- الإعلانات -

پی پی پی کوبغیر تعبیر کے خوا ب دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے!

پچھلے دِنوںآصف علی زرداری کے دَہَن سیاست سے اداہونے والے یہ الفاظ ’’ اگلاوزیراعظم بلاول ہوگا‘‘ ہاہا ہا …!! ابھی تک میرا ذہن کشمکش میں مبتلا ہے اور یہ تسلیم نہیں کرپارہاہے کہ پتہ نہیں یہ جملہ آصف علی زرداری کا خواب ہے یا عزم ؟؟یہ تو آصف علی زرداری ہی بہتر جانتے ہوں گے ؟؟ مگر جہاں تک میرا قوی خیال ہے وہ یہ ہے کہ یہ مسٹر زرداری کا خوا ب ہے کیونکہ آج اِ س حقیقت سے انکار نہیں کہ ابھی بلاول زرداری کوسِوائے خواب اور خوابوں کی دنیا کا تو وزیراعظم بنایا جاسکتاہے مگر اَبھی سرزمینِ پاکستان کا حقیقی معنوں میں جیتا جاگتا وزیراعظم بنا ئے جا نے کے لئے بلاول کی کافی سیاسی منجھائی اور پالش کی ضرورت ہے جس کے لئے ایک بڑاعرصہ درکار ہے اور ویسے بھی ابھی بلاول میں کہیں سے بھی ایسی کوئی قائدانہ صلاحیت موجود نہیں ہے کہ اِس کل کے بچے کو وراثتی سیاست کی وجہ سے مملکتِ پاکستان کا وزیراعظم بنا دیاجا ئے اور مُلک کو تجربات کی بھٹی سے گزارجا ئے اور مُلک کا بیڑاغرق کردیا جائے ۔آج اگر اگلاوزیراعظم بلاول ہوگا زرداری کا یہی عزمِ خاص ہے تو پھر راقم الحروف مُلک کے لگ بھگ بیس کروڑ غیور اور محبِ وطن پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے آصف علی زرداری سے بس اِتنا ہی عرضِ خا ص و عام کرنا چاہے گا کہ براہ مہربا نی زرداری مُلک اور قوم سے کھلواڑ نہ کریں اورابھی اپنے لاڈلے بلاول کے ہاتھوں میں کھیلنے کے لئے گلی ڈنڈا دیں کیو نکہ یہ ابھی اِسی کے قابل ہے نا کہ اپنے اِس کل کے بچے کو موروثی سیاست کی بدولت مُلک کا وزیراعظم بناکر مُلک اور قوم کو اِس کے ہاتھوں میں کھیلنے اور تباہ و برباد کرنے کیلئے دیں اگر پھر بھی زرداری اور پی پی پی کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ یہ اگلے انتخابات کے بعد زبردستی کا بلاول زرداری کوہی وزیراعظم بناکر دم لیں گے تو پھر عوام اپنے مستقبل اور مُلک کی بقا ء اور سا لمیت کا فیصلہ خود کریں کہ وہ کیا چا ہتے ہیں؟ زرداری کا عزم تواپنے انوکھے لاڈلے جو کھیلن کو مانگے چاند ولاہے اُس بلاول زرداری کو مُلک کا وزیراعظم بنانے اور اِس کے ہاتھوں مُلک اور قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا بن چکا ہے ۔بہر حال ، پہلے تو پاکستان پیپلز پارٹی میں ایک منظوروسا ن ہی خوابوں کے حوالے سے خاصے مشہور تھے بس جو سوتے جاتے اپنی خوابوں کی ہی دنیا میں گم رہتے تھے، اَب یہ اور بات ہے کہ اِن کی خواب بغیر تعبیر کے ہوتے ہیں مگرآج اِس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جیسے پی پی پی کی ساری اعلیٰ و ادنیٰ قیادت سب ہی منظور وسان کے خوابوں کی دنیا کی زمین پر چا ئنا کٹنگ کے پلاٹس لے چکی ہے اور اَب یہ اِن پلاٹوں پر اپنے بڑے چھوٹے گھر اور بنگلے بنواکر آباد ہوگئی ہے جہاں سے یہ پاکستانی جغرافیائی او رسیاسی زمینی حقا ئق سے منہ چُراکرخوابوں کی دنیا میں گُم رہنااور وہیں سے اپنے سیاسی بیانات داغنااپنے لئے عافیت گرداننے لگی ہے یکدم ایسے ہی جیسے پچھلے دِنوں بلاول ہاؤس لاہور میں سابق صدرپاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے یومِ پاکستان اوراپنی ساسوں ماں نصرت بھٹومرحومہ کی سالگرہ کی مناسبت سے کیک کا ٹنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’آئندہ بھی صرف پاکستان کی بہتری کیلئے سیاست کریں گے اور لڑیں گے،مُلک اور جمہوریت کی خاطر افتخار چوہدری کے آراو الیکشن کو قبول کیا، حکومتیں آتی جاتی ہیں، ہم تاریخ میں زندہ رہنا چا ہتے(زرداری آپ ضرورہزار برس تک زندہ رہیں مگر مُلک اور قوم کے بہتر او ر تابناک مستقبل کے خاطر کچھ کرکے جیئیں تو کتنا اچھا ہواَب اِسی کو دیکھیں کہ آپ اور آپ کی پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ اور کراچی کو کس سیاست کی بھینٹ چڑھا کر کھنڈر بنایا گیاہے۔