- الإعلانات -

مکے ٹماٹر ۔تھپڑ

اسمبلی ہال میں مسلم لیگی ممبرقومی اسمبلی جاوید لطیف کو تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی مراد سعید نے مکے مار کر نہ صرف عمران سے دادشجاعت پائی بلکہ تحریک انصاف کے جیالوں نے ملک بھر میں مراد سعید کی کاروائی کو بر حق قرار دیا اسی طرح میانوالی کے ممبران ضلعی اسمبلی مولوی عظمت اللہ خان چیئرمین یونین کونسل موچھ اور طارق خان چیئر مین شہباز خیل نے جعلی اپوزیشن لیڈر پر ٹماٹر بر ساکر تحریک انصاف کے ساتھیوں کے دلوں میں جگہ بنائی ! مراد سعید جواں سال پڑھا لکھا او ر عمران کا جیالا ہے مراد سعید نے انتہائی اقدام اٹھاکر اسمبلی میں حکومتی ممبرقومی اسمبلی کو تھپڑ مار کر ملک میں پیغام دیا ہے کہ عمران خان کے خلاف غلط الزام لگانے والے جان لیں ! عمران کی بے عزتی کرنے والے تپھڑوں ۔لاٹھیوں اور مکوں کے حقدار ہیں۔ مراد سعید نے انتہائی قدم اٹھایا ہے یہ ان کا ذاتی فعل اور فیصلہ ہے اس فیصلے پر تالی بجانے والے بھی ہونگے اور کچھ اس فعل کو نا پسند کرنے والے بھی! اور مسلم لیگ کے ہم خیال اس فعل کی مذمت کریں گے۔ احالانکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی شریک حیات تہمینہ دورانی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جاوید لطیف کو پارٹی سے بر طرف کی جائے کیونکہ موصوف نے پختون قوم کی تغحیک کی ہے اور اسے پارٹی سے نکالا گیا تو خیبر پختونخواہ سے پارٹی کا جنازہ نکل جائے گا! اور تہمینہ دورانی کو مسلم لیگی حلقوں میں کوئی پزہرائی ملنے کی توقع نہ ہے مگر ان کی حق گوئی بے باکی کو ہر باشعور شہری ضرورسہرائے گا۔ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ محترمہ درانی نے یہ بیان وزیراعلیٰ پنجاب کی ایما پر دیا ہے ! سچ کچھ بھی ہو تہمینہ درانی نے بڑے پر وقار انداز میں خالد لطیف کو آڑے ہاتھوں لیا ہے خصوصاً اپوزیشن اور تحریک انصاف کے ارکان کی نظر میں تہمینہ درانی کی عزت وقار میں اضافہ ہوگا! خیر تہمینہ درانی کا ذکر تو ان کی معیاری رائے کی وجہ نے ہوا ہے بات تو اسمبلی میں ہونے والی کاروائی اور ٹماٹر باری اور تھپڑ بازی کی ہورہی تھی جو کچھ جاوید لطیف نے کیا اسکی اس کے ساتھی داردیں یا مذمت کریں انکی مرضی! مراد سعید نے جوکچھ کیا ہے کچھ حدتک غلط ہے ! مگر مراد سعید نے غلط کرکے بھی عوام الناس میں عزت کمائی ہے کیونکہ جاوید لطیف نے عمران کو عدار کہہ کرمراد سعید کو قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور کیا! جاوید لطیف عمران خان کو غدار نہ کہتے تو نہ مراد سعید ہاتھ اٹھاتے اورنہ جاوید لطیف کو تھپڑ پڑتے! مراد سعید اورجاوید لطیف کی باتوں اور جھگڑے نے ممبران اسمبلی کی عزت وقار کو داغدار کیا ہے! کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ممبران اسمبلی عوام سے ووٹ لیکر پارلیمنٹ میں عوامی خدمت کیلئے نہیں جاتے ! بلکے ممبران اسمبلی پارلیمنٹ میں اپنے کاروبار کیلئے جاتے ہیں۔ کیونکہ اسمبلیوں کو قائم ہوتے عشرے گزرگئے! معلوم نہیں ممبران اسمبلی اب تک اسمبلیوں میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں کیونکہ ملک میں تعلیم کا نظام حکومتی سطح پر ناکام ہو چکا یعنی سرکاری تعلیمی ادارے جن میں اعلیٰ تعلیم یا فتہ سٹاف تعینات ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مقابلے میں فیل ہو چکے ہیں۔ زراعت روز بروز تنزلی کا شکار ہے محکمہ زراعت پر اربوں روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں مگر نتیجہ صفر! محکمہ صحت کی حالت ناگفتہ بہ ہے سرکاری ہسپتالوں مین اعلیٰ تعلیم تافتہ ڈاکٹر اور والائیتی مشینری اور لیبارٹری کے باوجود عوام سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرانے کی بجائے پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکوں کر ترجیح دیتے ہیں۔ قوم کے اربوں روپے خرچ کرکے روڈز تعمیر ہو جاتے ہیں مگر ان کی حفاظت پر تعینات عملہ گھر بیٹھ کر تنخوائیں لیتا ہے اور شاہراھیں بغیر نگرانوں کے چل رہی ہیں ممبران اسمبلی قوم کیلئے قانون سازی کی بجائے اپنے اپنے مفادات کیلئے مصروف ہیں جب ممبران اسمبلی اپنی اصل ذمہ داری سے غافل ہوں گے تو پھر کوئی نہ کوئی کا م تو ان کو کرنا پڑے گا ۔ کوئی نواز شریف کا سپاہی تو کوئی دوسرا عمران خان کا جیالہ بن کر تو کوئی تیسرا دارداری کا تابعدار بن کر ڈیوٹی کرے گا۔ تو نتائج عوامی فلاح کے نہیں ہیں اسمبلیوں میں مکے تھپڑ اور انڈے و ٹماٹر چلنے کیلئے برآمد ہونگے۔