- الإعلانات -

تیشہ نظر ، میڈیا اور سانحہ دوالمیال

محترم کالم نگار وجاہت مسعودلکھتے ہیں کہ ’’ادھر ۱۲دسمبر کو چکوال کے قصبے دوالمیال میں ہنگامے کے بعد چالیس کے قریب اقلیتی گھرانے جان بچاکر بھاگ گئے تھے ۔گھروں پر تالے لگے ہیں ۔ دکانیں بند ہیں ۔مقامی انتظامیہ کی تعریف کا پہلو یہ ہے کہ کوئی گھر نہیں لٹااوردکانوں کے تالے سلامت ہیں ۔اطلاع یہ ہے کہ کچھ عورتیں اوربچے گاؤں میں واپس بھی آگئے ہیں ۔ یہ لوگ آئی ڈی پی کی تعریف پر پورااترتے ہیں ۔اگر یہ ۱۲دسمبر کی دوپہر گاؤں میں نظر آتے تو ان کی جان و مال کو شدیدخطرہ لاحق تھا ۔۔۔۔۔خیال تھا کہ دوالمیال کے ان بے گھروں پر بھی شفقت کی نظر ڈالی جائے گی مگر اس کا کہیں ذکر نہیں آیا‘‘(روزنامہ جنگ ،۲۷دسمبر ۲۰۱۶ ؁ ء )۔اسی طرح اسی شام شاہ زیب خانزادہ نے بھی ایک پروگرام کیا جس میں یہ تأثردیا گیا کہ دوالمیال میں زیادتی مسلمانوں کی طرف سے ہوئی ہے کہ انہوں نے قادیانیوں کی عبادتگاہ پر حملہ کیا ۔قطع نظر مذہبی زاویہ کے حقائق مگر اس کے برعکس ہیں اور اس پر لکھنا اس لیے بھی ضروری ٹھہرا تا کہ حکومت وقت معاملے کی سنگینی کو سمجھے اور اقدامات کرے تا کہ مستقبل میں اس طرح کاناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔
دوالمیال میں زیادہ تر آبادی سنی مسلمانوں کی ہے جبکہ کچھ گھر قادیانی عقیدہ کے لوگوں کے بھی ہیں ۔یہ لوگ آپس میں رشتہ دار بھی ہیں ۔فساد کی اصل وجہ مسجد ہے ۔قادیانیوں کے مطابق یہ ان کی عبادتگاہ ہے جبکہ مسلمانوں کے مطابق یہ مسجد ہے ۔ لیکن بلحاظِ تعمیرحقیقت یہ ہے کہ یہ مسجد ہے کیونکہ اس کاایک مینار بھی ہے ، محراب بھی ہے اور سبزرنگ کا گنبد بھی ہے ۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ مسجد ہے کیونکہ پاکستان کے قانون کی روسے قادیانی اقلیت لوگ اپنی عبادتگاہوں کے مینار، محراب اور گنبد نہیں بناسکتے ۔ جبکہ 1858 ء کے محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق بھی گھرانہ نمبر 30 ، احاطہ نمبر 12 بھی کچھ ایسی ہی کہانی سنارہاہے ۔ جبکہ میڈیا اور ایف آئی آر میں اسے بار بار احمدیہ عبادتگاہ ذکر کیاجاتا رہا جو کہ حقائق کومسخ کرنے کے مترادف ہے ۔جبکہ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اس ا قلیت کا پہلا بندہ 1890 میں اس گاؤں میں آیا تھا اور بعد ازاں 1973ء کے آئین کی روسے یہ لوگ غیرمسلم قراردئیے گئے ۔اگر پہلے ریکارڈکو درست نہ مانا جائے تب بھی 1880 کاریکارڈ یہی ہے کہ یہ مسجد تھی اور اس بات کا سب سے بڑاثبوت اس کاگنبد، میناراور محراب ہیں ۔اصل جھگڑا 1970 ء میں اس وقت شروع ہوا جب اس مسجد کا امام بھی قادیانی ہو گیا اور اس نے اس مسجد کو قادیانی عبادتگاہ قراردیا جبکہ اس وقت تک ان کو غیرمسلم بھی قرارنہیں دیا گیاتھا۔1978ء میں سیشن کورٹ نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیا لیکن انتظامیہ اس فیصلے پر عمل درآمد نہ کرا سکی ۔جواب میں ہائی کورٹ میں مقدمہ ہوا جس کی پیروی 1997تک ہوتی رہی ۔