- الإعلانات -

جیلوں میں مسائل اور اس کیلئے درکار اصلاحات

پوری دنیا خصوصاً پسماندہ ممالک میں آبادی کی شرح میں تیزی اپنے دامن میں غریب، محروم اور مظلوم انسانوں کا بحربیکراں لئے خطرناک اضافہ کی طرف گامزن ہے ۔ انسان دنیا کے ہر مسئلے پر قابو پاتا گیا لیکن اپنی آبادی کے بڑھنے پرکنٹرول نہ رکھ سکا جس کیوجہ سے انسانی مسائل کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی گئی اور انسان آلودگی، ناخواندگی ،غربت اور بیروزگاری جیسی لاتعداد اور ان گنت بیماریوں کا شکار ہوتا گیا ۔محترم قارئین یہاں میرا مقصد اور موضوع بہبود آبادی سے نہیں لیکن جہاں وطن عزیز کی آبادی میں روز افزوں اضافہ خطرے کی حدوں سے تجاوز کرگیا ہے وہاں اسی سبب ہمارے ملک کی جیلیں بھی بے ہنگم دباؤ کا شکار ہیں ۔آبادی میں اضافہ کیساتھ ساتھ جرائم کی شرح بھی بڑھ رہی ہے اوروطن عزیزکی جیلیں اس سیلاب رواں دواں کو اپنے دامن میں ٹھہرانے اور بسانے میں ناکام ہوچکی ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں 54ہزار سے زائد قیدی اورحوالاتی نظر بند ہیں۔ جیلوں میں عورتوں اوربچوں کی ناگفتہ بہ حالت کی خبریں اکثر اخبارات میں پڑھنے کوملتی ہیں اور جیل حکام کی طرف سے ان پرتشدد کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ دراصل نو آبادیاتی حکمرانوں نے اپنی مخصوص ضروریات، افتادطبع اور نفسیات کے تحت جابرانہ ، مینوئل کے خدوخال ان خطوط پر اجاگر کیے جن کے نتیجے میں جیلیں مقامی قیدیوں کیلئے بجائے اصلاح کے جرائم کی اکیڈمیاں اوربگاڑکی تربیت گاہیں بن گئیں ۔ یہ تو ہرکسی کے علم میں ہے کہ نوآبادیاتی دور کے وضع کردہ قوانین میں غلام رعایا کو مزید کچلنے کیلئے درندگی کی روح شامل کردی گئی تھی ۔ وطن عزیز میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد ایسے ہیں جو ناکردہ جرم کی پاداش میں جیل کی آبادی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کی پولیس ہے جو بے گناہ کوگنہگار اور گنہگار کو بے گناہ کرنے میں ماہر ہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جیل میں بند حوالاتیوں اورقیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق کمیشن کا جنیوا کارڈ جوسہولیات مہیا کرتا ہے وطن عزیز کی جیلوں میں اس کا پر تو بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ہرحکومت جیل کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی ایک حد تک کوشش توضرورکرتی ہے اورکچھ این جی اوز بھی اس سلسلے میں فعال اورمثبت کردار ادا کرتی ہیں لیکن ابھی تک مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں ہوا اورجیلوں میں اوورکراؤڈنگ کے مسئلہ پرقابو نہیں پایا جاسکا ۔ سابقہ حکومتیں جیلوں کے متعلقہ مسائل کیلئے جو بھی حکمت عملیاں اپناتی رہیں لیکن معاملات جیل قابومیں آنے اور کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے گئے ۔ جیلوں میں قید خواتین کے حوالے سے قومی پرنٹ اور بین الاقوامی الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جو اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں ان کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی جیلوں میں قید خواتین کی بے بسی دیدنی ہے اوریہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کررہی ہیں ۔ جیل عملہ انہیں واضح عدالتی ہدایات اور جیل ضوابط کے باوجود مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کررہا بلکہ جیل کا عملہ ان سے بدکلامی ، بد اخلاقی اوربدسلوکی کرنا اپنا استحقاق جانتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قید خواتین کی بڑی اکثریت محروم ، غریب اور زیریں متوسط طبقات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ جیلوں میں بعض خواتین کوغلط الزامات کی بنیاد پر قید میں رکھا گیا ہوتا ہے۔ ایسی خواتین کا مستقبل کیا ہوتا ہے؟ کیاجیلوں سے چھوٹ جانے کے بعد معاشرہ انہیں قبول کرنے کیلئے تیار ہے اورعزیز و اقارب انہیں اپنانے کیلئے تیار ہوتے ہیں؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟اورخواتین کیلئے دوہرا عذاب، اپر پنجاب جس میں راولپنڈی ، گوجرانوالہ اورسیالکوٹ شامل ہے وہاں منشیات فروشی کے الزامات کے تحت بہت سی خواتین اور ان کے ساتھ کم سن بچوں کوگرفتارکیا گیا۔ ایسی خواتین بہت سے گھریلو مسائل سے دوچار ہوتی ہیں اوربعض اوقات ان کے یہ مسائل حد سے تجاوزکر جاتے ہیں ۔ وہ ڈیپریشن اور ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوجاتی ہیں اوربعض لوگ انہیں غلط کاموں میں پھنسا دیتے ہیں ۔ بعض اوقات والدین پسند کی شادی کو اناء کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور اسے کوئی اور بھی رنگ دے دیتے ہیں۔بہرحال اکابرین اختیار و اقتدار جیلوں کوعقوبت خانے نہیں بلکہ اصلاح خانے بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں ۔مارچ 2008ء کوچیف جسٹسزکمیٹی کے اجلاس میں خواتین، نابالغ اور مفلس ملزموں اورقیدیوں کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے بعض فیصلے کیے گئے تھے لیکن اصل اقدام فیصلے کرنا نہیں بلکہ ان فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اب یہ ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ چیف جسٹسز کمیٹی کے ان فیصلوں پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان کی تمام جیلوں میں محبوس قیدیوں، حوالاتیوں اور ان کے لواحقین کے بے شمار حل طلب مسائل کا جائزہ لینے کے بعد ان چند باتوں کومد نظر رکھ کر ان پرعملدرآمد کروانے کی اشد ضرورت ہے ۔1۔جیلوں میں اوورکراؤنگ کیوجہ سے آئے روز ہنگامے ہوتے ہیں اگر اوورکراؤڈنگ پرقابو پالیا جائے تونوے فیصد مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔اس کیلئے جن اضلاع میں جیلیں نہیں وہاں بھی جیلیں تعمیر کرنا ضروری ہے ا ورخواتین کیلئے علیحدہ جیل بنائی جائے۔2۔ خواتین اور نابالغ ملزمان مقدمات کی جلد سماعت کیلئے خصوصی بینچ تشکیل دیاجانا چاہیے ۔ ہزاروں افراد جرمانہ ادا نہ کرسکنے کی بناء پر جیلوں میں بند ہیں ۔اگر ان کا جرمانہ ادا ہوجائے تو ان لوگوں کے آزاد ہونے سے جیل میں مزید قیدیوں کیلئے گنجائش پیدا ہوسکتی ہے اس کیلئے ایک مخصوص فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے۔3۔ جو قیدی مرد خواتین اور بچے اپنی سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل نہیں کرسکتے انہیں ایسی سہولیات بہم پہنچائی جائیں کہ وہ اپیلیں کرسکی۔4۔ خواتین کی زچگی اور علاج معالجے کی سہولتوں کو قیدیوں کیلئے بہتر بنایا جائے ۔ جیل سپرٹینڈنٹس کا انسانی اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ جیلوں میں متعینہ ڈاکٹر حضرات کوپابند کریں کہ وہ قیدیوں کو سپلائی ہونے والی خوراک کا مکمل چیک اپ کریں۔5۔ مقدموں کی طوالت کے سبب بھی قیدیوں کوجیلوں میں کئی کئی سال تک رہنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں پولیس وقت پر کیس تیار کرکے کورٹوں میں پیش کرے اور جلد انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے ۔6۔ عادی جرائم میں ملوث قیدیوں کو معمولی جرائم والے قیدیوں سے الگ رکھا جائے۔7۔ جیل ملازمین کو انسانی نفسیات کی ضروری تعلیم دی ج ائے اور بدکردار اور جنسی تشدد میں ملوث عادی ملازمین کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں ۔ ایک جیل میں تعینات جیل افسران کو اپنا ٹینور پورا کرنے کے بعد تبدیل کردیا جائے۔8۔ جیلوں میں حوالاتی یا قیدی کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے والے مجرموں اور ملزموں اسلامی تعلیمات اورقرآن پاک کا درس روزانہ کی بنیاد پر دیا جائے تاکہ سزا پوری ہونے پر یہ معاشرے کے اچھے انسان بن سکیں ۔ جیل کے چھوٹے عملے کی تنخواہوں میں معقول اضافہ کیا جائے امید اورتوقع کی جاتی ہے کہ مظلوم قیدیوں کو اسلام کے زریں اصولوں ایسی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں گی جن کے بارے میں ہمارا مذہب اسلام تلقین اورتاکید کرتا ہے۔

شنوائی۔۔۔ شوق موسوی
جو کاغذات آئیں گے چنتے رہیں گے ہم
جو بھی کہیں وکیل سر دھنتے رہیں گے ہم
کچھ دن ہوئے یہ منصفوں نے صاف کہہ دیا
جب تک نہ ذہن بن سکا سنتے رہیں گے ہم