- الإعلانات -

گھر کے بھیدی

بادشاہ سلامت کے لیے یہ ایک کڑا امتحان تھا ، ایک ملک نے پڑوسی ملک پر چڑھائی کر دی تھی ، بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ ان حالات میں پڑوسی برادر ملک کی مددکرنی چاہیے ، چنانچہ جنگی محاذ پر مدد کرنے کے ساتھ ساتھسرحد بھی کھول دی گئی ،یوں اس ملک کے متأثرہ لوگ جوق در جوق اس پار آنے لگے ، یہاں کے لوگ بھی کھلے دل کے واقع ہوئے تھے ، انہوں نے مہاجرین کے لیے باہیں پھیلا دیں ، پورا ملک ان کے لیے فرش راہ بن گیا ، مہاجرین نے بھی کسی قسم کی کسر نفسی کے کام نہ لیا اور کھل کھیلنے لگے ، آہستہ آہستہ جارح ملک کو شکست ہو گئی ، اپنا وطن کس کو یاد نہیں آتا مگر مہاجرین نے واپس جانے سے انکار کردیا ، لگتا تھا کہ یہ ملک ان کو اپنے ملک سے بھی زیادہ پسند آیا ہے ، ان کو یہاں رہنے میں کسی قسم کی کوئی مشکل بھی پیش نہیں آئی تھی کیونکہ یہاں کے لوگ ان سے بھرپور تعاون کیا کرتے تھے ، ان کی بہت سی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرجایاکرتے تھے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں مگر بسا آرزوکہ خاک شدہ !
بادشاہ سلامت کو پہلا جھٹکا تب لگا جب یہ رپورٹس آنا شروع ہوئیں کہ ملک میں قتل و غارتگری کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے ، اسلحہ کی بھرمار ہو گئی ہے ، کلاشنکوف کلچر عام ہونے لگا ، سمگلنگ جڑپکڑ چکی ہے ، چوری کی وارداتیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں ، چرس، افیون ، ہفیم اور شراب وغیرہ جیسی لعنتیں معاشرے میں پھیلتی جا رہیہیں ، اغوابرائے تاوان معمول بن چکا ہے ، نوجوان نسل خراب ہونے لگی ہے، بادشاہ نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس ملک سے آنے والے لوگ جلدی جلدی امیر ہونے لگے ہیں ، کل تک جو لوگ جھونپڑیوں میں رہتے تھے آج ان کے محل تعمیر ہو چکے ہیں، کل تک جن کے پاس گدھا گاڑی تھی آج ان کے پاس جدید ترین گاڑی آچکی ہے، مقامی سطح پر بھی کچھ لوگ بہت زیادہ طاقتور ہو چکے تھے، انہوں نے مقامی لوگوں کو مارنا شروع کردیاتھا، تھانوں میں کئی ایسے واقعات رپورٹ ہونے لگے کہ جن میں مہاجرین نے اپنے ہی محسنوں کے خلاف کارروائی کی تھی ، انہیں ہی قتل کیا تھا، انہی کے گھروں میں ڈاکاڈالا تھا ، انہی کی اولادوں کو اغواکیا تھا، انہی کی دکانوں پر قبضہ کیا تھا، بات یہیں پر ختم نہ ہوئی بلکہ ان مہاجرین نے اپنے محسن ملک کے خلاف کاررائیوں کا آغاز کردیا، کچھ لوگ کھلم کھلا یہ کام کرنے لگے جبکہ کچھ ایک اور ملک کے آلہ کار بننے لگے اور ملک بھی ایسا جو ان کے محسن ملک کے خلاف دوتین جنگیں کرچکا تھا، ان حالات میں بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ اب مہاجرین کو اپنے گھر واپس لوٹ جانا چاہیے۔
لیکن اس فیصلے خلاف کچھ اپنے لوگ ہی احتجاج کرنے لگے، اس احتجاج میں بلند ترین آواز ان سیاستدانوں کی تھی جو ووٹ کے لالچ میں تھے، کچھ ایسے مقامی لوگ بھی مل گئے جو مقامی سطح پر کوئی چھوٹی موٹی سیٹ جیت جایا کرتے تھے، اس کے علاوہ قومیت کی بنیاد پر کچھ صحافی بھی ان کے ساتھ مل گئے ، ان تمام لوگوں نے یہ نعرہ بلندکیا کہ سب مہاجر تو برے نہیں ہیں ، کچھ اچھے بھی ہیں، یہ ہمارے اسلامی بھائی ہیں ، ہمیں انصار مدینہ کی سنت پر عمل کرنا چاہیے ، ان کی مددکرنی چاہیے ، جب ان کے ملک کے حالات ٹھیک ہوں گے تو یہ واپس چلیں