- الإعلانات -

کیا یہی گڈ گورننس ہے۔۔۔؟

ایک خبر پڑھنے کو ملی کہ ایف آئی اے نے جعلی وفاقی وزیر بن کر وزیراعظم ، صوبائی وزراء ، اعلیٰ اور جج سمیت مختلف وفاقی و صوبائی اداروں کو بیوقوف بنانے والے نوسرباز کو گرفتار کرلیا ۔ مجھے خبر پڑھ کر تقسیم پاک و ہند سے قبل کا ایک واقعہ یاد آگیا جب عوامی اکثریت سادہ اور ناخواندہ تھی ۔ انگریز کا دور حکومت تھا ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں معظم آباد کے قریب نہر لوئر چناب کی کھودائی ہورہی تھی ۔ انگریز نے نہر پر پلوں کی تعمیر کا میٹریل لے جانے کیلئے نہر کے ایک طرف ریل کی پٹڑی پچھائی تھی اس کیلئے انہوں نے مختلف فاصلوں پر لوہے کا گاڈر رکھے ہوئے ان میں سے ایک گاڈر چوری ہوگیا ۔ متعلقہ تھانہ میں نامعلوم مجرموں پر ایف آئی آر درج کروا دی گئی ۔ پورے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ سادہ زمانہ تھا لوگ آج کی طرح بے خوف اور نڈر نہیں تھے ۔ چوری ہوتی تھی ، ڈکیتی اور سینہ زوری نہیں تھی ۔ ایک دن معززین دیہہ گاؤں سے باہر درختوں کی چھاؤں میں صفوں پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے ، کچھ تازہ حقے کے کش لگا رہے تھے ، ناگاہ ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے ایک پولیس کا سپاہی آن وار ہوا ۔ اس نے رعب دار آواز میں کہا چوہدریو، چوری بھی کرتے ہو اور سکون سے بیٹھے گپیں بھی لگا رہے ہو۔ تھانے دار صاحب بہادر نے گاڈر کی چوری کی تفتیش کیلئے آپ سب کو تھانے میں طلب کیا ہے ۔ چالیس کے قریب افراد پوچھنے کی جسارت نہ رکھتے ہوئے اس کے ساتھ ہولئے ۔ تھوڑے فاصلے پر جاکر اس نے کہا ، اللہ تمہارا بھلا کرے تمہیں پھلتا پھولتا رکھے، مجھے کچھ خیر خیرات دو۔ ان سب کی جان میں جان آئی ۔ دراصل یہ بہروپیا تھا جو کہ جعلی پولیس وردی میں ملبوس تھا۔ آج زمانہ بدل گیا ہے مادی ترقی کی تابانی اور جدید اسلحہ کی فراوانی میں روپ بدل کر ، جدید سائنسی طریقے اپنا کر زمانہ ماضی کی نسبت جرائم کی وارداتوں کی رفتار تیز تر یلغار میں بدل چکی ہے۔ آج ملک خداداد کے ہر گوشہ میں روپ بدلے بہروپیے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ کسی نے پیر کا روپ دھارا ہوا ہے، کوئی عامل کے بہروپ میں نوسرباز ہے، تو کوئی عالم دین کے روپ میں لوگوں کو ورغلا اور گمراہ کررہا ہے ۔ عالمانہ وضع قطع کے حامل ، ظاہراً مذہب کا لبادہ اوڑھے ، علماء کے روپ میں ، نوجوانوں کی برین واشنگ کرکے انہیں خودکش بنا رہے ہیں۔ بھیس بدل کر پولیس کی وردی میں وارداتیں کرنا بھی ایک معمول بن چکا ہے۔ باطن کچھ اور ظاہر کچھ نظر آنا ، بیس بدلنا ، دراصل دوسروں کو دھوکہ دینے ، گمراہ کرنے اور پہچان کو مشکل بنانے کا طریقہ ہے۔ معزز قارئین وطن عزیز میں تو نوسربازوں کا گروہ سدا بہار ہے جو مختلف شکلوں میں ہمیشہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے جس ملک میں ان پڑھ لوگ حکیم بن کر خلق خدا کو ماررہے ہوں ، مزاروں پر بھنگ پی کر عصمتوں کو اولاد دینے کے نام پر تار تار کیا جارہا ہو اور با اختیار و اقتدار بھی بے خبری کے خراٹوں میں ہوں تو اس معاشرے کا خدا ہی حافظ ہوسکتا ہے۔ سلامت علی چوہان فنانشل کمرشل اینڈ کنزیومر افیئر کا وفاقی وزیر بن کر لوگوں کو قرضہ دلانے کی آڑ میں لوٹ رہا تھا ، جعلی وزیر10 برس سے یہ کام کررہا تھا جبکہ اس نے وزیراعظم اور وزارت خزانہ سمیت دیگر وفاقی اداروں کو تعاون کرنے کیلئے خطوط لکھے ۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق جعلی وزیر نے پی ٹی سی ایل سے سرکاری نمبر حاصل کیا جبکہ چمبہ ہاؤس لاہور میں دفتر بنانے اور سٹاف کیلئے گاڑیاں اور سیکورٹی بھی مانگی تھی جعلی وزیر نے ڈی سی او کو اپنی سیکورٹی کیلئے خط بھی لکھا جس پر پولیس کو بھی سیکورٹی دینے کا حکم دیا گیا ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وزیراعظم سے لیکر تمام صوبائی حکومتوں کو بھی نوسرباز جعلی وزیر نے خطوط لکھے لیکن کسی نے بھی خطوط کی چھان بین نہیں کی اور جعلی وزیر کے خطوط پر تمام ادارے احکامات بھی صادر کرتے رہے ۔ جعلی وزیر نے وزیراعظم کو ایک خط میں یہ بھی لکھا کہ آپ بیروزگاری ختم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور میں نے اس کا حل تلاش کرلیا ہے ۔ سلامت علی چوہان نے وزیراعظم سے ملاقات کیلئے وقت بھی مانگ رکھا تھا ۔ معزز ناظرین آپ تھوڑا سا غور کریں اور سلامت علی چوہان کے اعتماد کو داد دیں کہ وہ دس سال تک پوری حکومتی مشینری کی آنکھوں سے اوجھل رہ کر لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتا رہا اور حکومت کو خود کفالت ، خودانحصاری اور خود روزگاری کے نایاب مشورے اور خیالی پلاؤ سکیمیں کھلاتا رہا اور سرکاری حکام خواب غفلت میں رہے کہ اس کی حیثیت کے بارے میں تفتیش یا تحقیق کرتے کہ موصوف نے جس وزارت کا قلمدان سنبھال رکھا ہے اور پروٹوکول کے مزے لے رہا ہے وہ کابینہ میں شامل بھی ہے یا نہیں ۔ اب ہم کس کو مورد الزام ٹھہرائیں کہ یہ شخص سلامت علی چہان کتنے ہی لوگوں کو بے دست و پا کرگیا اور انہیں حکومتی خزانے کی مد سے کتنا بڑا ٹیکہ لگا گیا ۔ خود ساختہ جعلی وزیر سلامت علی چوہان ایک وکیل کا منشی تھا اور وہ وکیل اس کا بھائی تھا ۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف جو ایک متحرک اور عقابی نگاہ رکھتے ہیں ان تک بھی یہ خبر نہ پہنچ سکی کیونکہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے چند قدموں کے فاصلے پر سلامت علی چوہان کی اپنی وفاقی وزارت پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھی ۔ اس نوسرباز کے پکڑے جانے کا سبب دس سال بعد لٹنے والے متاثریین کی آہ وزاری اورکوک فریاد بنی کہ یہ وزیر ہمارے پیسے کھا گیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر جعلی وزیر صاحب ایف آئی کے نرغے میں نہ آتے تو معلوم نہیں وہ مزید کتنا عرصہ اپنی ہی قائم کردہ وزارت کے مزے لوٹتے رہتے ۔ ایسی مثال کسی دوسرے ملک میں ملنا ممکن ہی نہیں ۔ بات سیاست یا طریق حکمرانی کی ہو گڈ گورننس کا ذکر خیر ضرور ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی گڈ گورننس کی اصطلاح خاصی مقبول ہے اور ہمارے صاحبان اقتدار بھی گڈ گورننس کیلئے کوشاں ہیں اور مثالی طرز حکومت کے خواہش مند ہیں۔ نوسرباز جعلی وفاقی وزیر سلامت علی کا دس سال تک حکومت پاکستان تک کی آنکھوں میں دھول جھونکے رکھی اور پروٹوکول کے مزے لیتا رہا ۔ یہ ایک واقعہ ہی گڈ گورننس کا پول کھولنے کیلئے کافی ہے۔ پاکستان تو خدا کے سہارے قائم اور چل رہا ہے وگرنہ یہاں کونسا شعبہ ایسا ہے جہاں کرپشن کے الاؤ نہیں جل رہے اور ان جلتے ہوئے اداروں میں کتنے ہی ارمانوں کا خون ہورہا ہے۔