- الإعلانات -

عالمی برادری مسئلہ کشمیر و فلسطین حل کروائے

فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کوحل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔مسئلہ کشمیر وفلسطین حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین سے اسرائیلی آبادی کے انخلاء کی حمایت کرتے ہیں‘ پاکستان فلسطین کیلئے اپنی حمایت جاری رکھے گا‘ مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔فلسطینی صدر سے ملاقات انتہائی مفید رہی۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ فلسطین سے اسرائیلی آبادی کے انخلاء کی حمایت کرتے ہیں۔عالمی برادری مسئلہ فلسطین کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔1967کی فلسطینی سرحدوں کو بحال کیا جانا چاہئے مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔ ملاقات میں نواز شریف کو اسرائیلی مظالم اور مقبوضہ علاقوں کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ فلسطینی صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان بھارت مذاکرات کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یروشلم سے امریکی سفارتخانے کی منتقلی پر تشویش ہے تعلیم اور مختلف شعبوں میں پاکستان کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔ فلسطینی طلبہ پاکستان کے تعلیمی اداروں سے مستفید ہورہے ہیں ۔ محمود عباس نے کہا کہ خطہ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے۔پاکستان اور فلسطین کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کے وفد کی قیادت کی جبکہ فلسطینی وفد صدر محمود عباس کی سربراہی میں ملاقات میں شریک ہوا۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ دونوں مسائل کے ادراک کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت کے ساتھ برسوں سے حل طلب پڑے مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث یہ لاینحل روپ دھارتا جارہا ہے اور برسوں سے اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادیں تشنہ تکمیل پڑی ہیں۔ بھارت ایک طرف مقبوضہ کشمیر پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف سرحدی قوانین کی سرعام خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی ملوث ہے جس کے خلاف پاکستان ایک تواتر سے احتجاج کرتا چلا آرہا ہے ۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے ادارے نجانے کیوں کورچشمی اور سرد مہری کا مظاہرہ کررہے ہیں اگر ان کا یہ ہی رویہ رہا تو ان اداروں پر اعتماد اٹھ جائے گا اور ان کا کردار ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا ۔ مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین ان کا منصفانہ حل وقت کا تقاضا ہے جس سے پہلوتہی خطے کے امن کیلئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اوردونوں مسئلوں کو حل کروانے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہ کرے ۔ آخر کب تک ظلم و ستم کا یہ بازار گرم رہے گا ۔کشمیریوں اور فلسطینیوں پر یہ بربریت جاری رہے گی عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس ضمن میں فعال اور موثر کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے ادراک کو یقینی بنائیں۔
پاک فوج ملکی دفاع سے غافل نہیں
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشنز کے بعد دہشت گردوں کو کسی صورت واپس نہیں آنے دیں گے ، جہاں ملیں ان کو مار دیں گے، پالیسی واضح ہے پاکستانی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دینگے ۔ آپریشنز کے بعد دہشت گردوں کو کسی صورت واپس نہیں آنے دیں گے ،دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے ۔ دوسری طرف قومی سلامتی کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ حافظ سعید پر پابندی کے حوالے سے ریاستی اداروں نے فیصلہ کیاہے،حافظ سعید کی نظربندی پالیسی کے مطابق اور قومی مفاد میں ہے،قومی مفاد ہرچیز پرمقدم ہے، ہرادارے،ہرفرد نے اپنااپناکام کیاہے۔ بلاگرز کی گمشدگی سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں اگروزیرداخلہ نے بلاگرزکے حوالے سے کچھ کہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کااشارہ انٹیلی جنس ایجنسیز کی طرف تھا،آرمی بھی ریاست کا حصہ ہے،بھارت کولڈوار سٹارٹ کرے یا نہ کرے مہم جوئی پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا،ہم جنگ نہیں چاہتے اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کاجواب دیا جائے گا۔ پاکستان میں فوج ایک خاندان کی طرح ہے،جتنا خیال پاک فوج میں سپاہیوں کا رکھا جاتا ہے،اتنا کہیں نہیں رکھاجاتا۔پاکستان کے امن کی خواہش کمزوری نہ سمجھا جائے ،چندعناصر قومی یکجہتی پر قیاس آرائیاں کرکے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ درست ہے کہ دہشتگردی کے خلاف موثر بیانیہ ترتیب دینے میں میڈیا اہم کرداراداکررہا ہے۔وہی قوم جو کہتی تھی یہ ہماری جنگ نہیں آج وہ افواج پاکستان اور اداروں کے ساتھ ہے،اس میں میڈیا کا اہم کردارہے۔ پاک فوج ملکی دفاع سے غافل نہیں ہے وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
حکومت نے عوام پر پٹرول بم گراتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جس کی تفصیلات کویوں دیکھا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیلئے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 2روپے 25پیسے کا اضافہ کیا ہے ۔ ڈیزل کی قیمت میں 2روپے26پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جس کے تحت لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 43.34روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت43روپے 25پیسے پر برقرار کھنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مکمل اضافہ صارفین کو منتقل نہ کرنے اور کم اضافے کے باعث حکومت 4ارب روپے کی سبسڈی دے گی اور وہ اس کا بوجھ برداشت کرے گی ۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے ماہ جنوری کے اند ر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوسری مرتبہ اضافہ کیاگیاہے ۔ عوام نے پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کو مسترد کردیا ہے اور اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان کیلئے مشکلات پیدا کررہی ہے ، پہلے ہی مہنگائی شہریوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں گرانی نے ان کی کمر توڑ رکھی ہے اور اوپر سے ان پر پھر پٹرول بم پھینک دیا گیاجو عوام کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر نظر ثانی کرے اور عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ ریلیف بہم پہنچانے بارے اقدامات کرے ۔