- الإعلانات -

نہِ بکنے والے، نہ جُھکنے والے قائد اعظم سچے مسلمان تھے

مارچ1940ء کادن ہماری قومی تاریخ کا سنگِ میل اور جدوجہد آزادی کا اہم موڑ ہے۔اس دن مسلمانانِ برصغیر نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں اپنے لئے ایک واضح نصب العین یعنی ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے حصول کا تعین کیا تھا۔ پاکستان تحفۂ خداوندی ہے جس کی قدر و منزلت اور تحفظ ہمارا مقصدِ حیات ہونا چاہیے۔ ہمارا اتحاد ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے‘ ہم متحد رہیں گے تو دشمن اپنے مذموم عزائم کبھی پورے نہ کرسکے گا۔قرارداد لاہور1940ء (قرارداد پاکستان) کی منظوری کے77سال مکمل ہونے پر ’’یوم پاکستان‘‘ کی خصوصی تقریب ایوان کارکنان تحریک پاکستان، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں منعقد ہوئی جس تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ،سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے حاضرین کو یومِ پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن ہماری قومی تاریخ کا سنگِ میل اور جدوجہد آزادی کا اہم موڑ ہے۔23مارچ1940ء کو قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مؤمنانہ فراست کی بدولت مسلمانوں نے اپنی منزل محض سات برس کی قلیل مدت میں حاصل کر لی۔ قائداعظمؒ نہ بکتے تھے اور نہ جھکتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا ہتھیار سچ تھا اور انہوں نے سچ کی طاقت سے ہی مسلمانان برصغیر کو آزادی کی نعمت دلائی۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور آپ پاکستان کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں۔اگرچہ ہمارا ہمسایہ بھارت ہم سے پانچ گنا بڑا ہے لیکن ہماری بہادر مسلح افواج اور ایٹمی قوت کی بدولت اسے ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں ہے۔ ہم میں سے ہر ایک پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی جدوجہد کرے۔ ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے بزرگوں نے ہر قسم کے فرقہ وارانہ‘ مسلکی اور لسانی اختلافات کو پس پشت ڈال کر قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں متحد ہوکر حصولِ آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ انگریز سامراج کا جبر اور ہندو بنیے کی دولت ان کے باہمی اتحاد سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگئے تھے۔ بھارت نے ہماری آزادی کو کھلے دل سے کبھی قبول نہیں کیا اور وہ مسلسل اِس کے درپے ہے۔ اسے پاکستانی قوم کی آزادی اور ترقی و خوش حالی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ یہی سبب ہے کہ وہ ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘‘ کی مخالفت میں پاگل ہو رہا ہے۔ بھارت میں انتہا پسند نریندرا مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ہندوتوا کی لہر نے مزید زور پکڑ لیا ہے اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا خناث پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں اپنی آزادی کے تحفظ کی خاطر کمربستہ ہوجانا چاہیے اور اپنی صفوں میں موجود ان بھارتی شردھالوؤں کی بیخ کنی کرنی چاہیے جو ہماری قوم میں اختلافات کو ہوا دیتے اور پاکستان کے اہم قومی مفادات کے حوالے سے بھارتی موقف کی وکالت کی کوشش کرتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا میں مارچ1940ء کے اس تاریخی اجلاس میں موجود تھا جہاں قرارداد پاکستان منظور ہوئی ۔ اس اجلاس میں ہم نے قائداعظمؒ کی طلسماتی شخصیت کو قریب سے دیکھا،ان کی آمد سے جسم میں بجلیاں کوند جاتی تھیں۔ اس قرارداد کی منظوری کے پیچھے پورا پس منظر تھا۔یہ دن ہماری قومی تاریخ کا نہایت اہم دن ہے ۔اس دن مسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی قیادت میں واضح نصب العین کا تعین کیا۔اس قرارداد میں کہا گیا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہونی چاہئے۔ بعدازاں مسلمانان برصغیر کی لازوال قربانیوں کے بعد 1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ اسلامیہ کالج ،ریلوے روڈ لاہور تحریک پاکستان کا مرکز تھا اور قائداعظمؒ متعدد بار یہاں تشریف لائے۔ وہاں بار بار قائداعظمؒ کو دیکھنے کا شرف نصیب ہوا۔ تحریک پاکستان ایک عوامی تحریک تھی اور قائداعظمؒ نے ہندو اور انگریز کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ مہتاب احمد خان نے حاضرین کو یوم پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 23مارچ1940ء کو مسلمانان برصغیر نے دوقومی نظریہ کی بنیاد پر اپنے لیے الگ وطن کے حصول کا ارادہ کیا اور بالآخر 14اگست 1947ء کو جان ومال کی لازوال قربانیوں اور آگ وخون کا دریا عبور کر کے پاکستان حاصل کر لیا۔کارکنان تحریک پاکستان ہمارے محسن ہیں اور انہی کی قربانیوں کی بدولت ہمیں آزادی کی نعمت حاصل ہوئی۔انہوں نے مجید نظامی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے استاد اور رہنما بھی تھے۔ میڈیا کے اندر مجید نظامی کا کردارمثالی تھا۔جس طرح پاکستان تاقیامت قائم ودائم رہے گا اسی طرح مجید نظامی کا مثالی کردار بھی ہمیشہ ہمارے سامنے رہے گا۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ راقم الحروف نے کہا کہ پاکستان دوقومی نظریہ کے تحت معرض وجود میں آیا۔ تحریک پاکستان کے دوران ’’پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔ لا الٰہ الا اللہ‘‘کا نعرہ ہر طرف گونجتا تھا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ نعرہ ہماری آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک ہمارے ساتھ رہے۔ آزادی کی قدر بھارت کے مسلمانوں سے پوچھیں۔ آج کشمیر کا بچہ بچہ شہید ہو کر پاکستانی پرچم میں لپٹنا اپنے لئے ایک اعزاز تصور کرتا ہے۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے‘ اس کی قدر کریں۔بیگم خالدہ منیر الدین چغتائی نے کہا کہ آج کا دن وعدے کا دن ہے۔ 23مارچ1940ء کو بچوں، جوانوں اور بوڑھوں نے وعدہ اور عہد کیا تھا کہ ’’لے کے رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی اور ہم نے پاکستان حاصل کر لیا۔ پاکستان کا حصول ہمارا حق تھا۔ ہم اپنے تشخص اور حقوق کی حفاظت چاہتے تھے اور اس میں ہمیں قائداعظمؒ کی لازوال قیادت میں کامیابی نصیب ہوئی۔ کرنل(ر) سلیم ملک نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ میں لڑکوں کے اس گروپ میں شامل تھا جنہوں نے پنڈال میں جھنڈیاں لگائیں۔ 23مارچ1940ء کے جلسے سے ہمیں ایک ٹارگٹ ملا جس کا حصول ہم سب کا فرض تھا۔ ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں مسلمانوں کی حکومت قائم کر دی جائے۔ میں سرحد میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کیلئے سرحد گیا تو وہاں قائداعظمؒ سے بھی ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے انتخابات کیلئے لاہور میں بھرپور کردارادا کرنے کا کہا اور فرمایا تم لوگ الیکشن جیتو میں تمہیں پاکستان بنا کر دکھاؤں گا۔ ہم نے الیکشن لڑا اور جیتا۔جب 3جون کو تقسیم ہند کا اعلان ہوا تو قائداعظمؒ نے ریڈیو پرپہلی بار ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا۔ نوجوان نسل پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ملک کی خاطر ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں۔ کرنل(ر) اکرام اللہ نے بتایا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ سے میری درجنوں بار ملاقاتیں ہوئیں۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی میں ان سے ملتا رہا۔ میں23مارچ1940ء کے جلسے میں شریک تھا۔ اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں سال دوم کا طالب علم تھا۔ میں اس جلسے میں حمید نظامی کے ساتھ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکن کی حیثیت سے شریک ہواتھا۔ قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ نے ایک ویژن کے ذریعے پاکستان بنایا تھا۔ وہ اسے اسلامی نظام حیات کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ پاکستان کو جدید اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست بنائیں۔ اس مقصد کیلئے یکجہتی اور ڈسپلن کی ضرورت ہے۔ شاہد رشید نے کہا کہ 23 مارچ 1940ء کو مسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی قیادت میں اپنے لئے واضح نصب العین کا تعین کیا ۔اس تاریخی جلسے میں الگ وطن کے حصول کی قرارداد منظور کی گئی تھی ۔ تحریک پاکستان ایک روحانی تحریک تھی جس میں علماء و مشائخ نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ آج بھارت کے صوبہ یو پی میں ایک انتہاپسند ہندو کو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے جو مسلمانوں کیخلاف متعدد عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔اگر بھارت میں مسلمان مخالف اقدامات بند نہ کیے گئے تو بھارت کے35کروڑ مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایک نیا پاکستان معرض وجود میںآئے گا۔تقریب کے مہمانان خاص تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکنان تھے۔ اس تقریب کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد ،ممتاز صحافی و چیف ایڈیٹر روزنامہ اوصاف مہتاب احمد خان، معروف قانون دان جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان، سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر، راقم الحروف، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ علی پور سیداں پیر سید منور حسین جماعتی، کرنل(ر) سلیم ملک، پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی، بیگم خالدہ منیرالدین چغتائی، کرنل(ر) اکرام اللہ خان، چودھری ظفر اللہ خان، بیگم مہناز رفیع، چودھری نعیم حسین چٹھہ، چودھری محمد طفیل، آغا محمد علی،میاں ابراہیم طاہر، رانا سجاد جالندھری، عبدالجبار، مرزا احمد حسن، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان،نسیم لودھی، مسز شیریں بخش، خواجہ محمد بخش، محمد آصف بھلی، گوہر علی، فاروق خان آزاد، محمد یٰسین وٹو، ڈاکٹر عارفہ صبح خان، کارکنان تحریک پاکستان،اساتذۂ کرام، طلبا وطالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات کثیر تعداد میں موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔تقریب کے آغاز پر نظریۂ پاکستان رابطہ کونسل کی تیار کردہ دستاویزی فلم بھی حاضرین کو دکھائی گئی۔ خواجہ ناظم الدین کی بھتیجی مسز شیریں بخش اور نواسے خواجہ محمد بخش نے محمد رفیق تارڑ کو خواجہ ناظم الدین کی نادر تصاویر پیش کیں۔ پنجاب کالج کے طالبعلم فہد مرتضیٰ نے ملی نغمہ پیش کیا۔