- الإعلانات -

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سراٹھاکے چلے

پہاڑی علاقہ تھا، میدانی زمین ویسے بھی کم تھی ،جہاں رہائش کے لیے زمین مشکل سے ملتی ہو وہاں قبرستان کے لیے جگہ ملنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے ، چوآسیدن شاہ سے کلرکہار جاتے ہوئے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے سامنے واقع دوالمیال بھی ایک ایسا ہی قصبہ تھا ، لوگوں کی گزراوقات کھیتی باڑی تھی ، اس لحاظ سے پیٹ کاٹ کر اور زندہ اولاد کو ایک طرف کر کے مُردوں کے لیے جگہ نکالنا دل گردے کاکام تھا ، بااثر اور امیر برادریوں نے اپنے اپنے الگ قبرستان بنا لیے تھے ، غریبوں کے لیے لے دے کے وہی پرانا قبرستان بچ رہا تھا ، اس میں جگہ تھی لیکن ایک مسئلہ تھا ، وہ کیا ؟ مسئلہ یہ تھا کہ قبرستان میں قدرتی حادثات کی وجہ سے ایک بہت بڑا گڑھا بن چکا تھا جو کئی ایک جانوروں کی جان لے چکا تھا ، گڑھے نے کافی زمین اپنی لپیٹ میں لے لی تھی ، اس کو بھرنا اور اس کے ساتھ والی زمین کو برابر کر کے قبروں کے قابل بنانا کوئی آسان کا م نہ تھا ، بااثر لوگوں کو اس کی پروا (پرواہ ، لکھنا غلط ہے )نہیں تھی اور غریب کی ہڈی پسلی اتنی موٹی نہ تھی ، یوں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا مگر وہ رات کیا کہ جس کی سحر نہ ہو ؟ یہ حالات جب حاجی رشید صاحب تک پہنچے تووہ آگے بڑھے، گڑھا بھرگیا ، زمین برابر ہو گئی اور لوگ اپنے پیاروں کے لیے دوگز زمین کی فکر سے آزاد ہو گئے ، یہ میرا حاجی صاحب سے پہلا تعارف تھا ، بعد میں معلوم ہوا کہ قدرت نے ان سے اور بھی بہت سے رفاہی کام لے رکھے ہیں ، یہ کہانی کاایک رخ ہے ، دوسرا رخ بڑادردناک ہے ، یہ وہی رخ ہے جس کے کئی کردار آپ نے اپنی عملی زندگی میں دیکھے ہوں گے ، یعنی نیکی کے بدلے بدگوئی ، وفا کے بدلے جفا، محبت کے بدلے نفرت مگر یہ بھی قدرت کا قانون ہے کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے ۔
یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ 12 دسمبر 2016 ء آپہنچا ، علاقے کی قدیمی مسجد پر ایک اقلیت کا قبضہ تھا ، علاقے کے لوگ انتظامیہ کے توسط سے اقلیت کو یہ پیشکش کرچکے تھے کہ ہم تمہاری عبادت گاہ کے لیے زمین اور وسائل دینے کے لیے تیار ہیں مگر آپ کو مسجد کا قبضہ چھوڑنا ہوگا کیونکہ یہ مستقبل میں کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ، اس سال حاجی صاحب بھی گاؤں میں موجود تھے ، وہ ایک زیرک انسان تھے ، حالات کی نبض اس بار کسی خطرے کی نشاندہی کررہی تھی ، انہوں نے پیشگی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دی ، مزید مؤثر بنانے کے لیے انہوں کئی سو لوگوں کے دستخطوں پر مشتمل ایک قرارداد بھی جمع کرائی جس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیاکہ بارہ ربیع الاوّل کے موقع پر مذکورہ اقلیت کی طرف خطرہ ہو سکتا ہے ، اور پھر ایسا ہی ہوا، جب جلوس مقبوضہ مسجد کے سامنے پہنچا تو وہاں سے پتھراؤ اور فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ، آٹھ کے قریب لوگ زخمی ہوگئے اور ایک بندہ جان بحق ہوگیا ،اس کے بعد حاجی صاحب واپس کینیڈا چلے گئے ، یہاں سے حالات نے ایک عجیب موڑلیا ، وہ موڑ تھا لوکل ، نیشنل ، انٹرنیشنل میڈیا اورپولیس کے کردار کا ۔
