- الإعلانات -

سرحد کی بندش کا فیصلہ واپس، افغان حکام تعاون یقینی بنائیں

پاکستان نے ایک ماہ کی طویل بندش کے بعد پاک افغان سرحد کھول دی ہے ۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں شدت پسندی کے حالیہ واقعات کی پشت پناہی افغانستان میں موجود پاکستان مخالف عناصر کی جانب سے گئی تاہم سرحد کھولنے کا یہ فیصلہ جذبہ خیرسگالی کے طور پر کیا جا رہا ہے۔بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ سرحد کی یہ بندش دراصل دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رابطوں کی بندش بھی تھی اس لیے سرحدوں کا زیادہ دیر بند رہنا عوامی اور اقتصادی مفاد میں نہیں۔ وزیراعظم نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ جن وجوہات کی بنا پر سرحد بند کی گئی تھی، ان کے تدارک کے لیے افغان حکومت اقدامات کرے گی‘‘۔پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں 100 سے زائد شہادتوں کے بعد 16 فروری کو سیکیورٹی خدشات کے باعث سرحد کو بند کرنے کا اعلان کیا تھاکیوں کہ ملک میں ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔یہ سرحد خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا، اور بلوچستان میں چمن کے مقام پر بند کی گئی تھی۔سرحد کھولنے کایہ اعلان لندن میں ہونے والی دونوں ممالک کی اعلیٰ سطح بیٹھک کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔اس بیٹھک میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے معاملے پر جاری ڈیڈلاک کے بعد دونوں ممالک نے عندیہ دیتے ہوئے امکان ظاہر کیاتھا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اعتماد پیدا کرنے والے اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی ۔سرحد کی بندش کا معاملہ بھی زیر بحث آیا امید ظاہر کی گئی تھی کہ یہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا مگر یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کابل متفقہ معاملات پر کس قدر عملدرآمد کرتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک دہشت گردی کا بری طرح نشانہ بنے ہوئے ہیں، مگر بدقسمتی سے دونوں برادر اسلامی ملک ایک دوسرے پر دہشت گردی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔حقائق کو مدنظر رکھ کر اگرجائزہ لیا جائے تو ٹھوس شواہد ملتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہوتی آرہی ہے۔ افغان سرزمین بھارت ہی کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے جو افغانستان کے مختلف شہروں میں اپنے قونصل خانوں کے ذریعے ’’را‘‘ کے ایجنٹوں اور دہشت گردوں کو تربیت اسلحہ اور بھاری رقوم فراہم کرکے ڈیورنڈ لائن پر لاتا ہے اور انہیں پاکستان میں داخل کرکے اسکے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے متعینہ اہداف پایہ تکمیل کو پہنچاتا ہے۔اس کی گواہی سابق امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے اس اعتراف سے ملتی ہے جس میں انہوں نے’’را‘‘ کی افغانستان کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کی بات کی تھی جبکہ مودی اور انکے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور کل بھوشن کے اعترافات بھی سامنے آچکے ہیں۔ افغان حکام اسلام آباد پر یہ الزام تو لگاتے نہیں تھکتے کہ وہ پاکستان میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا مگر جب دہشت گردی روکنے کیلئے بارڈر مینجمنٹ کی کوشش کی جاتی ہے تو بھارت کے ایما پر افغان انتظامیہ سخت مخالفت پر اتر آتی ہے۔امریکہ اور افغان حکومتیں اکثر پاکستان کو اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں یقین دہانی کراتی رہتی ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائیگا اور ایسے تمام گروپس اور تنظیموں کیخلاف انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں سخت آپریشن کیا جائیگا جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کرانے میں ملوث ہیں مگر عملی اقدامات کی نوبت نہیں آتی۔افغانستان کی طرف سے اب مثبت رویہ سامنے آنا چاہیے۔دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن ہیں اور ان کو مل کر نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔افغان حکام ہوں یا انکے ہمنوا سب آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں انکے سرپرستوں اور سہولت کاروں کیخلاف پہلے سے زیادہ شدت سے کارروائی کررہاہے۔