- الإعلانات -

مارچ تجدید وفا کا دن

برصغیر میں پاکستان اسی روز بن گیا تھا جب پہلے مسلمان نے بر صغیر کی سرزمین پر قدم رکھا تھا اور مسلمانوں کا کردار طرز معاشرت اور لوگوں کے ساتھ معاملات کودیکھ کر لوگ جوق در جوق نعمت اسلام سے سرفراز ہوتے گئے چراغ سے چراغ جلتا رہا لوگ بتدریج اسلام کی حقانیت کے قائل ہوتے گئے ہمارے صوفیا عظام نے اپنے آپ کو عام انسان کی خدمت کے لئے وقف کردیا اور مثالی کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا مسلمان حکمران صدیوں تک ہندوستان کے حاکم رہے لیکن کوئی ایسی کوشش نہیں کی کہ عام انسان کو جبرا یا لالچ دے کر حلقہ اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کی غیر مسلم راجواڑں نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کی یوں یہ سلسلہ صدیوں چلتا رہا اور مسلمان مقتدر رہے انگریز جب بر صغیر میں آئے سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اپنے اور پر آئے سبھی سازشوں میں شریک ہوگئے اور یوں آخری مغلیہ تاج دار نے بہ حالت کسمپرسی دیار غیر میں آخری ہچکی لی اور ایک عہد کا خاتمہ ہوا اس کے بعد مسلمانوں کے لئے ابتلا اور مصائب کا دور شروع ہوا مسلمانوں سے ان کا جداگانہ تشخص چھیننے کی کوششیں شروع کردی گئیں اسلامی تعلیم کے مراکز کو تباہ کرنے کے لئے سازشوں آغاز ہوگیا علمائے حق کو رشد و ہدایت کی ترویج سے روکا گیا اور تبلیغ دین میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہندو اس عمل قبیح میں انگریزوں کے شانہ بشانہ رہے انگریزوں نے ہر اس نشانی کو نابود کرنے کی کوشش کی جس سے عظمت اسلامیہ کی رمق بھی دکھائی دیتی ہو لوگوں میں انگریزی استبداد سے آزادی حاصل کرنے کی تڑپ پیدا ہوئی اور آزادی کے متوالوں نے آزادی کی جدوجہد شروع کردی 1857 میں اس جدوجہد کا اہم سنگ میل آیا اور جدوجہد کو نئی جہت اور توانائی ملی اس دوران جدوجہد آزادی کے بطل جلیل سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی ترغیب دی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھی علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے نظریاتی محاذ سنبھال لیا اور لوگوں میں آزادی کے جذبے کو جلا بخشی ادھر ہندو اساتذہ مسلمانوں کے متحرک ہونے پر چراغ پا ہوگئے مسلمان طلبا سے ان کاسلوک بد سیبدتر ہوتا چلا گیا اردو ہندی قضیے نے بھی دو قومی نظریے کو جلا بخشی، روز اول سے ہندی بولنے والا بنارسی گروپ پاکستان مخالف رہا ہے جس کی ریشدوانیاں آج بھی جاری ہیں 1937 میں 9 ریاستوں میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں سے 6 ریاستوں میں کانگریس جیت گئی سندھ صوبہ سرحد اور بنگال میں ہار گئی لیکن باقی ریاستوں میں مسلم لیگ بوجوہ حکومت نہ بنا سکی 1939 میں کانگریسی حکومت نے اس بنا پر استعفی دے دیاکہ لارڈ لنلتھگو نے برصغیرکو جنگ زدہ ڈکلیئر کرتے ہوئے ان سے مشورہ نہیں کیا تھا لکھنؤ میں ہونے والے اجلاس میں شریک تمام مسلمانوں نے ثابت کردیا تھا انہیں اور تمام مسلمانوں کو قائد اعظم محمد علی جناح کی ذات پر کامل بھروسہ ہے اور عہد کیا گیا کہ ان کی قیادت میں کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا مولانا محمد علی جوہر علامہ محمد اقبال نوابزادہ لیاقت علی خان چوہدری رحمت علی نواب محسن الملک نواب وقار الملک محترمہ فاطمہ جناح شیر بنگال مولوی فضل حق اور دیگر بے شمار رہنما شامل تھے 1940 میں لاہور میں اس وقت کے منٹو