- الإعلانات -

مزاحمتی تحریک اوردہشت گردی میں فرق

گزشتہ ماہ جنوری کے دوسرے عشرے میں بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی نے پاکستان کو دشت گردی کا’’ مرکزی محور‘‘قرار دیکر پوری دنیا میں اپنا کس قدر مذاق اُڑوایا ؟ اِس کا ذرا بھی اُن میں نہ کوئی احساس ہے نہ ہی ادراک‘ جبکہ دیگر موجود بھارتی سیاسی قائدین کے پورے ’اسٹف‘ میں اِس اعلیٰ انسانی پیمانہ کا عمیق و دقیق اور گہرا ادراک تو رہا ایک جانب‘ نام کی بھی کسی میں نہ تو کوئی سمجھ بوجھ معلوم ہوتی ہے اور نہ اُن کے کلام وبیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ وہ بطور’’ قائدین‘‘ مانے جاسکتے ہیں، جو جنوبی ایشیا ئی ممالک کے جغرافیائی لحاظ سے اور آبادی کے اعتبار کے ایک بڑے ملک کے علاوہ ایٹمی ڈیٹرنس رکھنے والے دیش کی نمائندگی کے دعویدار ہیں؟ احساسِ ذمہ داری ‘اعلیٰ سطحی ’رہبرانہ ذمہ داری ‘کس منہاج کی اور کس معتبر اور اونچے ’لیویل‘ کی پُرخلوص انسانی سوچ وفکر اور عمل وکردار کی متقاضی ہوسکتی ہے کیا ’نریندرامودی ‘ خود اور اُس کا موجودہ اور ماضی کا کرداراِس لائق ہے کہ وہ بھارت جیسے ایک بڑے جغرافیہ رکھنے والے ملک کا ‘ جہاں پر بے تحاشا مختلف النوع اقسام کی تہذیبی وثقافتی اکائیاں رہتی بستی ہوں ،جہاں ایک دو نہیں کئی مذاہب کے ماننے والے پیروکار صدیوں سے رہتے چلے آرہے ہوں ،ایک ایسے اہم کثیر النسلی ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کا منبع گجرات کا قصاب ’ نریندرامودی ‘ بن جائے ؟کیا گزشتہ تین چار برسوں میں بھارت نے نریندرامودی ٹائپ کی قیادت کو نئی دہلی کی مرکزی حکومت کی باگ ڈوردیکر کوئی اہم اور کوئی حیرت انگیز ترقی کی ہے؟ یا وہ سماجی ومعاشرتی انارکی کی تنزلی کی جانب کسی گہری کھائی کے دہانے پر تو آکھڑ نہیں ہو ا ؟ چلیں چھوڑیں! بھارت میں چلنے والی دیگر علیحدگی پسند تحریکوں کی ’اوپن ‘ اور ’انڈر ڈور‘ مزاحمتوں کی کیا بات کریں؟ ہمارا تو صرف اتنا سا مدعا ضرور ہے، بحیثیتِ ایک پاکستانی مسلمان کے ‘ عالمی میڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ برتی جانے وا لی مسلم دشمن متعصبانہ پالیسیوں میں دیانتدارانہ انصاف کی دھجیا ں آخر کیوں اُڑا ئی جارہی ہیں؟ امریکہ ا ور مغرب میں کیا ہورہا ہے’ اُس پر بات کرنا ہمارا بنیادی انسانی حق بنتا ہے، لیکن ،یہاں جنوبی ایشیا میں بھارت نے ’دہشت گردی ‘ کو ’انسانی حقوق ‘ کے ساتھ گڈ مڈ کرکے دنیا کو بڑی گمراہی کی راہ پر ڈال دیا اور سخت ترین تاریخی جرم کا ارتکاب کرڈالا، اِس پر گزشتہ ماہ جنوری میں پاکستانی پارلیمنٹ میں برحق احتجاج کیا گیا، جس احتجاج میں بھارتی وزیر اعظم کے اِس ’گمراہ ترین ‘ بے سروپابیان کا پاکستانی سینٹ نے نوٹس لیا اور یہ متفقہ تسلیم کہا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کا منبع قرار دیکر ایک ’تخریبی بیان ‘ دیا ہے، جسے پاکستانی عوام مسترد کرتے ہیں بھارتی وزیر اعظم اپنا یہ مذموم بیان واپس لیں یقیناًنریندرامودی فاشسٹ طرزِ حکمرانی کے پیروکار کل بھی تھے آج بھی بالکل بھی نہیں وہ تبدیل ہوئے لہٰذاء 20 کروڑ پاکستانی عوام عالمی میڈیاکے غیر جانبدار اور انصاف پسند حلقوں کی توجہ اِس جانب مبذول کرانے کے بے حد متمنی ہیں کہ ’دہشت گردی اور انسانی حقوق‘ کا مابین واضح تفریق کے لحاظ کو سمجھا جائے دہشت گردی عالمی دنیا سمیت عالمِ اسلام کے نزدیک ایک قبیح فعل ہے جبکہ ’انسانی حقوق‘ یعنی یہ کہ انسانوں کے بنیادی حقوق جس میں اُن کی آزادی کی بات ہوتی ہے انسانی آزادی سے مراد یہ کہ اُن کا حقِ استصوابِ رائے کا تسلیم کیا جانا ‘ ہر کسی انسان کا کسی دوسرے ظالم وجابر انسان کی غلامی کا جوا اتار پھینکنے کے لئے مزاحمت