آپریشن ردالفساد کے ذریعے بلاامتیاز تمام دہشت گردوں کی بیخ کنی جارہی ہے۔اس آپریشن اور اسکے ساتھ ساتھ آپریشن ضرب عضب کے تحت جاری کومبنگ آپریشن میں اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ پاکستان اس جنگ میں دہشت گردوں کی بلاامتیاز سرکوبی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ اگر غنی انتظامیہ بھی اسی نیک نیت کے ساتھ تعاون کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ سرحد کے اطراف دہشت گردوں کی کوئی کمین گاہ یا ٹھکانہ بچ جائے۔کابل انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں جتنا زور سرحد کھلوانے میں لگایا اگر اتنی ہی دلچسپی وہ بارڈر مینجمنٹ میں لے تو مستقبل میں سرحد کی بندش کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
پانی کا عالمی دن اور سندھ طاس معاہدہ
آج دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔یہ دن منانے کامقصد پانی کی اہمیت ضرورت اور تحفظ کی طرف توجہ دلانا ہے۔روز افزوں بڑھتی آبادی کے باعث دنیا کے بیشتر ممالک کو پینے کے صاف پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ میں پاکستان کو شدید قلت آب سے دوچار ممالک میں شامل کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کو باقاعدہ قلت آب کا شکار ملک قرار دے دیا جائے گا۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کی ورلڈ واٹر ڈیولپمنٹ رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ہر فرد کے لیے دستیاب پانی کی مقدار میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔2000 میں اوسطاً ہر شہری کو 2961مکعب میٹر پانی دستیاب تھا جو اب ایک ہزار سے بھی نیچے آچکی ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک ہی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف ایک ماہ کی ملکی ضروریات کیلئے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جبکہ پاکستان جیسے موسمی حالات کے حامل ممالک کیلئے تجویز کیا جاتا ہے کہ ان کے پاس تین سال کی ضرورت کے مطابق پانی موجود ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جن اڑتالیس ممالک کا ذکر کیا گیا ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔قلت آب ان ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کردے گی۔پاکستان کی دوہری بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا پڑوسی بھارت ہے جس نے تقسیم کے چھ ماہ بعد ہی اپریل 1948 میں نہری پانی کی بندش کرکے اپنی کم ظرفی کا اظہار کردیا تھا جسکی روک تھام کیلئے پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو اس جانب متوجہ کرایا اور بھارت کو انڈس واٹر پر مجبور کیا۔1960ء میں یہ معاہدہ طے پا گیا تھا،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس معاہدہ کی رو سے دونوں ممالک میں اس ایشو پر کوئی تنازعہ پیدا نہ ہوتا مگر افسوس کہ بھارت نے معاہدے میں نقب لگانی شروع کردی ہے۔یوں دیگر تنازعات کی طرح دریائی پانی کا تنازعہ بھی ایک ایسا ایشو بن چکا ہے جو دونوں ممالک کو کسی بھی وقت ایک اور جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔پانی تنازعہ پر جو کمیشن بنایا گیا تھا مودی سرکار نے اسکی سالانہ میٹنگ بھی معطل کررکھی تھی جو دوسال کے تعطل کے بعد گزشتہ روزپاکستان میں منعقد ہوئی۔کمیشن کے اجلاس ہی وہ واحد ذریعہ ہوتے ہیں جنکے ذریعے پانی کے باہمی تنازعات کو طے کرنا ممکن ہے لیکن مودی حکومت ہر معاملے کا حل دھونس سے چاہتی ہے۔اجلاس میں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر بھارت کے تین متنازعہ آبی منصوبوں کے ڈیزائنزپر اعتراضات اٹھائے اورپاکستان نے تینوں منصوبوں کے حوالے سے بھارتی وفد سے بریفنگ بھی مانگی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ان چند عالمی معاہدوں میں سے ایک ہے جو دو ملکوں کے مابین آبی ذخائر کے استعمال سنجیدہ معاملات کوطے کرنے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس معاہدے کی پاسداری اور اسکے ذریعے مسائل کا حل دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