اگرچہ آج یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے کہ کس طرح پی پی پی اور متحدہ پاکستان والوں نے اپنی سیاسی اُونچ نیچ اور ضد اور اَنا اور ایک دوسرے پر اپنی برتری اور سبقت حاصل کرنے کے گھناؤنے ترین سیاسی کھیل کی بھینٹ چڑھا کر سندھ اور بالخصوص کراچی کی بنی بنا ئی کشادہ سڑکوں اور گلی کوچوں کو گٹر کے ابلتے پانی اور گندی و غلاظت کے انبار سے کچرا کنڈی میں تبدیل کردیاگیاہے یہ پی پی پی کی قیادت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو سب کے سامنے ہے اورزرداری آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ٹھیک ہے ضرور زندہ رہیں مگر کچھ کرکے جیو تو بات بنے گی ورنہ اَب پی پی پی اور متحدہ پاکستان اور لندن کی قیادت کے لئے سندھ اور کراچی کے غیور عوام کے لبوں پہ سوا ئے بددُعاؤں کے کچھ نہیں ہے مگر اِس پر مسٹر زرداری کا یہ کہنا ہے کہ ) اگلاوزیراعظم زرداری نہیں بلاول بھٹو ہوگا‘‘ (تو اِس پر یہ کہنا ہے کہ زرداری آپ نے صدرِ پاکستان رہ کر سندھ اور کراچی کیلئے کیا بہتری کے سامان کئے تھے جو اَب کٹورے پہ کٹورابیٹاباپ سے بھی گورا بلاول نہ صرف اپنے صوبے سندھ اور شہرِ کراچی اور مُلک کے لئے کچھ بہتر کرے گا؟) یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج تک پی پی پی کی قیادت سے سندھ میں اپنی حکومت ہونے کے باوجود سندھ اور کراچی کے حالات اورگندگی اور غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل شہرِ کراچی کی گھنڈر بنی صُورتِ حال تو بہتر نہیں کی جاسکی ہے اُلٹا مسٹر آصف علی زرداری کا یہ دعویٰ’ ’لاہور میں ڈیرے ڈال لئے ہیں ،بلاول ہاؤس لاہور پاکستان کی سیاست کا مرکز ہوگا آئندہ انتخابات میں وفاق ہی نہیں پنجاب میں بھی حکومت بنا ئیں گے،ملتان میں بھی بلاول ہاؤس بنے گا‘‘ اندھے کا خواب لگتا ہے کہ ’‘۔ زرداری صاحب ، ساراپاکستان ہی آپ کا ہے آپ جہاں چاہیں بلاول ہاوسز بنائیں مگر خدارا مُلک اور قوم کے بہتر مستقبل کیلئے بھی کچھ کریں ،اَب صوبہ سندھ اور کراچی کی تعمیر و ترقی کے لئے صرف چکنے چپڑے روغنی اور دلکش اور دلفریب زبانی جمع خرچ والے بنانا ت سے ہی کام نہیں چلے گا بلکہ اَب سندھ اور کراچی کیلئے حقیقی معنوں میں کچھ بہتر کردکھانے کا وقت ہے ابھی بڑا وقت ہے اگر آج سے بھی آپ نے سندھ اور کراچی کے لئے مختص مگر سیاسی مقاصد کیلئے رُکے ہوئے بجٹ کو ہی جاری کردیاتو اگلے انتخابات سے قبل سندھ اور کراچی کے ترقیاتی منصوبے تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں جو اِس بات کا غماز ہوں گے کہ پی پی پی نے جس طرح سندھ اور کراچی کے سیاسی مقاصد کی بھینٹ چرھے کھٹائی میں پڑے اور رُکے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو تکمیل تک پہنچا دیاہے تو اِس میں کوئی شک نہیں یکدم اِسی طرح اگلے انتخابات میں وفاق اور پنجاب سے بھی کامیابی حاصل کرکے وفا ق اور پنجاب ن لیگ سے چھین لے گی اور اِن جگہوں کے علاوہ کے پی کے اور بلوچستان سمیت مُلک کے چاروں صوبوں کے عوام کے لئے بھی نئے ترقیاتی منصوبے جاری کرے گی اور مُلک اور قوم کو ترقی کے لئے کوشاں رہے گی مگر بشرطیکہ ؟زرداری سمیت پوری پی پی پی قیادت بغیر تعبیر کے نہ خود خواب دیکھے اور نہ قوم کو آئندہ بلاول زرداری وزیراعظم ہوگا جیسے خواب دکھا کرسیاسی چکمہ بازی سے باز رہے ۔
****