کرنا ‘ صدائے احتجاج بلند کرنا انسانی تاریخ کے ہر دور میں لائق صد افتخار سمجھا گیا ہے مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ آٹھ نو دہائیوں سے اہلِ کشمیر غاصب سنگدل بھارتی افواج سے اپنے اِسی بنیادی حق کے حصول کے لئے بڑی جاں نثاری قربانیوں پر قربانیاں دئیے چلے آرہے ہیں وہاں پر نہ تو کوئی دہشت گردی ہورہی ہے، نہ کسی آئینی تسلیم شدہ حکومت کے خلاف کوئی بغاوت ‘ کشمیر پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے، جسے بھارت نے خوداقوامِ متحدہ میں تسلیم کررکھا ہے 9/11 سے قبل کبھی بھارت نے کشمیر میں جاری تحریکِ آزادی کو ’دہشت گردی ‘ کا نام نہیں دیا تھا ’در اندازی وغیرہ قسم کی بے سروپا باتیں ضرور کیا کرتا تھا ‘یعنی 9/11 کا واقعہ جیسے ہم یوں سمجھیں تو زیادہ قرینِ قیاس ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے لئے ’جواز‘ کا کوئی ٹھوس بہانہ آسمان سے آٹپکا ہو؟امریکا نے دہشت گردی کی عالمی گردان کیا الاپی بھارت نے ایک عین انسانی جائز کشمیر ی مزاحمتی لائن پر نئے سرئے سے حملہ آور ہوتے ہوئے اب اِسے دہشت گردی کہنا شروع کردیا ؟ یہ بہت بڑی اور فا ش قسم کی واضح ناانصافی کی بات ہے آزادی ِٗ کشمیر کے انسانی حقوق کی اِس مزاحمتی تحریک کو ’دہشت گردی ‘ سے منسلک کرکے عالمی میڈیا کی خاص توجہ کو کشمیر کے سنگین مسئلے سے ہٹانے کی اِس ناکام کوشش پر پاکستانی پارلیمنٹرین سخت سراپاا حتجاج ہیں سینٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت پاکستان کی خود مختاری اور سا لمیت پر کبھی کوئی آنچ برداشت نہیں کرئے گی ساتھ ہی بھارت نے مسئلہ ِٗ کشمیر کو سرد خانے کی نذر کرنے کے اپنے جس بہیمانہ مذموم مقاصد کے پیچھے چھپ کر دہشت گردی کو کشمیری تحریکِ آزادی سے ملاکر پیش کرنے کی جو مبینہ کوشش کی ہے پاکستان اُس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے وہ کل بھی کشمیریوں کے حقِ استصوابِ رائے کا ضامن تھا اور آج بھی پاکستان اہلِ کشمیر کے ساتھ ہے، آئندہ بھی پاکستان دنیا بھر میں جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں پاکستان اُن کی کھل کر حمایت کرتا رہے گا ‘ پاکستان سینٹ میں ہونے والی یہ اہم کارروائی اہلِ کشمیر کے ساتھ پاکستانیوں کے بے پناہ لگاؤ کا کھلا ہوا ثبوت ہے پاکستانی وزیر دفاع نے اِس موقع پر نہایت تفصیل سے بھارت کی حالیہ تازہ ترین جارحانہ رپورٹوں کا ایک جائزہ بھی سینٹ میں پیش کیا جس میں اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس2016 میں دسمبر تک بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر 290 مرتبہ مہلک اور ہلکے ہتھیاروں سے گولہ باری کی‘ بین الااقوامی سرحد پر330 مرتبہ بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ، بھارتی فوج کی اِن بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے 45 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جبکہ 138 پاکستانی زخمی ہوئے وفاقی وزیر دفاع نے سینٹ کو یہ بھی بتایا کہ پاکستانی فوج نے ہر مرتبہ ہونے والے جارحانہ حملوں کا بروقت تشفی بخش عسکری جواب بھارتی فوج کو لوٹایا ہے جس پر بھارتی فوج کا بے ھد جانی نقصان ہوا جسے بھارتی حکومت نے اپنے عوام سے چھپانے کی لاکھ کوشش کی مگر وہ اِس میں ناکام ہوئی ہے بھارتی عوام سمجھ چکے ہیں کہ اُن کی نئی دہلی کی مرکزی حکومت ’سر جیکل اسٹرئیکس ‘ کے نام پر کل بھی جھوٹ بولتی رہی اور اب تک بھارتی نئے آرمی چیف بھی ’پنجابی فلموں‘ کی طرح صرف بڑکھیں مارتے ہی دکھائی دیتے ہیں لہذاء بھارت کو کبھی نہ کبھی اپنی جنگی جنونی کیفیتوں کے حصار سے باہر نکل کر امن کی بالادستی کے سامنے سرنگوں ہونا ہی پڑے گا ۔
****