- الإعلانات -

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی لمحہ فکریہ۔۔۔!

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی تاریخ کی بدترین ہنگامہ آرائی اور ہاتھاپائی نے ایوان کو جہاں مچھلی بازاربنائے رکھا وہاں ایوان کاتقدس بھی پامال ہوا۔اس دلخراش واقعہ کی شروعات اس وقت ہوئی جب اپوزیشن جماعتوں نے شاہ محمود قریشی کے نکتہ اعتراض پربات کرنے کے بعد دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو فلور دینے کا مطالبہ شروع کر دیا،اس دوران اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی ‘ پی پی کے رہنما نوید قمر کے پاس گئے اور ان کو کہاکہ وہ ان کو چپ کرائیں تاکہ وزیر دفاع خواجہ آصف بات کر سکیں۔ شاہد خاقان عباسی کو دیکھ کرتحریک انصاف کے رہنما شہر یار آفریدی نے انتہائی سخت انداز میں کہا کہ یہ کون ہوتے ہیں ہمیں چپ کروانے والے۔ اس تلخ کلامی پر مسلم لیگ(ن) کے مزید ارکان اپوزیشن نشستوں کی طرف آ گئے۔تحریک انصاف و مسلم لیگ (ن) کے ارکان میں تصادم ہو گیا۔ سپیکر نے 15منٹ کیلئے کارروائی روک دی تاہم تحریک انصاف کے اراکین نشستوں کو پھلانگتے ہوئے لڑنے کیلئے پہنچ گئے۔ لاتوں ‘ گھونسوں کا آزادانہ استعمال ہوا۔ بیچ بچاؤ کیلئے اس دوران سپیکر کی ہدایت پر 12 سے زائد سارجنٹس ایوان میں آ گئے اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر حصار قائم کر لیا۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کیخلاف چور چور کی نعرے بازی کی گئی ، عمران خان کے خلاف چند حکومتی ارکان کے علاوہ اکثریت نے اپنے ساتھیوں کا ساتھ نہیں دیا ۔ تقریر کے دوران شاہ محمود قریشی نے نعرے بازی شروع کر دی ۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ فلور دینے کا غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ یہ غیر منصفانہ ہے زیادتی کی گئی ہے۔ اس دوران تحریک انصاف کے تمام ارکان نعرے لگاتے ہوئے فرنٹ کی نشستوں کے قریب جمع ہوگئے ۔ اس دوران زوردار طریقے سے وزیراعظم کے خلاف نعرے لگائے جس سے ایوان میں کسی اور کی کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ ان نعروں کا جواب دینے کیلئے 20کے قریب حکومتی ارکان بھی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور یو ٹرن یو ٹرن چور چور عمران خان کے نعرے لگائے۔ مخالفین نے ڈاکو ڈاکو کے نعرے لگانے شروع کر دئیے۔ سردار ایاز صادق کو کارروائی چلانا مشکل ہو گیا۔ حکومتی ارکان کی اکثریت عمران خان کی خلاف نعرے بازی کے دوران خاموشی سے اپنی نشستوں پر بیٹھی تماشا دیکھتی رہی۔پیپلزپارٹی کے دوسرے دور حکومت کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان لڑائی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے ۔ اس سے قبل پیپلزپارٹی کے دور میں جب فاروق لغاری صدر مملکت کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے آئے تو ایوان میں اس وقت کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ( ن) نے احتجاج کیا تھا اس دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین درمیان شدید ہاتھا پائی اور ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ بعد ازاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے میثاق جمہوریت کے ذریعے آئندہ اسطرح کے واقعہ کو نہ دہرانے کا عہد کیا۔2008سے 2013 کے دوران ایسا کوئی بھی واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا ۔ 1995کے بعدگزشتہ روز قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑے کا پیش آنے والا یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں تحریک انصاف اور حکومتی اراکین گھتم گھتا ہو گئے ،مکے ،لاتوں اور گھونسوں کی بارش ہوئی جبکہ پی پی پی اراکین نوید قمر اور دیگر لڑائی چھڑوانے کی کوشش کرتے رہے ۔ سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق نے اس کی تحقیقات کرانے کااعلان کیا ہے جو سیاسی بصیرت کاآئینہ دارہے۔ اس واقعہ نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرین میں برداشت اور سیاسی رواداری کافقدان ہے اور وہ ایک دوسرے کوزیر کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ قومی اسمبلی کے ایوان کو ایک امتیازی اہمیت حاصل ہے یہاں قانون سازی کی جاتی ہے ملک وقوم کیلئے قوانین بنائے جاتے ہیں اور اہم مسائل پربحث کی جاتی ہے اور ملک کی ترقی وخوشحالی کیلئے اقدامات بروئے کار لائے جاتے ہیں ۔معزز ارکان اسمبلی نے اپنے ہی ہا تھوں ایوان کے تقدس کوپامال کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اس ایوان کے وقار کو ذاتی مفاد پرمقدم نہیں رکھتے۔ اس واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ایسے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے ایوان کے تقدس کو پامال کیا۔ حکومتی ارکان کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ اپوزیشن کو حوصلے سے سنیں اور ان کے تحفظات دور کریں۔ جمہوریت اسی وقت پروان چڑھ سکتی ہے جب سیاسی ہم آہنگی ہو محاذ آرائی سے جمہوریت کو کاری ضرب لگتی ہے۔برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
اداروں کے درمیان بدگمانی پیدا کرنے سے گریز کیاجائے
پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیاہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو زرعی اراضی کی الاٹمنٹ آئین اور حکومتی و فوجی طریقہ کار کے مطابق کی گئی، آرمی کو بدنام کرنے کی ارادے سے کی جانیوالی بحث اداروں کے درمیان غلط فہمیوں کا موجب بن سکتی ہے اور یہ موجودہ ہم آہنگی کیلئے نقصان دہ ہے ۔ گزشتہ روز آرمی آفیسرز اور جوانوں کو زرعی اراضی کی الاٹمنٹ کے معاملے پر گزشتہ کچھ دنوں سے بحث اور قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔ اس حوالے سے معلوم ہونا چاہئے کہ ایسی الاٹمنٹس آئین کے مطابق ہیں ۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بھی اراضی کی الاٹمنٹ آئین کے مطابق اور حکومتی اور آرمی طریقہ کار کے مطابق کی گئی ۔ آرمی کو بدنام کرنے کے ارادے سے یہ بحث اداروں کے درمیان غلط فہمیوں کا موجب بن سکتی ہے اور یہ موجودہ ہم آہنگی کیلئے نقصان دہ ہے۔ترجمان پاک فوج نے بجافرمایا ہے بے معنی بحث اورقیاس آرائیوں سے بدگمانیاں اورغلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرال راحیل کاکردار دنیا کیلئے قابل تقلید قرارپایاہے ان کی بے باک عسکری قیادت کے نتیجے میں دہشت گردی پرقابوپایاجاسکا اور انہوں نے ہرمحاذ پرملک اور قوم کیلئے اپنی توانائیاں صرف کی ہیں جن کو کبھی بھی فراموش نہیں کیاجاسکے گا۔ اراضی الاٹ منٹ بارے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔یہی وقت کاتقاضا ہے۔
بارشوں کی تباہ کاریاں
اسلام آباد سمیت خیبرپختونخوا، فاٹا ، پنجاب،کشمیر ، سندھ اورکوئٹہ میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا ، کوئٹہ میں نوا کلی کے علاقے میں بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گرنے سے 3 خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے،بارش اور پہاڑوں پر برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ اور نظام زندگی مفلوج ہوکررہ گیا ۔بارشوں سے ہونیوالے جانی مالی نقصان کاازالہ کرناحکومت کی ذمہ داری ہے۔متاثرین کو ہرممکن مدد کو یقینی بنایاجائے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کو مسائل کے گرداب سے نکالے اور ان کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کرے۔عوام کے معیار زندگی کو بلند کرے۔حالیہ نقصان کے ازالے کیلئے حکومت کو کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر لوگوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنے پاؤں پرکھڑا ہوسکیں۔