- الإعلانات -

ہیٹی میں بھارتی امن فوج ہیضہ کا شکار

اقوام متحدہ نے ہیٹی میں ہیضے کی وبا پھیلنے میں اپنے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ آٹھ لاکھ سے زائد متاثرین کی صحتیابی کے لیے ضرورت سے زیادہ اقدامات کرنا ہوں گے۔اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ دوہزار دس میں ہیٹی میں ہیضے کی وبا کے پھیلنے میں اْس کا کردار تھا جس میں دس ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں افراد بیمار ہو گئے تھے۔ ہیٹی میں تعینات امن فوج کے دستوں کے لیے تیار کیے گئے سیوریج کے ناقص نظام کو ہیضے کی وبا پھیلنے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے یہ قدم ان شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے جن کے مطابق اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل جنوبی ایشیا کے اہلکاروں کی وجہ سے ہیضے کی وباء پھیلی تھی۔ہیٹی میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے طورپر مختلف ممالک سے فوجی دستے بھیجے گئے۔ ان میں بھارت بھی شامل تھا۔ بھارت سے 100 فوجی امن فورس میں ہیٹی بھیجے گئے۔ اقوام متحدہ کو بتایا گیا کہ امن فوج کے دستے کو تمام ضروری ٹیکے لگا دیے گئے ہیں اور ساتھ ہی محکمہ ہیلتھ کی جانب سے سرٹیفکیٹ بھی دیئے گئے۔ ہیٹی میں تعینات اس امن دستے نے امن تو کیا قائم کرنا تھا ، خود ہیضہ کا شکار ہوگئے۔ بلکہ اقوام متحدہ کا تو یہ کہنا ہے کہ ہیٹی میں ہیضہ کی وبا کا سبب بھی یہی لوگ بنے۔ جب ان کے ٹیسٹ کرائے گئے تو انکشاف ہوا کہ ان کو کسی قسم کے ٹیکے نہیں لگے تھے اور محکمہ صحت کے سرٹیفکیٹ بھی جعلی تھے۔ یوں بھارت کو ہیٹی میں امن دستے کی وجہ سے اقوام متحدہ اور دنیا کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بڑے ملک کی بڑی فوج کا سٹینڈرڈ کیا ہے۔ یہ سب کرپشن اور اقربا پروری کا نتیجہ ہے۔ بین الاقوامی جریدے اکانومسٹ کے مطابق انڈین فوج میں بدعنوانی بھی ایک مسئلہ رہا ہے۔ بھارتی فوج کو آئے روز کسی نہ کسی سکینڈل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ دنیا نے یہ تماشا بھی دیکھا کہ بھارتی جنرل پروموشن ، تنخواہوں و مراعات اور وزن گھٹانے جیسے معاملات پر ایک دوسرے کو عدالتوں میں گھسیٹتے رہے۔ حال ہی میں ترقی کے معاملات پر انڈین جرنیلوں کے مابین قانونی جنگیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔بھارتی فوج میں کرپشن اور جوانوں سے ناروا سلوک کا انکشاف ہوا ہے۔ بارڈر پر تعینات بھارتی فوج کے ایک سپاہی کا کہنا ہے کہ بارڈر پر ڈیوٹی دینے والوں کو کھانا نہیں ملتا۔ جو راشن آتا ہے افسران کھا جاتے ہیں۔ راشن بازاروں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ بھارتی فوج کی 29 بٹالین سے تعلق رکھنے والے سپاہی شیج بہادر بادیو نے فیس پر دی گئی ویڈیو میں کہاہے کہ پاکستان کی سرحد پر تعینات بھارتی فوجیوں کو پلیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا۔ صبح پراٹھے کے ساتھ تھوڑی چائے دی جاتی ہے۔ دوپہر کو ہلدی والی دال اور دو روٹیاں دی جاتی ہیں فوج کیلئے جو راشن آتا ہے وہ افسران کھا جاتے ہیں فوج کو کئی بار رات کو بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے کیا خالی پیٹ سرحد پر لڑا جا سکتا ہے۔ اکانومسٹ میں چھنے والے کالم کے مطابق انڈیا کے بین الاقوامی عزائم اس کی معیشت میں بہتری کے ساتھ وسیع ہوتے جا رہے ہیں لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ انڈیا اپنی دفاعی طاقت میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔انڈین افواج کے ساتھ انتظامی مسئلہ بھی ہے اور بّری، بحری اور فضائی فوج میں تعاون کا فقدان ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی جاتی اور وزارتِ دفاع میں موجود سویلین فوجی حکام سے بات نہیں کرتے۔ حیران کن طور پر وزارتِ دفاع میں کوئی فوجی تعینات نہیں ہے اور ملک کی دیگر وزارتوں کی طرح دفاع کی وزارت بھی سویلین افسران چلاتے ہیں جن کی تعیناتی سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے جو بیلسٹک سے زیادہ بیلٹنگ پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوتے ہیں۔وزارت دفاع میں سیاسی بھرتیوں کی بھی بھرمار ہے ۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونیوالے افسروں کا مقصد ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں فوج کے پاس ضروری ہتھیار ہیں کہ نہیں۔سو انڈین افواج کا اگرچہ حجم تو بڑھ رہا ہے لیکن ان کی ذہنی صلاحیت کم ہے۔بھارت کی فوج کاغذی طور پر تو بہت مضبوط لگتی ہے لیکن عملاً صورتحال اسکے برعکس ہے۔ ماہرین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی کے باوجود جنگجو بار بار انڈین فوج کے اڈوں میں گھسنے میں کیسے کامیاب ہوجاتے ہیں۔
****
رشتے۔۔۔ شوکت کاظمی
سب یہاں ہیں مفاد کے رشتے
اور کچھ ہیں فساد کے رشتے
اہلِ دنیا نے توڑ ڈالے ہیں
باہمی اعتماد کے رشتے