- الإعلانات -

اہل سیاست اورکرپشن مقدمات

بلآخر محترم شرجیل انعام میمن صاحب مہینوں کی جلا وطنی اور پردیس کی صعوبتیں اور دبئی کی بوریہ نشینی اور مسلسل چلہ کشی مشقت اور ریاضت کے بعد عدالت کے حکم پر اور گرفتار نہ کئے جانے کی ضمانت پر اسلام آباد تشریف لے آئے اور آتے ہی ایرپورٹ پر ان سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں دھر لئے گئے جن کو عدالتی احکامات پڑھنے میں قریب دو گھنٹے لگے اور جب عدالتی احکام واضح ہوئے شرجیل انعام صاحب رہا کر دئے گئے ہمیں یہی تو شکوہ ہے اپنے اداروں سے کہ یہ ایسے احباب کو بھی دھر دبوچتے ہیں جو معصوم عن الخطا ہوتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ شرجیل صاحب کے مقدمات بھی ایسے ہی جھوٹے ثابت ہو ں گے جیسے مخدوم قبلہ آصف زرداری صاحب مد ظلہ عالی بھی مقدمات سے برآت کی سند پاکر سرخرو ہوچکے ہیں ویسے آپس کی بات ہے کہ ہمارے اہل سیاست خواتین و حضرات ہیں بڑے معصوم ان پر الزامات کی بارش ہوتی رہتی ہے مجال ہے کہ ان کا پر تک گیلا ہوجائے اب ہمارے برطانیہ میں فائز ہائی کمیشنر جناب واجد شمس الحسن لندن سے مٹر گشتی کرنے سوئٹزرلینڈ جا پہنچے یورپ میں سردی بھی بہت ہوتی ہے تو اس مجبوری کے سبب ہائی کمشنر موصوف نے لمبا کوٹ پہن رکھا تھا اور سر پر فیلٹ ہیٹ بھی اب کیا تھا لوگوں نے انہیں اس حلیے میں دیکھ کر جیمز بانڈ کا خطاب دے ڈالا اور جب وہ سڑک پر کھڑے سگار منہ میں دبائے برفانی موسم کے مزے لے رہے تھے کہ کوئی صاحب ایک ٹرالی پر گتے ڈبے اٹھائے آئے نیلے رنگ کی والوو میں یہ بکس لوڈ کئے اور اس گاڑی میں حضرت واجد شمس الحسن بھی سوار ہوئے اور یہ گاڑی کسی نامعلوم مقام کی جانب چل دی اور صحافی حضرات نے جو ان سہانے لمحات کی منظر کشی کر رہے تھے کہا کہ یہ دیسی نیلسن منڈیلا پر چلنے والے 60 ملین ڈالر کے کک بیکس کے مقدمے کا ریکارڈ تھا جسے زائد المعیاد (bared time )ہونے کی وجہ سے عدالت نے داخل دفتر کردیا اور شاید سویز قانون کے مطابق متعلقہ حکومت یہ ریکارڈ واپس لے سکتی ہے قارئین کرام کے علم میں ہوگا کہ حکومت کس کی تھی اور اس کیس میں کس وزیراعظم کا بلیدان دیا گیا تھا لیکن بعد میں کہا گیا کہ ان بکسوں میں یتیموں مسکینوں کے لئے پرانے کپڑے تھے جو ہمارے ہائی کمشنر موصوف بڑی دور سے وصولنے آئے تھے تاکہ یوم حساب اپنے ان حسنات کو اپنے اعمال کے پلڑے میں رکھ سکیں لوگ اپنے سفارتکاروں پر تنقید کرتے نہیں تھکتے لیکن دیکھا آپ نے کہ سفارتی مشن کے سربراہ بھی کیسے کیسے نیکی اور بھلائی کے کام کرتے پھرتے ہیں لیکن بالے پتریر کی اس بات نے ہمارے دل میں واجد شمس الحسن کے لئے محبت اور احترام کے جذبات پر منوں پانی ڈال دیا کہ بھائی اگر وہ یتیموں اور مسکینوں کے لئے کپڑے تھے تو نیب افسر نے یہ بکس بقلم خود کیوں وصولے کیا نیب بیرون ملک اس طرح کے” عطیات ” وصول کرنے کے کار خیر کا مینڈیٹ بھی رکھتی ہے جو اپنے ملک میں فرائض کی بجا آواری کا کوئی بہت سنہرا ریکارڈ نہیں رکھتی جس کے سربراہ بر سر عدالت کہ چکے ہیں