- الإعلانات -

بیانیے کی جنگ ، حدوداور لبرلز

بھینسا اپنے باڑے میں واپس آگیا ہے ، جب یہ گم ہوئے تھا تو بڑا شوربرپاتھا، پاکستانی فوج پر انگلیاں اٹھنے لگی تھیں ، کچھ لوگوں کو بڑادرد ہو رہا تھا ، لگتا تھا کہ کسی کی دم پر پاؤں آگیا ہے یا کوئی حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ،مگر بسا آرزو کہ خاک شدہ ! بھینسا اپنے ’’طویلے ‘‘ میں واپس آگیا ، موچی بھی کسی کی جوتیاں پالش کرنے کے بعد مزید جوتیوں کی پَنڈ اٹھائے واپس اپنے ’’ٹھیے ‘‘ پر آگیا ، روشنی بھی کرنٹ لے کر کسی جگہ اپنے جلووں کی تاب دکھانے کے تیار ہے ، یہ سب ہوایا کیاگیامگراس میں پاک فوج کا کیا قصورتھا؟ کچھ لوگ جان بوجھ کر ایسا رویہ کیوں اپنا رہے تھے کہ جیسے یرقان کے مارے کوہرطرف پیلا پیلا نظرآتا ہے یا ساون کے ’’ترسے‘‘ کو ہرطرف ہراہرا سوجھتا ہے ؟ کچھ لوگوں کو بیماری ہوتی ہے کہ وہ انہیں ہر چیز میں کسی خاص چیز کا ہاتھ نظرآتا ہے ،اب تو پاک فوج نے بھی اس بات کی تردید کردی ہے کہ بلاگرز کی گمشدگی میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا ، تو اب یہ دیمک زدہ صحافی کس پر الزام لگائیں گے ؟ مگر یہاں اسے بیانیے کی جنگ قرار دے دیا گیا، مسئلہ بنانیے کی جنگ کا نہیں ہے مسئلہ بیانیے کی حدود وقیود کا ہے۔
یہ اظہاررائے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایذارِ رائے کا ہے ، مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں کسی اور کے مذہب کو برا کہوں تو کسی دوسرے کوکیا حق پہنچتا ہے وہ میرے مذہب کو برا کہے، اس کا مذاق اڑائے ، اس کی تضحیک کرے ، اس کی مسلمہ تعلیمات کو طعن وتشنیع کانشانہ بنائے ، بلاگرز نے یہی تو کیا تھا اور کررہے ہیں اور اب تو ان کا ’’جھاکا‘‘ مزید کھل گیا ہوگا ،اب وہ اس مکروہ دھندے کو آگے بڑھائیں گے ، اور ان کے ہمنوا بھی ہاتھوں میں قلم نما ساز پکڑے ان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں مگر! وہ لوگ آزادی رائے کی حدود کا تعین کیوں نہیں کرتے ؟ کیا نبی کریم کے متعلق ہربات کہی جا سکتی ہے ؟ ان کی ازواج مطہرات کو نشانہ تنقید بنایاجاسکتا ہے ؟ اسلام اور قرآن کی تعلیمات کا مذاق اڑایاجا سکتا ہے ؟ کیا اس سلسلے میں کوئی حدود وقیود نہیں ہیں ؟ کیا شخصی آزادی صرف ان کی ہے ؟ عزت نفس کا استحقاق صرف یہی لوگ رکھتے ہیں ؟ کیا کسی کو اپنے دفاع کا بھی حق حاصل نہیں ہے ؟ جسے دیکھو وہ اسے بیانیے کی جنگ قراردے کر اصل مبحث سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے ،اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو اظہاررائے کی آزادی ہے یا نہیں ہے ؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ آزادی کہاں تک ہے ؟ کیا اس آزادی کی کوئی حدود بھی ہیں یا نہیں ؟ اپنی زبان اور قلم کا استعمال بلاروک ٹوک کیا جائے گا یا اس کا بھی کوئی دائرہ کار ہے ؟ میں آزادہوں اور میرا قلم بھی آزاد ہے مگر کیا میں اپنے ہاتھ سے کسی کا تھوبڑا توڑ سکتا ہوں اور اپنے قلم کے ساتھ کسی کی عزت بھی صفحات کی ’’زینت ‘‘ بناسکتا ہوں ؟ آزادی کی حدود کا تصور ایک شخص کی ذات سے ہوتا ہوا گھرتک آتا ہے اور وہاں سے ہوتا ہوا ایک ملک تک چلا جاتا ہے ، کیا میں کسی کے گھر میں بلااجازت داخل ہوسکتا ہوں کیونکہ میں آزاد ہوں اور مجھے آزادی فعل بھی چاہیے بلکہ یہ میرا بنیادی حق ہے ؟ کیا میں کسی دوسرے ملک میں بلااجازت داخل ہوسکتا ہوں اس بات کو بنیاد بناکر کہ میں آزاد ہوں ، اگر نہیں تو یہ رویہ صرف اسلام اور نبی کریم کے بارے میں ہی کیوں ہے کہ وہاں جو مرضی کہ دو ، جو مرضی لکھ دواور بہانہ یہ ہے کہ آزادی اظہار کا حق ہر کسی کو حاصل ہے ۔
طرفہ تماشا دیکھیں کہ جو صحافی آزادی اظہار اور بیانیے کی جنگ کا نعرہ ’’مستانہ ‘‘ لگاتے ہوئے بھینسے اور موچی کی حمایت میں اپنا زور لگائے ہوئے تھے ، وہ خود کسی کو یہ حق نہیں دیتے کہ کوئی ان کے بارے میں اسی قسم کا اظہار کرسکے اور وہی بیانیہ اختیار کرے جو نبی کریم اور اسلام کے بارے کیاگیا،اگر ان صحافیوں کے نزدیک بیانیے اور اظہاررائے میں سب کچھ جائز ہے تو ان کو اس وقت تکلیف کیوں ہونے لگتی ہے جب کوئی ان کے گھر کے کسی فرد کے بارے میں نازیبہ کلمہ کہہ دیتا ہے یا ان کے کسی کالم کا جواب دیتا ہے ؟ خود تو اپنے بارے میں اتنے محتاط کہ جائز سوال پر بھی بجائے جواب دینے کے ، طیش میں آجاتے ہیں ، تو کیا اسلام اور حضور کی عزت اتنی بھی نہیں کہ کوئی ان کے بارے میں سوچ سمجھ کر لکھے یا زبان استعمال کرے ؟ ہمارے میڈیا کا مگر یہ المیہ ہے کہ وہ لوگوں کو ابھارتے ہیں ، میدان تیار کرتے ہیں اور جب کوئی واقعہ ہوجاتا ہے تو غیرت کا قتل ، بیانیے کی جنگ اور اظہاررائے کا نعرہ لگاتے ہوئے پیسے کماتے ہیں ، افسوس کہ یہ مکروہ دھندا تو طوائفیں بھی نہیں کرتی تھیں ، اگر کسی کو شک ہے تو وہ میڈیا کی تاریخ دیکھ لے ، قندیل بلوچ کے معاملے کو کس نے اچھالاتھا ؟ اسی میڈیا نے اس کے معاملے کو اچھالا، اس کے گھر والوں کا نام پتا نشر کیا، اس کے گھر والوں کو منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑااور جب بھائی نے اسے قتل کردیا تو یہی میڈیا بین کرنے لگاکہ بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کردیا ، اگر اس کا قتل بھائی نے کیا تو کیا اس کا میدان میڈیا نے تیار نہیں کیاتھا؟ مگر یہ احساس کون کرے کہ سبب پہلے ہوتا ہے اور مسبب بعد میں ، اگر یہ صحافی نبی کریم اور اسلام کے بارے میں بیانیے اور اظہاررائے کو جائز جانتے ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ لوگوں کو یہ دعوت دیں کہ ان کے بارے میں بھی اسی قسم کی بحث کی جائے اوروہی بیانیہ اختیار کیا جائے جو نبی کریم کے بارے میں اختیار کیا گیا،کیا وہ اس بات کی اجازت دیں گے؟ اگر یہاں نہیں تو وہاں کیسے جائز ہو گیا ؟ یعنی یہاں پیو تو حلال اور وہاں پیو تو حرام؟ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑواکڑوا تھو، ہاں مگر ایسا کیوں؟