- الإعلانات -

تحریک انصاف کا ” دلِ ناتواں“

Asif-Mehmood

کل میں نے لکھا تھا:
عمران خان کا اعتماد معاشرے کی اخلاقی قوت سے اٹھ چکا ہے۔یہ اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ لوگ صرف تجوری کا سائز دیکھ کر ووٹ نہیں دیتے۔کچھ اور چیزیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔پارٹی کے نظریات اور خان صاحب کی افتاد طبع آمنے سامنے ہیں۔ایک عام سفید پوش آدمی پر پارلیمنٹ کے دروازے اگر تحریک انصاف بھی نہ کھول سکی تو یہ بہت بڑا المیہ ہو گا۔تحریک انصاف ایک امیدکا نام ہے۔یہ امید بھی اگر صاحبان ثروت کی تجوریوں میں گھٹ کے مر گئی تو بہت برا ہو گا۔فی الوقت عمران خان نے تجوری کو ترجیح دی ہے۔ان کا یہ فیصلہ کامیاب رہا اور علیم خان جیت گئے تو آئندہ کے لیے ہر حلقے میں تجوری ہی فیصلہ کن عامل ہو گا۔لیکن اگر علیم خان ہار گئے تو عمران خان کو پارٹی کے اندر نظریاتی لوگ یہ کہہ سکیں گے کہ خان صاحب ٹکٹ دیتے وقت تجوری ہی نہ دیکھا کریں نظریاتی کارکن کا چہرہ بھی دیکھ لیا کریں۔ایک نشست کی قربانی دے کر اگر عمران خان کا سماج کی اخلاقی قوت پر اعتماد بحال کیا جا سکے تو کیا یہ گھاٹے کا سودا ہو گا؟
لیکن آج جب علیم خان ہار چکے ہیں خود احتسابی کا کوئی عمل تا حال شروع نہیں ہو سکا ۔سونامی کی شوریدہ سر لہریں اب ساحل کی بھیگی ریت پر،کسی تھکے ہارے مچھیرے کی طرح ،پڑی ہیںاو ر ڈوبتی آواز میں ایک دوسرے کو دلاسہ دے رہی ہیں: مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔۔۔
سارے اہتمام سے آپ میدان میں اترے،پوری رعونتوں سے آپ صف آراءہوئے، پورے اعتماد سے دھاندلی کی ڈفلی بجائی گئی ،ساری حکمت سے ایک بھاری بھرکم تجوری کو چن کر میدان میں اتارا گیا،تجوری کے حجم پر اتنا ناز تھا کہ صاحب کو کپتان کا ’ خفیہ ہتھیار‘ کہا گیا،تمام تکبر کے ساتھ خود کو سونامی کی وہ بے اماں لہر کہا گیا جو سب کو بہا لے جانے کو تیار تھی،پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا،سلطان راہی اور گبر سنگھ کی طرح آپ نے مخالفین کو للکارا،چودھری سرور سے لے کر جہانگیر ترین تک تحریک انصاف کے جملہ’ اعضائے رئیسہ‘ اپنے جاہ و حشم کے ساتھ میدان میں اترے۔۔۔۔پھر بھی شکست ہوئی لیکن اس شکست کے اسباب پر غور کرنے کی بجائے ارشاد ہوا جا رہا ہے: مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔اب سوال یہ ہے علیم خان اور ان کے ساتھ تحریک انصاف کی گردن میں طوق کی مانند ڈال دیے جانے والے ’ نومولود قائدینِ انقلاب‘ کیا ’ دلِ ناتواں ‘ تھے؟
خود فریبی کی بھی حد ہوتی ہے۔کرکٹ کی زبان میںسیاست کرنے والوں کو اتنا بھی معلوم نہیں رہا کہ شکست صرف شکست ہوتی ہے اور فتح کم مارجن سے حاصل ہو تو نشہ دو آشتہ ہو جاتا ہے۔جاوید میانداد نے شرما کو آخری اوور میں چھکا مارا تھا ۔کیا اس پر خوشیاں مناتے کھلاڑیوں کے پاس کسی بھارتی کھلاڑی، کوچ یا کپتان نے آ کر کہا کہ یہ کون سی فتح ہے، ہمت تھی تو پچیسویں اوور میں میچ جیت کر دکھاتے؟’عمران خاں دے جلسے اچ نچنے‘ کو تو آپ کا بڑا دل کرتا تھا، شکست کے اسباب جاننے کو آپ کا دل نہیں کرتا؟