- الإعلانات -

عالمی یوم آب ، ملکی آبی ذخائر کی کمی کا نوحہ!

ہر سال مارچ کی22 تاریخ کو اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام ’پانی کا عالمی دن‘ اِس عزمِ صمیم کے ساتھ دنیا بھر میں منایا جاتا ہے کہ ’پینے کا صاف پانی دنیا کے ہر انسان کا ،بلکہ ہر جاندار کا بنیادی حق ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے’ حیوانا ت‘ تو کجا، کیا دنیا کے کمزور اور ترقی پذیر ممالک کے کروڑہا انسانوں کے لئے پینے کا صاف پانی اُنہیں باآسانی مہیا ہوتا بھی ہے یا نہیں؟یقیناًاقوامِ متحدہ کے زیر اہتما م اِس ’اہم ترین انسانی ضرور ت ‘کے خاص اور حساس نکتہ پر باتیں تو بڑی بڑی کئی جاسکتی ہیں مگر، کیا اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے نے اپنے قیام سے آج تک دنیا کے کسی بھی ایک ملک میں کوئی ایسی عملی کوشش کی ہے جو ممالک صحراؤں م میں گھیرے ہوئے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں دنیا کے وہ ممالک جو اپنے مخصوص خشکی کے جغرافیائی محل ووقوع کے فطری اور قدرتی لحاظ سے شدید قلتِ آب کا شکار چلے آرہے ہیں15-16 برس قبل عالمی میڈیا میں‘ خاص کر امریکی اور برطانوی تھنک ٹینکس نے اپنی گہری غور طلب تشویش ناک رپورٹوں میں انکشاف کیا تھاکہ آئندہ دنیا میں جنگیں صرف اور صرف پانی کے مسئلے پر ہونگی، وقت کتنی تیزی سے بیت رہا ہے، ترقی پذیر دنیا کے عوام کے سامنے پانی کی شدید کمیابی نے اُن کی زندگیوں کی بقاء اور تحفظ کے لئے بڑے شدید اور سنگین آبی مسائل کھڑے کردئیے ہیں، ہر سال کی طرح اِس بر س بھی مارچ کی 22تاریخ کا ’پانی کے عالمی بحران‘ کا یہ دن اپنی روایت کے مطابق یونہی بیت جائے گا، دنیا کے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں اقوامِ متحدہ کے کروڑوں ڈالرز فنڈ زسے زندہ رہنے والی این جی اوز کچھ سیمینار وں اور مذاکروں کا اہتمام کرلیں گی، پمفلٹس اور اشتہارات چھاپے جائیں گے، اخبارات اور دیگر ذرائعِ ابلاغ پر ’پانی ایک نعمت ہے ‘ پانی کو ضائع نہ ہونے دیں‘ پانی کم استعمال کریں‘ اِسی سے ملتی جلتی تلقین پر تلقین کرکے عوام کے اُن محروم طبقات کے زخموں پر مرہم چھڑکا جائے جو ’پینے کے صاف پانی ‘ سے نجانے کتنے برسوں سے ترستے چلے آرہے ہیں، اقوامِ متحدہ کا اِس حوالے سے کیا یہ فرض نہیں بنتا کہ پانی کی ’عالمی کمی یا قلت ‘ کا کوئی فوری لائحہ ِٗ عمل دنیا کے بے تحاشہ دولت مند اور بااثر عالمی ممالک کے ساتھ شیئر کرے؟ تاکہ مستقبل میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی پر قابو پانے کی کوئی ٹھوس اور موثر عالمی منصوبہ بندی کی جاسکے دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں جنوبی ایشیا کے ملک پاکستان کو بھی پانی شدید کمی کا سامنا کل بھی تھا آج بھی ہے جہاں تک پاکستان میں بارشیں کم ہونے کی بات ہے اور ہونے والی بارشوں کا پانی بروقت پاکستان کے اندر ذخیرہ نہ کیئے جانے کی بات دنیا دہراتی ہے اِس پر یقیناًہمارے اربابِ اختیار کو سوچنا ہوگا واقعی دنیا بھر میں موسم جس تیزی سے اپنی روش تبدیل کررہے ہیں اِس سے صورتحال میں مستقبل قریب میں کسی قسم کی خوشگوار تبدیلی یا بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ، اقوامِ متحدہ’ عالمی انسانی ایشوز‘ پر بڑی بڑی رپورٹس تیار کرنے اور اُنہیں میڈیا پر پیش کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹا، رپورٹس تیار کروالیجئے‘ سفارشات جتنی چا ہئیں اقوامِ متحدہ اِس کے لئے ہمہ وقت تیار‘ لیکن اس ’عالمی ادارے‘ سے کسی عملی اقدام کی کوئی توقع نہ رکھے‘ پانی کی کمی کے مسئلے پر اپنی ایسی ہی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کا سروے کہتا ہے’ ’ترقی یافتہ ممالک میں روزانہ جتنا پانی واش رومز میں فلش کیا جاتا ہے، اِس سے تیسری دنیا کاہر شخص پینے کے پانی ‘ کھانا پکانے اور کپڑے دھونے کی اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے‘ ‘ اقوامِ متحدہ سے کوئی پوچھے کیا کبھی اِس عالمی ادارے نے ترقی یافتہ ممالک میں پانی کے اِس بے دریغ اور بے بہا ضیائع پر کوئی ایکشن لیا؟ کوئی احتجاج کیا؟ ‘ عالمی ادارہ کی اس قسم کی مائیکرو اسٹو ری سننے سنانے کا کوئی فائدہ نہیں، کل تک دنیا بھر کے جن ممالک میں دریا زور وشور سے بہتے تھے اب اُن کی سطحوں میں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے ’عالمی قلتِ آب‘ کا مسئلہ بھی مقبوضہ جموں وکشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسائل کی طرح اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر دنیا کب تک چھوڑ سکتی ہے؟ مقبوضہ کشمیر میں ’انتفادہ‘ کی شکل میں آزادی کی تازہ لہر بیدار ہوچکی ہے کشمیری مزاحمتی تحریک کشمیر کے اندر سے ابھری 8 ؍جولائی2016 سے اب تک اُسی شدومد سے جاری ہے، اقوامِ متحدہ سے اور ورلڈ بنک سے پاکستانیوں کا ایک سوال وہ یہ کہ دونوں عالمی ادارے بھارت کے اِس انتہائی غیر انسانی رویوں سے پہلوتہی کیسے اور کیونکر کرسکتے ہیں؟ بھارت کو کیسے اور کیوں یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے بہنے والے تیز رفتار طوفانی دریاؤں کے بہاؤ کو بھارتی علاقوں میں نہریں نکال کر اُن کے رخ کو تبدیل کرئے کشمیر کے اہم دریاؤں پر اپنے لئے توانائی پیدا کرنے کے میگا پروجیکٹس تعمیر کرئے ’عالمی یومِ آب‘ کی مناسبت سے اہلِ پاکستان کی اِس تشویش سے نہ ورلڈ بنک صرفِ نظر کرسکتا ہے اور نہ ہی اقوامِ متحدہ کو ہم پاکستانی فرار کا موقع دیں گے، اقوامِ متحدہ اپنی عالمی ذمہ داری نبھائے اور ورلڈ بنک کا فرض ہے کہ وہ پاکستانی پانی پر بھارت کو باآسانی شب خون مارنے کی اجاز ت نہ دے ۔