- الإعلانات -

انتظار مگر کب تک؟

کہتے ہیں کہ انتظار کرنے والوں کے دن بے قراریوں میں گززتے ہیں اور راتیں اختر شماریوں میں گزرتی ہیں، انتظار کا مرحلہ دلچسپ بھی ہوتا ہے اور اذیت سے بھرپور بھی اگر آپ اس مرحلے سے گزرے ہونگے تو آپ کو اس کا بخوبی احساس ہوگا، دن کی بے قراریوں کا تجربہ بھی آپ کو ہوگا اور ستارے گننے میں بھی آپ کو خوب مہارت ہوگی اور انتظار کے ایک خاص درجے تک پہنچ کر تنہا کا یہ شعر بھی آپ نے گنگنایا ہوگا ۔
نہیں تاب صبر باقی، بس اب انتظار کب تک؟
کوئی حد بھی ہے کروں میں تیر انتظار کب تک؟
چونکہ انتظار کی گھڑیوں میں اذیت بھی ہوتی ہے اور اس میں لذت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے اس لئے انتظار کو گڑ کے اچار سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، انسان کے اندر حب جمال کی ایک صفت بھی ہے جو اسے دیگر حیوانات سے ممتاز کرتی ہے اور انسان کا یہ امتیازی وصف اسے جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اور اس سے انسانی ذندگی کو ارتقاء ملتا ہے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہنا اور کرتے رہنا زندگی ہے اور اس زندگی سے اگر انتظار کو نکال دیا جائے تو وہ قنوطیت پر مبنی بے کیف ذندگی کہلاتی ہے اور انسان کو مایوسی سے ہمکنار کرتی ہے جس کا معاشرے میں کوئی کردار نہیں ہوتا ہے اور جس معاشرے کے افراد قنوطیت کا شکار ہوجائیں اور ان میں مایوسی کے جراثیم پھیل جائیں وہ معاشرہ فیل ہوجاتا ہے۔آج کا دور مشین کا دور کہلاتا ہے مشین سے دو قسم کے لوگ وابستہ ہوتے ہیں ایک سرمایہ دار اور دوسرا مزدورسرمایہ دار ہمیشہ عیش میں مبتلا ہوتے ہیں اور مزدور ذہنی اذیت سے دوچار ہوتے ہیں اور مریض عشق کی طرح دونوں میں بے خوابی کی قدر مشترک ہوتی ہے، پہاڑ جیسی رات میں دونوں ستارے گن گن کر صبح کا انتظار کرتے ہیں صبح ہوتی ہے تو مزدور بے چارہ مشین کی گڑگڑاہٹ میں مشینوں کی گراری یا کسی پرزے کی طرح چلنا شروع کر دیتا ہے اور سارا دن مشقت جھیلتا ہے اور پسینہ بھاتا ہے جبکہ سرمایہ دار کا دن آرام طلبی اور نوٹ گننے میں گزرتا ہے اور خوب کھاتا ہے اور اپنے بچوں کو کہلاتا ہے، اس کی قسمت میں کھانا پینا اور عیش ہے جبکہ مزدور کے بچے مختلف کھانوں کے سن کر اپنا پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور کچھ انتظار بھی اور صبر اور شکر بھی۔چونکہ جدت پسندی انسان کی فطرت میں شامل ہے اس لئے وہ اپنی اس فطری کیفیت کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کر سکتا ہے اور اس کی حرکات سے ہمیشہ اس کیفیت کی عکاسی ہوتی ہے انتظار کی کیفیت سے شاعروں کو بھی انس ہوتا ہے اور وہ اس کی اذیتوں کو محسوس بھی کرتے ہیں کسی شاعر کو جب انتظار میں رکھا جاتا ہے تو اس دوران اس کے لاشعور کے خواب بھی بیدار ہوجاتے ہیں اور ان خوابوں میں تسکین ڈھونڈنے کیلئے وہ شاعری کا سہارا لیتے ہیں اور وہ شاعری اعلیٰ نمونے کی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر انتظار کی اذیت سے ہمارے شاعر دوچار نہ ہوتے تو شاید شاعری پڑھنے والوں کی اکثریت آج ا س عمدہ شاعری سے محروم رہتی جس میں انتظار کی کیفیات اور ہجر وفراق کے واقعات کو بڑی شدومد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔عربی زبان کے ایک نامور شاعر صدمہ فراق کی مصیبتوں دوبارہ شوق ملاقات کے انتظار، آنکھوں سے اشکوں کی روانی اور دیل کی دیوانگی ہی کو ذندگی کی صبح وشام قرار دیتے ہیں ان کے ایک شعر کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں کہ اس میں کتنا درد اور تڑپ ہے ’’اے شوق! تو کتنا باقی رہنے والا ہے ہائے میرے فراق!اے آنسو تو کتنا بہنے والا ہے؟ اے دل تو کتنا دیوانہ ہے؟‘‘۔عشاق تو نہ ویسے بھی نہ ادھر کے ہوتے ہیں اور نہ ادھر کے، قرار تو ان کو ہوتا نہیں ہے اور بے قراری ان کا مقدر ہوتی ہے اور انتظار ان کا نصیب، اوران کی یہاں کی ذندگی جلتے جلتے گزر جاتی ہے اور پتہ نہیں کس پس منظر میں مولانا ظفر علی خان نے یہ شعر کہا ہے
گناہ گار واں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دینگے شاعر ہمارے
شاعر بے چارے تو ساری زندگی انتظار کی اذیتیں جھیل ک کسی ڈاکٹر کی طرح اوروں کے دلوں کیلئے مرہم مرہم کا سامان کرتے ہیں، ویسے ڈاکٹر بھی اہل قلم شمار ہوٹے ہیں زیادہ تر نسخے لکھتے رہتے ہیں بھت کم ایسے ہوتے ہیں جن کو شعروادب سے بھی دلچسپی ہوتی ہے، ان کی انگلیاں چومنے کو دل کرتا ہے، وہ انتظار کراتے بھی ہیں اور کرتے بھی ہیں!!!۔

باعثِ تاخیر۔۔۔ شوق موسوی
وہ فیصلہ جو ہمیں بیس سال یاد رہے
کچھ ایسا فیصلہ لکھنا بھی سخت مشکل ہے
سنانا آساں ہے تحریر کرنا کارِ دراز
اِسی میں شاعری کرنا بھی سخت مشکل ہے