مقدمہ کرنے والے فیصلے کا انتظارکرتے کرتے اللہ سے جا ملے لیکن کیس ابھی بھی عدالت میں ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ سنگینی اختیار کرتا جا رہاتھا مگر نہ جانے کیوں انتظامیہ کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ اس مسجد کا فیصلہ جلدی ہوجاتا یا پھر فیصلہ آنے تک اس کو سیل کردیا جاتاتاکہ کسی طرح کے جانی مالی ضیاع کا اندیشہ نہ ہوتا۔
یہ تھے اصل حقائق لیکن وجاہت مسعود صاحب کے کالم سے لگتا ہے کہ مسلمانوں نے چڑھائی کی اور قادیانی فرقے کے لوگ بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگے اور ان کی ہی دکانیں بند ہیں حالانکہ تمام دکانیں بند رہیں تھیں جن میں مسلمانوں کی دکانیں بھی تھیں اور یہی حال مساجد کاتھا کہ جماعت تک نہ ہو سکی تھی۔اسی طرح جانی نقصان صرف مسلمانوں کا ہوا ہے ۔مقبوضہ مسجد سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں نعمان، محسن علی اور مزمل محمودسخت زخمی ہوئے جبکہ نعیم شفیق جان کی بازی ہار گیا ۔میڈیا کے مطابق اگر مسلمان مشتعل تھے تو ان کے پاس اسلحہ کیوں نہیں تھا؟ اگر تھا تو انہوں نے بھی اپنے مخالفین پر گولیاں کیوں نہ برسائیں جب کہ ان پر فائرنگ کی جارہی تھی ؟ اگر مسلمانوں کی نیت واقعی حملہ کی تھی تو ایسا کیوں نہ کیا گیا ؟میڈیا کے مطابق حالات اگر اتنے سخت تھے اور حملہ آوروں کی تعداد اتنی تھی کہ ان کو قابو کرنے کے لیے رینجرز بلانا پڑی تو سوال یہ ہے کہ اتنے مشتعل ہجوم کے سامنے سے چالیس گھرانے بچ کر کیسے نکل گئے ؟ کوئی دکان کیوں نہ جلی ؟ کوئی گھرکیوں نہ لٹ سکا؟ ان سوالوں کا جواب یہ ظاہرکرتا ہے کہ مسلمانوں کی ایسی کوئی نیت نہ تھی بلکہ ان کا معاملہ صرف مسجد تھا،جس کا کیس چل رہاتھا مگر کوئی فیصلہ کیوں نہ ہو رہا تھا ؟ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس قصبے کے مسلمانوں نے کئی دفعہ انتظامیہ کو بھی پیش کش کی کہ ہم اس فرقے کو اپنی طرف سے عبادتگاہ تعمیر کرکے دیتے ہیں جس کی زمین اور تعمیر تک کا خرچہ ہم برداشت کریں گے لیکن وہ لوگ بضد تھے کہ ہم یہاں سے قبضہ نہیں چھوڑیں گے۔اس لحاظ سے یہ بات بالکل غلط ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے چڑھائی کی گئی ۔بلکہ اس ضمن میں مسلمان تو کئی سالوں سے اپنی مقبوضہ مسجد واگزار کرانے کے لیے عدالتوں کے دھکے کھارہے تھے مگر ان کی شنوائی نہیں ہو رہی تھی ۔پھر بھی وہ صبر سے انتظارکرتے رہے اور یہ صبر ۱۲ دسمبر اس وقت تک برقراررہا جس وقت تک کہ ان کی طرف سے فائرنگ نہیں کی گئی ۔جب فائرنگ کی گئی اور کچھ لوگ زخمی ہوئے اور ایک بندہ جان سے چلاگیا تو یہ اطلاع اردگرد کے تمام علاقے میں پھیل گئی اور گردونواح سے مسلمان جمع ہوگئے مگر انہوں نے پھر بھی بدلہ لینے کی بجائے صرف مسجد کاقبضہ لینے پر ہی اکتفاکیااور یوں مخالف فرقے کے کسی بندے ، دکان یا گھر کو نقصان نہ پہنچا۔