جائیں گے ، یوں بادشاہ سلامت کچھ نرم پڑ گئے مگر یہ نرمی انہیں اور مہنگی پڑی کیونکہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں بمب دھماکے زور پکڑ گئے ، مزید یہ ہوا کہ بات خودکش دھماکوں تک پہنچ گئی ، جب کبھی کسی جگہ دھماکا ہوا،ملکی اداروں نے رپورٹ دی کہ دہشت گرد پڑوسی ملک سے آئے تھے ، ان کے کیمپ اسی ملک میں ہیں ، وہاں کی زمین استعمال ہوئی تھی ، جب اس طرح کے واقعات تسلسل کے ساتھ ہونے لگے تو ملک کی عوام میں یہ رائے زور پکڑتی گئی کہ اب ان لوگوں کو واپس جانا چاہیے ، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہم ان لوگوں کی مہمان نوازی کریں، ان کو رہنے کے لیے جگہ دیں ، ان کو اپنی مارکیٹوں میں کاروبار کے لیے دکانیں مہیا کریں اور یہ لوگ ہمارے ملک میں دھماکے کرتے پھریں ، ہمارے ہی لوگ مارتے پھریں ، ہمارے ہی بچوں کو معذور کرتے پھریں ، یہ عجیب احسان کش لوگ ہیں ، انہوں نے ہماری وفاکا بدلہ جفا سے دیا ہے ، اب انہیں واپس جانا چاہیے۔
مگر بادشاہ سلامت پتا نہیں کیوں ہربار اس فیصلے سے پیچھے ہٹ جاتے حالانکہ ان لوگوں کے کرتوت اب کھل چکے تھے ،ان کے جرائم بھی واضح ہو چکے تھے، لوگوں کو معلوم ہو چکاتھا کہ ایک خاص علاقے اور ماحول کی پیدوار یہ مہمان بدلنے والے نہیں ہیں ، لیکن بادشاہ سلامت کوپتا نہیں کس چیز نے روک رکھا تھا ، وہ نہ جانے کیوں ان لوگوں کو اپنے وطن روانہ نہیں کرتے تھے، جبکہ یہ بات بھی کھل چکی تھی کہ ملک میں ہونے والے کئی دھماکے انہی مہمانوں نے کیے ہیں ، اگر انہوں نے نہیں کیے تو سہولت کار ضرور بنے ہیں ،چاہیے تو یوں تھاکہ ان کو نکال کر اپنے ملک کا بوجھ ہلکا کیاجاتا اور اس آلودگی سے ملک کو بچایا جاتامگرایسا نہ کیاگیا، الٹا اپنے ہی لوگ مرنے کے لیے بے آسرا چھوڑ دیے گئے ، عوام تنگ آچکی تھی مگر ملک کے مقتدر ادارے ٹی وی سکرین کو ہی عوام سمجھ بیٹھے تھے ، وہاں پر بیٹھے چند تجزیہ کار ہی عقل کل شمار ہونے لگے تھے، بادشاہ سلامت کا آنا جانا عوام میں زیادہ نہ تھا ، اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ عوام بھی وہی کچھ چاہتی ہے جو بیس انچ کی چھوٹی سی سکرین پر آتا ہے ، کاش ! بادشاہ سلامت کو اس بات کاپتا چل جاتا کہ عوام تو چاہتی ہے کہ اب اس میزبانی سے ان کی جان چھوٹے، یہ لعنت وہیں اپنے وطن لوٹ جائے جہاں سے آئی تھی تا کہ ہمارے ملک میں کلاشنکوف کلچر، ہیروئن ، چرس ، ہفیم اور پوڈر کی کمی ہو ، ہمارے بازاروں میں دکانوں پر قبضے نہ ہوں ، ہمارے گھروں میں چوریاں نہ ہوں، کوئی خودکش دھماکانہ ہو مگر افسوس! کہ کچھ لوگ مؤاخاۃ مدینہ کا سہارا لے کر ان کے وکیل بن کے آجاتے مگر کاش ! کوئی ان سے یہ سوال ہی کرلیتا کہ ساری باتیں درست مگر کوئی بتا سکتا ہے کہ ان لوگوں کا کردار اسی طرح کا ہے جو مہاجرین مکہ کا تھا ؟ اگر ان کا کردار اس طرح کا نہیں ہے تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ پناہ کے لیے اپنا کردار بلال حبشی اور سلمان فارسی کا سا بناناپڑتاہے اور اگر کردار ہی یہود کا سا ہو تو پھروطن ہونے کے باوجود بھی ان کو مدینے سے نکال دیا جاتا ہے ،وہ تب تک پناہ اور میزبانی کے مستحق رہتے ہیں جب تک اس ملک کے وفادار بن کررہیں ،اگر غداری پر تل جائیں تو ان کو نکالنا ہی صائب ہوتا ہے ، بادشاہ اپنی مجبوریوں میں پھنسا تھا اور عوام سوچ رہی تھی کہ کیا وہ وقت آئے گا کہ اس لعنت سے جان چھوٹے گی؟