جب وہ کینیڈاپہنچے تو ائرپورٹ پر ان سے سوال جواب ہوئے ، وہاں کی پولیس نے مطمئن ہونے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دی ، ان سے کوئی برا سلوک نہیں کیا ، National Postکے ایک معروف صحافی Stewart Bellنے ان ایک انٹرویوکیا اوروہ بھی حاجی صاحب کے کردار سے متأثرہوا، لیکن پاکستانی پولیس انہیں دہشت گردقراردینے پر تلی ہوئی تھی ، نیشنل میڈیا انہیں واقعہ کا اصل ذمہ دار قراردینے پرتلا ہواتھا ، اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی ایسے تھے تو پاکستان سے انہیں جانے کیوں دیا گیا ؟ آپ ایک منٹ کے لیے تصور کرلیں کہ پاکستانی پولیس بک گئی ہو گی تو پھر کینیڈا کی پولیس کس نے خریدی تھی ؟ یہ وہی ملک ہے کہ ہمارا میڈیا جس کی مثالیں دیتا تھکتا نہیں ، اور ہمارے وہ سیکولر حضرات بھی اس ملک کے مداحوں میں شامل ہیں جو اخبارات اور چینلز میں حاجی صاحب کو قصوروارثابت کر رہے تھے ، اب کیا وہ بتائیں کہ اگر وہ قصوروار تھے تو ان کے ممدوح ملک کی پولیس نے انہیں چھوڑکیسے دیا ؟ اوراگر بے قصور تھے تو آپ کس کو خوش کرنے کے لیے ان کی بدنامی کیے جارہے تھے ، یہ تو وہ چینل اوراخبارات تھے جو کوسوں دور بیٹھے ہوئے تھے ، ستم ظریفی تو یہ ہے مقامی اخبارات نے بھی ان کے انٹرویو کو غلط رنگ دیا ، پورے انٹرویو سے اپنی پسند کے حصے کاٹ کر اپنی ’’صحافت ‘‘ کو مزید روشن کیا ، حالانکہ یہ وہی صحافی تھے جو ان دنوں وہاں چند لوگوں کی وجہ سے اپنی زبانوں کو تالے لگاچکے تھے ، کینیڈا میں بھی مذکورہ اقلیت کے سرکردہ لوگوں کی طرف سے حاجی صاحب کے خلاف درخواست دی گئی ،درخواست کی روشنی میں کینیڈاحکومت بھی اسی نتیجے پر پہنچی کہ ان کا کردار تمام تر واقعہ میں مثبت تھا، لہذا ان کے خلاف وہاں کوئی قانونی کارروائی نہ ہوئی ،اس واقعہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہاںیہ سب کچھ صرف چند دنوں میں ہوگیا مگر افسوس ہے ملک عزیزکے ’’سسٹم‘‘ پر جو کئی مہنے گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپایا کہ کرنا کیا ہے ؟ مگر اس میں اچنبھے بھی کیا بات ہے کہ یہاں توایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ موت کے بعد لوگوں کو اس ’’سسٹم ‘‘ سے رہائی کی سند عطا ہو رہی ہوتی ہے ، میں اکثر اس واقعہ پر غور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ بسااوقات ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ کسی کے اجلے لباس کو داغدار بنانے کی کوشش کرتے ہیں ؟ اور کچھ لوگوں کی قسمت ایسی کیوں ہوتی ہے کہ ان کو اپنوں کے ہاں سے تو اسیری کا پیغام ملتا ہے مگر بیگانوں کے ہاں سے رہائی اور نیک نامی کا مژدہ جانفزا، ایسا شاید اس لیے ہوتا ہے کہ زمانے کا دستور ہے کہ پتھر اسی درخت کو لگتے ہیں جس پر پھل لگا ہوا ہو ، اس واقعہ نے جہاں پتھرمارنے والوں کو بے نقاب کیا وہاں یہ بھی بتایاکہ درخت پتھرکھاکرپھل بھی دیتا ہے اور سایہ بھی ۔