- الإعلانات -

افغانستان اوربیرونی طالع آزما

پاکستان اور افغانستان دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں جو مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ ان کے نسلی تانے بانے بھی آپس میں ملتے ہیں اور لسانی مماثلت بھی موجود ہے ۔اِن تمام رشتوں ناطوں کے باوجود یہ دونوں اپنی جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں اور الگ الگ اکائی کے طور پر موجود ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان کے مابین سرحد تقریباََ ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل ہے جو دونوں ممالک کی کسی دوسرے ملک سے طویل ترین سرحد ہے یعنی نہ تو افغانستان کی کسی اور پڑوسی ملک کے ساتھ اتنی طویل سرحد ہے اور نہ پاکستان کی۔ دونوں اسلامی ممالک ہیں اور بڑی گہرائی سے اسلام کے پیرو کار ہیں یوں دونوں کے آپس میں مثالی تعلقات ہونے چاہیے تھے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکا اگر چہ پاکستان کی طرف سے مسلسل ایسی کوششیں کی گئی اور اب بھی جا رہی ہیں لیکن دوسری طرف پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ رکھا گیا اور افغانستان پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والا واحداسلامی ملک بن گیا یہ اعزاز حاصل کرنے کی افغانستان کے پاس کوئی ٹھوس وجہ تو نہ تھی لیکن اُس نے ایسا کیا اور پاکستان کی راہ میں پہلا روڑا اٹکایا ۔ افغانستان ہمیشہ کسی دوسری قوت کے زیراثر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو زیادہ خوشگوار نہیں ہونے دیتا اور کسی نہ کسی حیلے بہانے دونوں ملکوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ افغانستان اکثر اوقات بدامنی اور خانہ جنگیوں کا شکار رہا ہے جس کیلئے وہ پاکستان کو موردِ الزام بھی ٹھہراتا رہتا ہے اور یوں دو نوں ممالک کے تعلقات بہتر نہیں ہو پاتے۔ معمول کی الزام تراشی کے ساتھ جو افغان حکمران پاکستان کے بارے میں کرتے رہتے ہیں وقتاََ فوقتاََ ڈیورنڈ لائن کا قصہ بھی چھیڑدیتے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے اور اس کا تعین 1893 میں کیا گیا تھا ایک صفحے پر درج سات نکات پر مشتمل اس معاہدے پر برطانوی حکومت کی طرف سے مورٹیمر ڈیورنڈ اور افغانستان کی طرف سے امیر عبدالرحمان نے دستخط کیے۔ افغانستان نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلاکرنے کے لیے پختونستان کے شوشے کو بھی ہوا دیے رکھی جو وقت کے ساتھ اپنی موت آپ مر گیا اور اُس کی حکومتوں نے بھارت سے بھی غیر معمولی تعلقات پاکستان کی مخالفت میں ہی استوار کیے جن میں کرزئی حکومت سر فہرست ہے۔ افغانستان ڈیورنڈلائن کا مسئلہ بھی اٹھا کر حالات اور تعلقات کو کشیدہ کرتا رہتا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ سرحد ایک معاہدے کے تحت کھینچی گئی تھی جو سو سال کے لیے تھا جب کہ معاہدے کے نکات میں کسی وقت کا کوئی تعین موجود نہیں۔ افغان حکومتیں یہ موقف بھی اپناتی ہیں کہ یہ معاہدہ دباؤ کے تحت کیا گیا لیکن بات یہ ہے کہ معاہدے میں کسی دباؤ کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ اُن کی تسلی کے لیے یہ بات بھی کافی ہونی چاہیے کہ قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد نے بھر پور انداز میں تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور جب سازشوں کے تحت معاملے کو الجھانے اور پیچیدہ بنانے کی کوشش کی گئی اور یہاں کے عوام سے فیصلہ مانگا گیا کہ آیا وہ پاکستان میں شامل ہونا چا ہتے ہیں یا نہیں تو سرحدی گاندھی عبدالغفار خان ان کی پشت پر موجود قوتوں اور بھارتی گاندھی کے دیگر پیرو کاروں اور تاج برطانیہ جو اس معاملے کو متنازعہ بنانے سے روک سکتا تھا سب کے خلاف اور پاکستان کے حق میں اس صوبے کے عوام کا ووٹ اور فیصلہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انہیں ہر صورت پاکستان کے ساتھ ہی رہنا ہے اس فیصلے میں آج بھی کوئی تبدیلی نہیں بلکہ اور زیادہ مضبوطی اور ثابت قدمی آچکی ہے۔ خود افغانستان میں بھی جو لوگ تاریخ سے آگاہی رکھتے ہیں وہ اس حقیقت کو مکمل طور پر تسلیم کیے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی نیشنل کانگریس پارٹی کے سربراہ عبدالطیف پدرم نے اپنے فیس بک پیج پر بڑے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ میں ڈیورنڈلائن کو متنازعہ خیال نہیں کرتا یہ کسی بھی بین الاقوامی سرحد کی طرح ایک سرحد ہے وہ لکھتے ہیں میں نے کرزئی دور میں افغان وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ڈیورنڈ لائن متنازعہ ہے تو اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جائیں اور اگر آپ کے پاس اس کے دستاویزی ثبوت نہیں ہیں تو پھر اسے تسلیم کر لیجئے انہوں نے مزید لکھا کہ اگر ان کی پارٹی بر سر اقتدار آگئی تو وہ اسے مستقل سرحد ہی تسلیم کریں گے۔ افغان حکومت بھی اگر موجودہ افغانستان کو قابو کر لے تو بہت ہے پہلے وہ کابل سے باہر تو اپنی عملداری قائم کرے اور اپنے اندر کی خانہ جنگیوں کو ختم کر کے اور بیرونی طالع آزماؤں سے اپنی موجودہ سرحدوں کی حفاظت کرلے تو یہی کافی ہے اُس کی حکومتوں کو حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے عوام کو بھی حقائق بتا دیناچاہیے نہ کہ وہ اُنہیں توڑ مروڑ کر حقائق سے دور لے جانے کی کوشش کرے۔
****