- الإعلانات -

تحریک انصاف ہی حقیقی اپوزیشن

دنیا کی اقوام کی تاریخ گواہ ہے کہ ہرزمانے کی ہر تہذیب کے ہرمُلک وملت کے ہر معا شرے کے افراد پر کبھی نہ کبھی ایک لمحہ ایک گھڑی ایسی ضرور آتی ہے جسے وہ ضا ئع نہیں جانے دیتے ہیں بلکہ موقع پر فا ئدہ اُٹھاکر وہ اِس گھڑی میں سنجیدگی کا مظاہر ہ کرتے ہیں اوراپنی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں اور خودکو درپیش مسائل اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور پھریکسو اور یک جان ہوکر بحرانوں اور مشکلات سے نبرد آزما ہوجاتے ہیں اور اپنے فیصلے پہ قا ئم رہ کر اپنے بہتر و تابنا ک مستقبل کی راہ پر گامزن ہو جا تے ہیں۔مگرآج اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بدقسمتی سے ہم پاکستانی بھی بڑے عجیب و غریب لوگ ہیں ، جہاں ہمیں سنجیدہ ہونا چا ہئے وہاں ہم سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں اور جہاں ہمیں غیر سنجیدہ ہونا چا ہئے وہاں ہم سنجیدہ ہوجا تے ہیں ہم پچھلے 70سال سے اِسی المیے میں مبتلاہیں کہ ہمیں کس وقت کیا کرنا چا ہئے ؟اور کس لمحے ہمیں کس کا دامن تھامنا چاہئے؟یعنی کہ ہم میں جیسے کسی نقطے اور مسئلے کے حل کے خاطر اجتماعی سو چ وبچاراور فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنی ذہنی کیفیت کو ہی نہیں سمجھ سکے ہیں یوںآج یقینی طور پر ہم اپنے مسائل اور پریشا نیوں سے چھٹکارہ نہیں پا سکے ہیں ورنہ کیا وجہ تھی کہ نو دس ماہ قبل پا نا ما لیکس کا معاملہ جس طرح سے سامنے آیا تھا اگر اُسی وقت دنیا کے دیگرممالک کی اقوام کی طرح ہماری بھی ایک سوچ اور فکر بن جاتی تو آج ہمارا بھی یہ مسئلہ کب کا ختم ہوچکاہوتا جیسا کہ دوسری اقوام نے متحد و منظم ہوکر پا نا ما لیکس میں نامزداپنے لوگوں کا کڑااحتساب کیا اور سچ و جھوٹ کو واضح ہونے تک جیسا چاہا احتجاج کیااورمنٹوں، گھنٹوں ،دِنوں، ہفتوں اور مہینوں میں پانا ما لیکس کا مسئلہ خود حل کرلیا اور جو اِس میں ملوث پایا گیااُس کا بھی بڑااعلیٰ اور بلند ظرف تھاکہ اُس نے بھی خود کو ہر موقع پر عوامی اور اِنصاف کی عدالتوں میں پیش کیا اور پا نا ما لیکس میں اپنے متعلق �آ ئے تمام ریکارڈ کے شواہد پیش کئے اور اپنے لوگوں کو اعتماد میں لیا اور مطمئن کیا بری الذمہ قرارپایا اور جو ایسا نہ کرسکا اُس نے عدالتی فیصلوں کے سامنے اپنا سر تسلیمِ خم کیا اور خود کو سزا کیلئے پیش کیا اور اپنے عہدے سے مستعفی ہوا مگر اِن تمام حالات ’ واقعات اور حقائق کے با وجود بھی دوسری طرف ایک ہمارے مُلک کے پا نا ما لیکس کے شکنجے میں جکڑے حکمران ہیں کہ جنہوں نے پا نا ما لیکس کو نہ ما ننے کی ٹھان رکھی ہے۔ اور اپنے متعلق پا نا ما لیکس میں آئے تمام شواہد اور ریکارڈ کو جھٹلانے کیلئے جھوٹ پہ جھوٹ بولے ہی چلے جارہے ہیں آج یہ جتنا جھوٹ بول رہے ہیں اُلٹا اِس میں مزید پھنستے ہی چلے جا رہے ہیں۔ شایدوہ یہ بھول گئے ہیں کہ جانور شکاری کے جا ل میں اپنے پیروں اور پنجوں سے پھنستا ہے اور اِنسان اپنی زبان اور جھوٹ سے مصیبتوں کا شکار ہوتا ہے اِن دِنوں میرے مُلک میں جیسے سچے اور جھوٹوں کاگھمسان کا رن جاری ہے اَب دیکھتے ہیں کہ آنے والے دِنوں ، ہفتوں اور مہینوں میں سچّوں کو فتح حا صل ہوتی ہے یا جھوٹوں کو پستی اور اپنی ذلت و رسوا ئی کے تلوے چاٹنے پڑتے ہیں۔تاہم آج کیا پانا ما لیکس کا پیچھاکرنے کا سارا ٹھیکہ صرف پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا ہے؟باقی سب اپنی طرح طرح کی ذاتی اور سیاسی مصالحتوں اور مفاہمتوں کے خول میں منہ چھپا ئے بیٹھے خاموشی سے چین اور سُکھ کی با نسری بجارہے رہیں اور اپوزیشن ہوتے ہوئے بھی فرینڈلی اپوزیشن کا ایک ایسا مکروہ رول اداکررہے ہیں کہ اَب قوم کا اپوزیشن پر سے اعتبار اُٹھ گیاہے۔ پیپلز پارٹی کو پا نا ما لیکس کے حقا ئق سامنے آنے تک اپنے مثبت اور تعمیری قول و فعل کے ساتھ عوامی سطح پرکھل کر راہ ہموار کرنی چا ہئے تھی مگر وہ اپنا یہ رول اداکرنے سے کتراتی رہی ہے۔ بہرکیف ، کچھ بھی ہے مگراِس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پا ناما لیکس میں نا مزد وزیراعظم نواز شریف اور اِن کے خاندان کے افراد کی آف شور کمپنیوں سے متعلق حقا ئق دنیا کے سامنے لا نے کیلئے ایک محب وطن سیاسی رہنماء تحریک اِنصاف کے سربراہ عمران خان ہی ہیں جو اپنی پا رٹی کے عہدیداران اور کارکنان کے ساتھ پاناما پیپرزلیکس کے معاملے کودودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کا علم لئے میدانِ سیاست میں متحرک ہیں۔اگرچہ عمران خان کے اِس عزمِ خاص کوحکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جذباتی اور جوشیلے عہدیداران و کارکنان اور حکومتی وزراٗ اور اِن کے ارد گرد کی طرح منڈلاتے کارندے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اور مُلک بھر میں ہونے والے اپنی پارٹی کے بڑے چھوٹے جلسے جلوسوں اور عوامی و پبلک مقامات پر کھلم کھلا بیچارے عمران خان اور اِن کی جماعت والوں کو چیخ چلاکراور اپنے گلے پھاڑ پھاڑ کرہدفِ تنقید بنانا اور بُرا بھلا کہنا خود پرلازم کرچکے ہیں اور اَب یہ لوگ یہ کام اپنا فرض سمجھ ایسا کرنے لگے ہیں۔اَب اِس ساری صورتِ حال میں یہ توضرور واضح ہوگیاہے کہ میرے دیس پاکستان میں سچ اور جھوٹ اور کون اچھا ہے؟ اور کون بُرا ہے؟ کو پرکھنے کی سوچ اور فکرختم ہوکررہ گئی ہے ہم نے اپنے حصے کا یہ کام بھی اپنی عدالتوں اور افواج کے کاندھے پر ڈال دیاہے اور خود ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ہمیں خود کچھ نہیں کرنا ہے بس جو کرنا ہے ہماری عدالتوں اور فوج کو ہی کرنا ہے۔