پارک اور موجودہ اقبال پارک میں تاریخی جلسہ کیا گیا جس میں قرارداد لاہور پیش کی گئی جو اب قرارداد پاکستان کہلاتی ہیاور مسلمانوں کی جانب سے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا قرارداد میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی تہذیب و تمدن فلسفہ زندگی کی انفرادیت کے سبب وہ اپنے لئے ایک الگ وطن چاہتے ہیں کیوں کہ وہ الگ اور منفرد قوم ہیں گاندھی نے دوقومی نظریے کی شدید مخالفت کی اور راج گوپال آچاریہ نے ہندوستان کو گائے سے نسبت دیتے ہوئے اسے ٹکڑے کرنے کا نام دیا مسلمانوں نے 23 مارچ کے دن اپنی منزل متعین کرلی اور بالآخر مخالفین کی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود 14 اگست 1947 کو پاکستان نہ صرف دنیا کے نقشے پر ایک زندہ و جاوید حقیقت بن کر ابھرا بلکہ اشرار کی بد ترین ریشہ دوانیوں اور مسلط کی گئی خفیہ اور کھلی جنگوں کے باوجود نہ صرف زندہ و تابندہ عالم آشکارا حقیقت کے طور پر زندہ و پائندہ ہے بلکہ اللہ کے فضل آگے ہی بڑھ رہا ہے پاکستانی قوم 23 مارچ کے دن وطن عزیز سے تجدید عہد وفا کرتی ہے اور یوم پاکستان پر پریڈ کی صورت میں عسکری قوت کے مظاہرے عوامی جوش و ولولے کے اظہار کے لئے اندرون و بیرون ملک مختلف تقاریب منعقد کرکے دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم زندہ اور پائندہ قوم ہیں اور آج کا پاکستان نہایت مستحکم اور توانا ہے یہ عظیم قوم کا عظیم پاکستان ہے جو اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی بدترین سازشوں بدترین دہشت گردی کی صورت میں مسلط کی گئی جنگ کو ضرب عضب اور رد الفساد کے ذریعے مکمل طور پر ناکام بنا چکا ہے بلکہ ان تمام بحرانوں کارخ موڑ چکا ہے جو اس کی سلامتی کے لئے خطرہ بنے ہوئے تھے اور معاشی طور پر دیوالیہ کرنے سیاسی اور سماجی عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے بیرون ملک سے داخل کئے گئے ایجنٹوں کو نیست و نابود کیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ عظیم ملک زندہ و جاوید حقیقت کی صورت میں اقوام عالم کے درمیان باوقار انداز سے کھڑا ہے 23 مارچ کی تاریخ مسلمانان ہند قوم کی جداگانہ وطن کے حصول کی شاندار جدوجہد کی یاد دلاتی ہے جس کی بدولت قائداعظم رحمت اللہ علیہ کی قیادت رشیدہ میں ہم نے حصول وطن کی منزل پائی جو ایک معجزہ محسوس ہوتا ہے دنیا بھر میں اہل پاکستان 23 مارچ کا دن نہایت مسرت اور شادمانی سے مناتے ہیں 18 مارچ کو پاکستان کونصلیٹ دبئی اور ایوان اقبال کے زیر اہتمام عجمان میں کے پنج ستارہ ہوٹل میں 23 مارچ کے حوالے سے جیوے پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا جس کی صدارت پاکستان کے قونصل جنرل جناب سید جاوید حسن نے کی اور ملک کے مشہور شاعر جناب انور مسعود مہمان خصوصی تھے جس میں شعرا نے اپنے اپنے انداز سے تحریک پاکستان کے مجاہدین کے کارناموں پر انہیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا سامعین کی بڑے تعداد نے شرکت کی جن میں پاکستان تحریک انصاف امارات کے صدر حاجی مور حسن ،قاری اسلم سرکانی، عاصم شہزاد اور دیگر رہنما شامل ہیں عوام کی خاصی بڑی تعداد نے مہمان شعرا کی پذیرائی کی اور داد دی اللہ تعالی کے حضور دس بہ دعا ہیں کہ رب جلیل پاکستانی قوم کے اندر اتحاد اور حب وطن کے جذبوں برکت اور اہل وطن کو وطن کی خدمت اور حفاظت کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے آمین۔
***