- الإعلانات -

سی پیک کے خلاف’ را ‘کی گھٹیا شرارت

انڈین ایکسپریس بھارت کے اِس انگریز اخبار کی 31 دسمبر2016 اشاعت میں ایک پاکستانی کالم نگار کا ایک ایسا کالم شائع کیا گیا، جسے پڑھنے کے بعد ہمیں فی الحال یہ شک ہے کہ اس نوع کے متنازعہ مواد کے کالم کی اشاعت جس پاکستانی صحافی کے نام سے ہوئی انہوں نے یہ کالم شائد نہ لکھا ہو گا ؟ چونکہ اِس کالم کے اشاعتی مسودے میں پاکستانی قومی مفادات کی دشمنی کا جس زہریلے پیرائیہ مں اظہار موجود ہے ایسی جسارت کوئی بھی محبِ وطن پاکستانی اخبار نویس اِس طرح کھل کر نہیں کرسکتا غیر یقینی صورتحال کا کوریڈور کے عنوان سے لکھے اِس انتہائی متنازعہ مواد پر مبنی کالم جسے اگر ہم یوں کہہ لیں تو یہ کافی حد تک صحیح ہوگا یہ کالم را کے پبلیسٹی ونگ کی کوئی شرارت لگتی ہے اولاً پاکستانی صحافیوں کو بدنام کرنے انہیں بلیک میل کرنے یا پھر کسی قسم کا کوئی لالچ وغیرہ دیکر ان کا نام خریدنے کی کوئی گھٹیا کوشش لگتی ہے، تاکہ علاقائی وعالمی میڈیا کو گمراہ کیا جاسکے جیسا کہ اب تک بھارتی پالیسی ہمیں دکھائی دیتی ہے زیرِ نظر کالم میں اختصار کا دامن تھامے ہمارا کہنا یہ ہے کہ بھارت جتنا ضرور لگالے وہ سی پیک کے عظیم اور کثیر المقاصد ترقیاتی منصوبہ کو نشانہ بناکر اپنی کسی ایک بھی انسانی ترقی کی دشمن سازش میں کامیاب نہیں ہوسکتا، وقت یہ ثابت کردے گا کہ بھارت پچھتا تا ہوا پیچھے رہ گیا اور پاکستان اور چین ہر قیمت پر اقتصادی راہداری کے اِس عظیم الشان منصوبہ کو جلد از جلد اپنی مدت میں پائیہ ِ تکمیل تک پہنچا کر اِس خطہ کی انسانی ترقی سریع الحرکت معاشی واقتصادی اور مستقلا امن و خوشحالی کی ایسی پر فخر تاریخ رقم کر نے میں سرخرو ہوجائیں گے، جس کا خواب کئی دہائیوں سے پاکستان اور چین کے عوام سمیت روس افغانستان ایران وسطی ایشیائی ریاستیں اور ترکی کے کروڑوں عوام دیکھتے چلے آرہے ہیں ،پاکستان چین اقتصادی راہداری کے خلاف اپنے ازلی بغض وعناد اور حیلے بہانے عذ ر واعتراضات کی بے جا اور غیر ضروری خواہشیں و کوششیں او رکاوٹوں کی مذموم بہیمانہ سازشیں بھارت کا وراثتی وطیرہ رہا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑتی جائیں گی، بھارتی پروپیگنڈا مہم کا دیونما یہ سارا دم خم موم کی مانند پگھل کر رہ جائے گا ،کروڑوں اور اربوں انسانوں کی مجموعی فلاح وبہبود کیلئے عمل پذیر پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر تصوراتی گرد اڑانے والے تقریبا سبھی گمراہ بھارتی خفیہ ادارے اپنے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے یہاں صدق دل سے ہم چاہئیں گے کہ متذکرہ کالم میں بھارتی انگریزی اخبار نے جس پاکستانی صحافی کے نام سے اپنا یہ کالم شائع کیا ہے وہ اگر مناسب سمجھیں تو اِن ہی صفحات پر اپنی تردید ملکی عوام کے ساتھ شیئر کرلیں تو ان کا یہ اقدام ملک بھر میں ان کے صحافتی قد کاٹھ کو ا ور زیادہ معتبر کرنے کا باعث بن سکتا ہے اِس زیر بحث کالم میں CPEC کو علاقائی امن کے لئے متنازعہ قرار دینے کی بلا جواز بات کو مختلف کمزور بے وزن اور دلائل سے ماورانکات کا طومار دے کر دھوکہ باز انڈین تشہیری مہم سازوں نے یہ ایک نئی اختراع ایجاد کردی کہCPEC کی تکمیل سے بھارت کی اندورنی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں؟ جبکہ بھارت کے کسی بھی حصہ کا CPEC سے کوئی زمینی تعلق بنتا ہی نہیں CPEC کی راہ میں اس کی ہر رکاوٹ کامنہ توڑ جواب دینے کی پاکستان بھر پور صلاحیت رکھتا ہے، نئی دہلی کو مرچیں کیوں لگیں؟ اِس کا مطلب کہیں یہ تو نہیں ہے کہ CPEC اس کی آنکھوں کا ایسا کانٹا بنتا جارہاہے، جسے وہ جتنا بھی نکالنے کی کوشش کرتا ہےCPEC کا وہ کانٹا اتنا ہی نئی دہلی کی آنکھوں کو زخمی کیئے چلا جارہا ہے را کے انسپانسرڈ متنازعہ کالم میں افغانستان تا امریکا اعلی سطحی حکا م کا تذکرہ کرکے کالم کے جھوٹے اور کمزور بین السطور کو وزنی بنانے کی اپنی سی بڑی کوشش کی گئی 22 جنوری2017 کو ٹرائی اینگل سینگ کی مانند جغرافیائی محل وقوع رکھنے والی فاٹا کی کرم ایجنسی میں دہشت گردی ہوئی جس کا اقرار افغانستان کے صوبہ ننگر ہار پکتیا اور خوست کے بھارتی کونصل خانوں میں پناہ گزین کالعدم ٹی ٹی پی کے مفرور دہشت گرد ٹولہ ملا فضل اللہ گروپس نے تسلیم بھی کرلیا اس پر تو افغان صدر غنی کچھ نہیں بولتے ان کا اور ان کے پیشرو حامد کرزئی کا یہ ایک ایسا بدنما ٹریک ریکارڈ ہے، جس کی نہ صرف مہذب دنیا میں سخت مذمت ہورہی ہے بلکہ باشعور افغان عوام بھی اب خوب سمجھ چکے ہیں کبھی عالمی پیمانے پر تسلیم شدہ ڈیورنڈ لائن کی آڑ کبھی نام نہاد حقانی نیٹ ورک کا سہارہ لیکر پاکستان پر بے سروپا الزامات لگانے کے لئے اشرف غنی کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں چونکہ قبائلی علاقوں سمیت بلوچستان سے سبھی افغان مزاحمتی گروپس افغانستان سدھار چکیاب الزامات کی بجائے عملی اقدامات پر مسٹرغنی کو سوچنا ہوگا بھارتی خواہشات کی تکمیل میں وقت ضائع کرنے کی بجائے انہیں افغان عوام کی ترقی خوشحالی اور مستقلا امن دینے پر یکسو اور نیک نیتی سے غوروفکر کرنے کی اشد ضرورت ہے جانتے ہیں نا ، مسٹرغنی کہCPEC میں روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے بھارت نواز افغان اشرافیہ کی نیندیں اڑا دی ہیں پاکستانی آرمی چیف جنرل باجوہ نے کرم ایجنسی میں ہونے والی افسوس ناک دہشت گردی پر اپنے سخت ردِ عمل کا بروقت اظہار کرکے ان متعلقہ مطلوب دہشت گردوں کے علاقائی و ملکی سہولت کاروں کویہ پیغام پہنچا دیا کہ پاکستانی فوج بلوچستان تا گلگت بلتستان اور کراچی تا فاٹا کی سبھی ایجنسیوں کی سرحدوں پر چوکنا ہے اور چوکس ہے ،ساتھ ہی پاکستانی سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر افغان صدر کو ذاتی طور پر فون کرکے باور کرادیا ہے اگر وہ دہشت گردی کو جڑ بیخ سمیت اکھاڑ نے میں قرار واقعی نیک نیت ہیں تو فی الفور انہیں فول پروف باڈر سسٹم پر پاکستان سے دوطرفہ انٹیلی جنس سہولیات پر اعلی سطحی مذاکرات شروع کردینے چاہئیں جہاں تک بھارتی خفیہ ایجنٹوں کی انسانیت دشمن سرگرمیوں اور مذموم پروپیگنڈا مہمات کا تعلق ہے، اس بارے میں پاکستانی حساس سیکورٹی ادارے اپنے فرائض سے ایک پل غفلت کے مرتکب نہیں ہوسکتے آجکل نریندرا مودی حکومت اپنی اندرونی پے درپے سیاسی ناکامیوں پر سخت جھنجلاہٹ سے گزر رہی ہے لہذاچین کے ساتھ پاکستان کو نتھی کرکے CPEC کی راستوں کو جواز بنا کر اگر اس نے مہم جوئی کی کوئی راہ اپنائی تو اِس کا تمام تر خمیازہ بھارت کو بھگتنا پڑے گا، امید ہے نئی دہلی اب را کو لگام ڈالنے کی راہ پر آجائے گی اور یہ اس کے اپنے حق میں بہتر ہوگا لگتا ہے۔
*****