محترم وجاہت مسعود کو چاہیے تھا کہ وہ یہ سوال اٹھاتے اور ان پر تحقیق بھی کرلیتے کہ اس مسجد کا فیصلہ کیوں نہیں ہورہاتھا؟ سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی یہ مسجد مسلمانوں کو کیوں نہ مل سکی ؟ اتنے عرصے تک اس مسجد پر اقلیت کا قبضہ کیوں برقرارہاتھا ؟ کیا مسلمانوں کو اس پر احتجاج کا حق بھی نہ تھا ؟ اس عبادتگاہ میں اتنا اسلحہ کیسے پہنچا؟ جلوس پر فائرنگ کیوں کہ گئی ؟ انتظامیہ ان کی فائرنگ کیوں بند نہ کراسکی؟ ان کے صرف چار افراد گرفتار ہیں جبکہ مسلمانوں کے ستر کے لگ بھگ،ایساکیوں ؟ یہ مسجد کے نام سے رجسٹرڈ ہے یا احمدی عبادتگاہ کے نام سے؟ اگر مسجد ہی رجسٹرڈ ہے تو اس پر احمدیوں کا قبضہ کیسے ہوا؟ اور اگر یہ احمدی عبادتگاہ ہی تھی جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے تو یہ اس گاؤں میں اس وقت کیسے بن سکی جبکہ اس گاؤں میں اس اقلیت کا ایک بندی بھی نہ آیا تھا ؟ اگر یہ احمدی عبادتگاہ ہے تو اس کے مینارے ، گنبد اور محراب کیونکر بن گئے ؟ اگر بن ہی گئے تھے تو رجسٹریشن کے وقت ان چیزوں پر نظر کیوں نہ گئی ؟ اور سب سے اہم سوال کہ اگر امام بدل جائے تو کیا پوری مسجد اس کے نئے مذہب کے نام پر تبدیل ہو گی یا اس علاقے کے لوگ اس امام کو نکال کر اپنے مسلک کے مطابق نیا امام لائیں گے ؟ اگر سمجھ نہ آئے تو یہ سوال پوچھ سکتا ہوں کہ اگر کسی چرچ کا پادری اسلام قبول کرلے تو کیا چرچ کو مسجد کا درجہ دیا جائے گا یا اس کو نکال کر نئے پادری کا اہتمام کیا جائے گا ؟ یہاں بھی ایسا ہی تھا کہ امام مرزئی ہواتھا لیکن اسے نکالنے کی بجائے مسجد کا تنازعہ کھڑا کردیا گیا ۔ایسا کیوں ہوا؟ لیکن نام نہاد صحافت اس طرف توجہ دینے کی بجائے حقوق کی چیمپیئن بنناچاہتی ہے ۔
لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ابھی تک اس واقعہ کی سنگینی کو محسوس نہیں کیا جارہا ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کیس کا جلدازجلد فیصلہ ہوتاکہ مستقبل میں دوبارہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے مگر اس طرف کوئی کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ۔وزیراعظم صاحب کٹاس راج تشریف لے گئے جہاں سے دوالمیال چند کلومیٹر کی دوری پر ہے مگر انہوں نے بھی اس جگہ کا دورہ نہ کیا کہ انہیں متنازعہ جگہ کا دورہ کر نے سے اتنا تو پتا چل جاتا کہ اس کی تعمیر کیا کہ رہی ہے کہ یہ مسجد ہے یا احمدی عبادتگاہ؟ اور کم از کم دورہ کرکے وہ اتنا ہی ارشاد فرمادیتے کہ اس کیس کا فیصلہ جلدی کردیا جائے تا کہ علاقہ میں سکون کا سانس بحال ہو۔آخر میں میڈیا کے رستموں سے اتنا ہی کہنا ہے کہ بے شک نظر کمزور ہو اور چشمہ بھی لگا ہو مگر پھر بھی تصویر کا دوسرا رخ ضرور دیکھنا چاہیے اور اگر یہ رخ نظر نہ آرہا ہو تو اس بات کا ذکر ضرورکرنا چاہیے کہ مجھے تو ایک رخ ہی نظر آیا ہے جو میں نے لکھ دیا ہے ۔اس سے یہ ضرور ہو گا کہ لوگ کسی ایک کو مجرم نہ سمجھیں گے بلکہ حقائق کا انتظار کریں گے ۔یوں دنیا بھر میں اسلام کا چہرہ بھی بدنام نہ ہوگا ۔