- الإعلانات -

پاکستان ترقی پذیر یا تنزل پذیر ملک

اکثر سننے میں آتا ہے کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے۔ ہم ترقی کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔ آئیں ناقدانہ تجزیہ کریں کہ بحیثیتِ قوم ہم کس طرف بڑھ رہے ہیں۔ واقعی ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں یا کہ تنزل کی طرف۔ اس سلسلے میں ہم اپنے ملک کا مارل، سیاسی اور اقتصادی حیثیت سے تجزیہ کریں گے۔ سب سے پہلے مارل حیثیت سے دیکھیں تو شاید اس نام کی کسی چیز کا ہمارے ملک میں رواج نہیں۔ ملک میں کتنے بڑے بڑے دہشت گردی کے واقعات ہو جائیں یا کسی حکمران پر کوئی بڑے سے بڑا الزام لگ جائے حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ہم پشاور کے آرمی پبلک اسکول کی بات کرتے ہیں۔ جس میں سفاک دہشت گردوں نے سیکڑوں معصوم بچوں سے معلومات کر کے انہیں شہید کیا تھا۔ کیا اس وقت مارل حیثیت سے خیبر پختون خواہ حکومت کے سربراہ کو بچوں کے دکھ کا مداوا کرتے ہوئے استعفیٰ نہیں دے دینا چاہیے تھا؟ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ اس سے قبل پاکستان میں ایسی نظیر نہیں ملتی۔ جبکہ ہم مغربی ملکوں ،حتیٰ کہ ہمارے پڑوس ملک، ازلی دشمن بھارت میں ایسی نظیریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے برطانیہ میں اس بات پر ریفرنڈیم ہوا تھا کہ یورپی یونین میں برطانیہ کو شامل رہنا چاہیے یا اس سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم اس بات پر سوچ رکھتے تھے کہ برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل رہنا چاہیے۔ ملک میں ریفرنڈیم ہوا اوربرطانوی عوام نے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ استعمال کیا۔ دیوڈ کیمرون نے یہ کہہ کر مارل گراؤنڈ پر استعفیٰ دے دیا کہ میری قوم نے مجھ پر اعتماد نہیں کیا اس لئے مجھے اُن پر حکمرانی کا حق نہیں۔ بغیر کسی دہشت گردی کے واقعہ بلکہ صرف عوام کے رائے کے تقدس کا احترام کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دے دیاتھا۔ اس طرح اگر پاناما لیکس کی بات کی جائے تو کئی ماہ گزر گئے قوم ایک ہیجان میں مبتلا ہے حکمران کہہ رہے ہیں اپوزیشن ملک میں ترقی نہیں دیکھ سکتی۔ کیا ایسا ہی معاملہ دنیا میں دوسرے ملکوں میں پیش نہیں آیا ؟ کیادو حکومتوں کے وزیر اعظم نے استعفے نہیں دے دیے، ایک نے پارلیمنٹ کے اندر اپنی صفائی پیش کی اور معاملہ ختم ہو گیا۔پھرپڑوسی ملک کا تذکرہ کرنا پڑ رہا ہے کہ وہاں اس کے حل کا فارمولہ جمہوری طریقے سے طے کردیا گیا۔ ہمارے وزیر اعظم نے دو دفعہ الیکٹرونک نیٹ ورک پر تقریر کر کے اپنے آپ اور اپنے خاندان کے احتساب کی بات کی اور پھر ایک دفعہ پارلیمنٹ میں میں بھی اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کیا ۔ اپوزیشن کے دباؤ پر عدلیہ کو بھی پرانے قانون کے مطابق احتساب کیلئے خط لکھا۔ عدالت نے کہا کہ پرانے قانون میں فیصلہ سنانے میں سالوں لگیں گے۔ نیا قانون بنایا جائے تب ہم اس کیس کو سنیں گے۔ ٹی او آر کے معاملے کو حکومت نے اتنا لمبا کیا کہ اپوزیشن سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوئی۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم الزام لگنے پر مارل گراؤنڈ پر مستعفی ہو جاتے۔ اور اپنی ہی پارٹی کے کسی دوسرے فرد کو وزیر اعظم بناد یتے۔ آزاد عدلیہ الزام کا فیصلہ کرتی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوتا۔ الزام غلط ثابت ہونے پر دوبارہ وزیر اعظم بن جاتے۔ مگر ہمارے ملک میں مارل ویلیوز کا کوئی ریکارڈ نہیں یہی تنزل ہے۔ ملک کئی مہینوں سے پاناماکے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ اب مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے۔ جس کی ڈے ٹوڈے عدالتی کاروائی ہو رہی ہی ہے۔ لگتا ہے فروری کے پہلے ہفتہ میں کوئی نہ کوئی فیصلہ سپریم کورٹ سنا دے گی۔ جہاں تک دنیا کے مقتدر لوگوں کے خاندانوں کا تعلق ہے تو امریکا کے سابق صدر اوباما کی بیٹیاں ہوٹل میں ملازمت کرتی رہی ہیں۔نائب صدر کے پاس اپنے عزیز کے علاج کیلئے مناسب پیسے نہیں تھے۔ہمارے برادر ملک ترکی کے وزیراعظم کا والد خراد مشین پر کام کرکے اپنا گزارہ کرتا ہے۔ہمارے ملک میں حکمرانوں کے محل رائے ونڈ اوردوسرے کے سرے محل کے تذکرے عوام سنتے رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم کی نواسی کی شادی پر اتنا خرچ کیا جاتا ہے کہ مغل بادشاہوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ ہمارے ملک میں غربت عام ہے اور ہمارے ایک صدر کے گھوڑے مربے کھاتے تھے۔ اگرسیاست پر بات کی جائے تو اس کو سیاست دانوں نے عبادت کی بجائے کاروبار بنایا ہوا ہے۔ لاکھ لگاؤ کروڑ کماؤ والی پالیسی چل رہی ہے۔ ایک پارٹی کے صدر ٹین پرسنٹ سے ہینڈرنٹ پرسنٹ تک مشہور ہوئے۔ ساٹھ لاکھ ڈالر سوئس بنکوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے دو وزیر اعظموں پر کرپشن کے الزام پر عدالتوں میں مقدمے چل رہے ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم پر پاناما لیکس کا مقدمہ چل رہا ہے۔ ان کے بچے باہر ملکوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔وزیر اعظم دوسرے لوگوں کو پاکستان میں انوسٹمنٹ کی ترکیب دلاتے ہیں جبکہ ا ن کے بچے باہر ملکوں میں کاروبار کرتے ہیں۔ان کاسرمایا باہر ملکوں میں محفوظ ہے۔ سیاست دانوں اور ان کے بچوں کاعلاج باہر ملکوں میں ہوتا ہے۔ اقتصادی ترقی پر بات کی جائے تو پاکستان میں نہ پہلی حکومتوں نے کوئی خاص ترقی نہیں کی نہ ہی موجودہ حکومت نے کچھ کیا۔ پہلی حکومتوں نے بجلی جیسی بنیادی ضرورت کیلئے کچھ بھی نہیں کیا بلکہ ایک یونٹ کا بھی اضافہ نہیں کیا۔ بجلی نہ ملنے کی وجہ سے کئی ملیں بند ہو گئیں ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے عوام نڈھال ہو جاتے ہیں۔ اس طرح گیس کا بھی معاملہ ہے۔ جہاں جمہوریت کا نظام ہوتا ہے وہاں اگر حکمرانوں میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت نہیں ہوتی تو ایسا ہی ہوتا ہے جیسے پاکستان میں ہو رہا ہے۔ حکمران ملک کے اداروں کو جنہوں نے ملک کے نظام کو چلانا ہوتا ہے اگر صحیح او ر آزادانہ کام نہ کر نے دیا جائے تو پھر سپریم کورٹ کو ریماکس دینے پڑتے ہیں کہ ملک کے ادارے مفلوج ہو گئے ہیں۔ ہاں پاکستان میں چین پاک اقتصادی راہداری سے ترقی ضرور ہوگی ۔ ایک تو اس میں چین نے اپنا فائدہ دیکھنا ہے دوسرااس میں ابھی وقت لگے گا۔ اللہ اس پروجیکٹ کو دشمنوں کی نظر سے بچائے ۔ پاناما لیکس پر عدالت کے باہر اور شام کو الیکٹرونک میڈیا پر تو اس وقت سیاستدانوں کے درمیان ایک قسم کشتی ہو رہی ہے۔ اللہ کرے پاناما لیکس کیس کا جلد فیصلہ ہو جائے ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