکورہ کالج کو ملتان لے جانے کی کوشش کی تھی تو احسن جمال خان نے آستین چڑھالی تھیں اورکالج کو تحصیل عیسیٰ خیل میں تعمیر کرانے کیلئے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ احسن جمال خان تحصیل عیسیٰ خیل کے بہترین سیاسی و سماجی رہنما ہیں ۔ اللہ رب العزت نے ان کو اعلیٰ صلاحیتیں اور نیک جذبات عطا کیے ہیں جو اپنے غریب عوام کیلئے مسلسل استعمال کررہے ہیں۔ بہرحال عیسیٰ خیل کیڈٹ کالج ٹولہ منگلی میں ضلع میانوالی کیلئے کوٹہ ناگزیر ہے۔اگر اس سے مقامی آبادی مستفید نہ ہو تو یقیناًلوگوں کے احساس محرومی میں اضافہ ہوگا ۔
*****