مجھے تو اپنے اختیارات کا پورا علم ہی نہیں عدالتی استفسار پر کہ آپ بھولے ہیں لیکن حدیبیہ پیپر ملز کیس میں کافی ثبوت ہونے کے باوجود عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کیوں نہیں کی تو جوابا چیر مین نیب نے لمبا سا اچھا کہا اور پھر گویا ہوئے کہ یہ ہماری صوابدید تھی عدالت نے کہا کہ کیا اب اپیل کا ارادہ ہے تو چیرمین صاحب نے کہا نہیں اپیل نہیں کی جائے گی تو عدالت نے کہا کہ پھر حقائق کا سامنا کرنے کو تیار رہیئے "و اللہ اعلم بالصواب”سچی بات ہے کہ ہمارے پاس بالے پتریر کی اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا اور ہم دیر تک بالے کہ منہ تکتے رہے ادھر سندھ کے جلالی سید وزیر اعلی جناب مراد علی شاہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے وزیر صاحب کو کراچی نہیں اتارا بلکہ اسلام آباد جا اتارا ہم کراچی میں انہیں اتار سکتے تھے اور انہیں گرفتاری سے بچانے کی سکت بھی رکھتے ہیں اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کو گرفتاری سے بچا کر اپنے قول فیصل کا عملی ثبوت وہ پہلے ہی دے چکے ہیں آپ نے مزید فرمایا کہ وفاق ہم سے زیادتی نہ کرے ورنہ وفاق کو ہم صوبے سے اکھاڑ پھینکیں گے پیپلز پارٹی الزامات سے انکاری تو نہیں اور نہ ذمہ دار کہتے ہیں کہ الزام زیادہ غلط ہیں لیکن پارٹی دہرے معیار کا ذکر ضرور کرتی ہے کہ جب فیصلے کا وقت آتا ہے تو لاڑکانہ کے وزیراعظم اور لاہور کے وزیراعظم میں فرق روا رکھا جاتا ہے ادھر رانا مشہود کی مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا نہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں شہید ہونے والوں کو اب تک انصاف مل سکا ہے نندی پور کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی لیکن شرجیل انعام کے چند ارب روپے وفاقی اداروں کے لئے سوہان روح بنے ہوئے ہیں حالانکہ پانی پلانا گناہ کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ لوگوں کو چھت فراہم کرنا کوئی گناہ ہے ادھر محض چند سو ارب کی خرد برد پر آپ نے ہمارے خرگوش کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کر رکھا ہے جن کو آج کل رینجر کی وردی سے خوف آتا ہے لہذا انہیں اس خوف سے بچانے کے لئے انسانی ہمدردی کی بنا پر رہا کیا جائے سن پر دہشتگردوں کے علاج معالجے کا الزام ہے کیا سن کے کوئی حقوق نہیں؟ اور ہاں منظور کاکا جیسا بے ضرر آدمی کینیڈا میں رہتے ہوئے بھی قوم اور عوام کی خدمت غافل نہیں ہیں اور وہاں بیٹھ کر بھی تمام امور خدمت جمہور کے جذبے سے سرشار ہوکر انجام دے رہے ہیں اب کون سمجھاتے کہ بقائے باہمی کی سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو بہت زیادہ ضرورت ہے ان حالات میں صرف اللہ تعالی ہی کی ذات با برکات سے ہی رحم اور کرم کی امید ہے جو انشااللہ ہمیں موجودہ جہموریت کے فیاض و برکات سے بچائے گا اور عوام فلاح و بہبود کے لئے دیانتدار حکمران نصیب فرمائے گا اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین
***