- الإعلانات -

بھارت پاکستان کی امن کوششوں کو سبوتاژ نہ کرے

صدر مملکت ممنون حسین نے یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے پاکستان کشمیری بھائیوں کی اخلاقی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا ، بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں ، مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ضروری ہے۔ آج کا دن اس عزم کی یاد دہانی کراتا ہے جب قوم کو ایک واضح شناخت ملی تھی ٗ آج کے دن کا وہ عزم جو یقین میں بدلا تو اس کی طاقت نے بر صغیر کے مسلمانوں کو قائد اعظمؒ کی دور اندیش قیادت میں ایک ایسی قوت عطا کردی جس کی جمہوری جدو جہد کے نتیجے میں دنیا کی تاریخ و جغرافیہ دونوں ہی تبدیل ہوگئے۔قیام پاکستان سے قوم کو واضح نظریاتی شناخت ملی ،ملک کی ترقی و سلامتی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی قوم نے دہشتگردی کے خلاف مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دیا جس سے دہشت گرد کمزور ہوئے۔پاکستان کی معیشت مستحکم ہوئی ہے، پاکستان مضبوط اقتصادی حیثیت سے ابھر رہا ہے، ترقی کے اس سفر میں ہمیں اپنے پر خلوص دوستوں اور برادر ممالک کا بھر پور تعاون حاصل ہے جن میں چین میں مخلصانہ کردار قابل ذکر ہے، اقتصادی راہداری منصوبے میں دونوں ممالک کی شراکت داری نے پورے خطے کی ترقی کا دروازہ کھول دیا ہے۔پاکستان پوری دنیا خاص طورپراپنے ہمسایوں کے ساتھ دوستی چاہتاہے لیکن بھارت کا غیر ذمہ دارانہ طرزعمل اور اس کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزی کے واقعات نے خطے کے امن کو داؤ پر لگادیا ہے، ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے اور چاہتاہے کہ تقسیم بر صغیر کے نامکمل ایجنڈے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے کیونکہ بھارت نے خطے کا امن برباد کر دیا ہے، علاقائی سلامتی کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا بہت ضروری ہے ٗ پاکستان کشمیری بھائیوں کیلئے اخلاقی ، سفارتی ،سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔پاکستان کا مقصد عالمی اور علاقائی امن کو یقینی بنانا ہے، بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیارہے ۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے جانوں کی قربانیاں دیں ٗ آپریشن ردالفساد کے تحت کارروائیاں بچے کھچے دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہنی چاہئیں،پاکستان کا دفاع آج مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے ۔ پریڈ میں پیپلزلبریشن آرمی چین کا فوجی دستہ پہلی بار شریک ہے امن ترقی اور خوش حالی کے عظیم ترمقاصد کیلئے ہمارے دوستوں کو پاکستان کا تعاون ہمیشہ حاصل رہے گا۔پاکستانی فوج بہادر جوان! اسی جوش و جذبے کے ساتھ پاکستان کی حفاظت کرتے رہیں ۔ صدر مملکت نے بجا فرمایا بھارت خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے ۔ پاکستان بھارت سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کے ذریعے ادراک چاہتا ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور جارحیت کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی کیفیت آئے دن بڑھتی چلی جارہی ہے بھارت پاکستان کی امن کوشوں کو سبوتاژ کررہا ہے جو خطے کیلئے سود مند نہیں ہے۔ بھارت کشمریوں پر ظلم ڈھائے ہوئے ہے اور مسئلہ کشمیر کو دیدہ دانستہ حل نہیں کررہا ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادیں برسوں سے تشنہ تکمیل پڑی ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ اس ضمن میں بھارت پر اپنا دباؤ بڑھائے اور مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کی تدبیر کرے ۔ آخر کب تک کشمیری یونہی مشق ستم بنے رہیں گے ۔ بھارت نہ صرف کشمیریوں پر بربیت کررہا ہے بلکہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی بھی اس نے معمول بنا رکھا ہے اور اس کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں ان حالات کے تناظر میں صدر مملکت نے جوکچھ کہا وہ تدبر اور سیاسی بصیرت کا آئینہ دار ہے۔ بھارت مذاکرات کی میز پر آئے اور پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالے یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دے تاکہ خطہ امن کا گہوارہ بن پائے۔
23مارچ تجدید عہد کادن
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں77واں یوم پاکستان انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاندار فوجی پریڈکا اہتمام کیا گیا جس میں تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں ٗرینجرز ٗ پولیس اور چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی دستوں نے پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ٗخواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ پریڈ میں حصہ لیا ٗپاکستان کے تمام چھوٹے ٗ بڑے شہروں اور قصبوں میں خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا ٗ صبح کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21ٗ 21توپوں کی سلامی سے ہوا ٗ نماز فجر کے بعد مسجدوں میں ملک کی ترقی ٗ خوشحالی ٗ سلامتی اور امن کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں ٗدہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات ٗ حساس تنصیبات ٗ حساس علاقوں میں چھوٹی اوربڑی عمارتوں پر سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اورراولپنڈی میں یوم پاکستان کی پریڈ کے موقع پر سیکورٹی ہائی الرٹ رہی ۔ یوم پاکستان کی پریڈ کے موقع پر وفاقی دارالحکومت کے داخلی وخارجی راستوں پر جڑواں شہروں کی پولیس کے علاوہ پاک فوج کے جوان تعینات تھے۔ شہریوں کو شناخت اور گاڑیوں کی جانچ پڑتال اور تلاشی کے بعد شہر میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ یوم پاکستان کے موقع پر مزار قائد پرگارڈزکی تبدیلی کی پروقارتقریب منعقدہوئی۔ اس موقع پر مسلح افواج کی قیادت کی جانب سے ان کے نمائندوں نے خصوصی طورپرحاضری دی ۔ لاہور میں واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی پر وقار تقریب ہوئی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پریڈ کا پنڈال عوام سے بھر گیا ‘ شہریوں نے اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ شرکاء کا جذبہ حب الوطنی عروج پر نظر آیا۔ پریڈ دیکھنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ پنڈال میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار آ گئی جبکہ ڈھول کی تھاپ نے حاضرین میں جوش ولولہ بھر دیا۔ تقریب میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اس موقع پر رینجرز کے کڑیل جوانوں نے پریڈ بھی کی۔23مارچ تجدید عہد کا دن ہے اس دن کی مناسب سے یوم پاکستان کی پروقار تقریبات کا انعقاد اس امر کا عکاس ہے کہ ہم زندہ اور پائندہ قوم ہیں اور اس پرچم کے تلے ایک ہیں جب بھی مادر وطن کو ضرورت پڑی اس نے اپنا تن من دھن قربان کرنے کیلئے تیار ہیں جس کے نظریہ کے تناظر میں یہ ملک حاصل کیا گیا اس کی پاسداری کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اس کو علامہ اقبالؒ ، قائداعظمؒ کی خوابوں کی تعبیر بنانا ہے ، اسے اسلامی فلاحی ریاست میں بدلنا ہے اس لئے یہ عہدکرنا ہوگا کہ ایک ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی کا معاملہ سرفہرست ہے۔ ملک میں بیروزگاری ،مہنگائی کا سیلاب آیا ہوا ہے اور لوگ عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیتے ہیں، حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کیلئے سیاسی بصیرت اور تدبر کا عملی مظاہرہ کرے اور سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا اس وقت ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا۔