- الإعلانات -

بھارتی نیوکلیئر ہتھیاروں پر آر ایس ایس کا قبضہ!

’امن اور محبت کی پکار‘ نامی بک کی مصنفہ جمیلہ صدیقی نے عالمی طاقت ور نام نہاد منصفوں کے چہروں سے بہت دلیری کے ساتھ نقاب کھینچا قلمکاری کی بہت ہی خوبی کے ساتھ اُن کے لباسوں کو تار تار کرکے اُنہیں ننگا کردیا ہے واہ ’ہرکمال را زوال‘ کی بہترین ترجمانی کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں’ تپتے توے پر پانی کی بوند کب تک سسک سکتی ہے؟‘ دنیا کے اور خطوں کو تو چھوڑئیے !جنوبی ایشیا ء کے دو ایسے پڑوسی ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان70 برسوں کی پائے جانے والی آئے روز کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی سنگینی اور دوطرفہ تناؤ کی کیفیتوں کی شدت کو تو وہ کم کیا کراتے جو کہ پہلے کی نسبت ہمیں اب اور زیادہ پیچیدہ ہوتی دکھائی د یتی ہے،9/11 سے قبل پاکستان کو اپنی مشرقی سرحدوں سے بھارتی جارحیت کے خطرات لاحق رہا کرتے تھے9/11 کے بعد افغانستان میں امریکی اور نیٹو اتحادی افواج کے آنے کے بعد سے تاحال پاکستان کی مغربی سرحدوں کے پار سے بھی پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کو شدید قسم کے مختلف النوع جارحیت اور دہشت گردی کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑرہا ہے، بلکہ براہِ راست دوبدو اُن بیرونی خطرات کا پاکستان کو اپنی مسلح افواج کو میدان میں لاکر مقابلہ کرنا پڑ گیا ہے، ایسی انتہا ئی گھمبیر اور تشویش ناک ’آلارمنگ اسٹرٹیجک‘ کی صورتحال میں عالمی طاقت ور منصفوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو کیا ’سوموٹو ایکشن‘ لینا نہیں چاہیئے تھا؟ پتہ نہیں ’عالمِ انسانیت کو کسی ممکنہ’ یکایک اور اچانک آپڑنے والی تباہ کن اور قیامت خیز ‘ ایٹمی ہلاکت کی بلا خیز ی سے بچا نے کیلئے ’سوموٹو ایکشن ‘ لینے کی کوئی’ عالمی اتھارٹی ‘ہے یا نہیں ؟ ہم کتنے سادہ ہیں’اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کی سوچتے ہیں جس کے سبب بیمار ہوئے‘ 9/11 کے بعد مسٹر بش نے بھارت کے دورے میں امریکا اور بھارت کے مابین سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی فراہمی کا معاہدہ کرلیا ،جب مسٹر بش چند گھٹنوں کے لئے پاکستان یاترا پر آئے تو اُن سے پوچھا گیا ’پاکستان اور بھارت دونوں تسلیم شدہ ایٹمی ملک ہیں بھارت کی نسبت پاکستان کئی عشروں سے امریکی بلاک کا اتحادی رہا ہے کئی عشروں پر محیط ایسی ہی نازک اور حساس ترین صورتحال میں امریکا نے بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کرلیا کیا ایسا کوئی معاہدہ پاکستان کے ساتھ ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ مسٹر بش نے فوراً ٹکا سا جواب دیتے ہوئے فرار کی راہ اختیار کی ’ پاکستان اور بھارت کی مختلف’ تاریخیں ‘ہیں اور ہمیں یہ سب کچھ پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے ‘ بش کا یہ جواب کتنا مبہم غیر سنجیدہ اور بڑا ہی غیر تسلی بخش تھا، دونوں ممالک ( پاکستان اوربھارت کی مختلف ’تاریخ‘ کا ذکر کرکے نجانے وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے اُنہوں نے گو کھل کر اپنی بات کی تعریف نہیں کی ،مگر ہم پاکستانی خوب سمجھ گئے کہ امریکی صدر کا اشارہ کس جانب تھا؟ بھارت کی ایما ء پر ‘ اسرائیلی ایماء پر امریکا اور مغربی دنیا کل بھی مسلم دشمنی میں خاص کر پاکستانی دشمنی میں باہم متحد اور ایک ’مخصوص سوچ ‘ رکھتی چلی آرہی ہے، امریکیوں اور مغربی ممالک کے نزدیک جنوبی ایشیا ء میں پاکستان کا بطور ایک جوہری ملک بننے کے بعد عالمی اور علاقائی پسند اور ناپسند یدگی کے ’معیارات ‘ یکسر تبدیل ہو ئے، یعنی یہ کہ نہ تو امریکا نہ ہی مغربی دنیا پاکستان کی قومی سلامتی کو لاحق بھارتی ایٹمی خطروں کو کسی خاطر میں لانے پر رضامند دکھائی دیتی ہے، بلکہ اُلٹا بھارت جو اپنے مالی وسائل کے تمام تر خزانوں کو مہلک جنگی اسلحوں کی خریداری میں بے دریغ لو ٹتا چلا جارہا ہے بہت موثق و معتبر محتاط اندازے کے مطابق بھارتی دفاعی بجٹ 40 بلین ڈالرز کی اپنے ریکارڈ کی انتہا کو چھو چکا ہے ایک ارب اور بیس کروڑ بھارتی عوام کی غربت وافلاس ‘ ان کے طرزِ زندگی کی مفلوک الحالی ‘ جنہیں ’بیت الخلاء‘ جیسی اہم ضروریاتِ زندگی میسر نہیں‘ اُن کے پاس ‘ صحت نہیں ‘ پینے کا پانی تو رہا درکنارُ اکیسیویں صدی کے اِس عہد میں جسے امریکا نے یہ کہا تھا ’یہ مہذب اور ترقیِ یافتہ عہد ‘ کی صدی کہلائی جائے گی‘ بھارت کے کروڑوں عوام ’حیوانوں‘ جیسی زندگی گزارنے پر مجبور کردئیے گئے جب سے نئی دہلی کے ایوانوں کا قبضہ آر ایس ایس کے متشدد جنونی کارسیوکوں کے ہاتھوں میں آئے روز مضبوط تر ہوتا جارہا ہے بھارتی عوام کی مجموعی طرزِ زندگیاں انسانی سہولیات سے بُری طرح متاثر ہوتی نظر آرہی ہیں، جب ملکی وسائل کو متعصبانہ جنگی جنونیت کی نذر کردینے اور علاقائی بالادستی کے لئے وقف کردیا جائے تو اِس کانتیجہ یہی نکلے گا، بھارتی میڈیا میں جب بھی اِ س انسانی وسائل کی بربادی پر کوئی بات ہوئی تو آر ایس ایس کے جنونی تبصرہ نگار یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ’چین جیسے دنیا کے بڑے ملک کے ممکنہ خطرات کا اور پاکستان جیسے ملک کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں یہ سب کچھ تو کرنا ہی پڑے گا ‘ ایک طرف ایسے بیمار جواز اور ایسی نحیف دلیلیں؟ ذرا دوسری جانب نگا ہ دوڑائیں’ نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم100 ارب ڈالرز کو چھوتا نظرآتا ہے ‘بھئی کوئی بتلاؤ معاملہ کیا ہے؟ ’چین کو بھارت اپنے لئے خطرہ بھی سمجھتا ہے، چین کے تجارتی لین دین میں کمی کی بجائے اور زیادہ تیزی آرہی ہے اور اُدھر دنیا کو دھوکہ دئیے رکھنے کی نئی دہلی کی چا نکیائی پالیسی کے اطوار تو ملاحظہ فرمائیے امریکا اور مغربی ممالک کو چین سے خطرات کے ڈھول پر ڈھول پیٹ کر جو123 معاہدوں پر دستخط کیئے گئے، اُن معاہدوں میں بڑے پیمانے پر دفاعی سازوسامان میں مہلک جنگی آلات کی خریداری میں یہ ’سودا‘ کسی کو نظر آئے نہ آئے پاکستان اور چین کو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی) کی رکنیت حاصل کرنے میں اپنی سی بڑی تگ ودو میں کھیتوں کے کنوؤں پر لگے ہوئے ’رہٹوں میں گھومنے والے بیلوں کی مانند آنکھوں پر چمڑے کی پٹیاں چڑھائے‘ گھومتا ہی رہتا ہے وہ جو جی میں آئے کرگزرے ،پاکستان اور بھارت کے مابین 70 سالہ دیرینہ مسئلہ ِٗ کشمیر کو سائڈ پر رکھ کر بھارت اپنی ’خواہش‘ کو کبھی پائیہ ِٗ تکمیل نہیں پہنچا سکتا، جی ہاں! ’ایشیا پیسفک ‘ کی تھانیداری یا پھر افغانستان میں مستقلاً ’عسکری ڈیر ے داری‘ کا اُس کا خواب شرمندہ ِٗ تعبیر کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے؟ بھارت بطور (این ایس جی) کی رکنیت کے اُصولی فارمولے پر بالکل نہیں اترتا، اگر بفرض بھارت کے ’ عالمی دوستوں‘ نے معروف اور طے شدہ عالمی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ایسی کوئی بہیمانہ ’شرارت ‘ یا ’حرکت‘ کی تو پھر یہ یادرہے صرف(این ایس جی) کا ہی نہیں، بلکہ مکمل ’عالمی امن ‘ کے نظام کا بوریا بستر گول ہوجائے گا، پاکستان اور بھارت کے مابین اگر طاقتور دنیا کے چند مخصوص گروہوں نے کسی قسم کے امتیازات میں ’پسند اور ناپسند‘ کی اپنی یکطرفہ پالیسی اپنائی ،چاہے وہ پاکستان کے ایٹمی ڈیٹرنس کے حوالے سے ہو یا پھر علاقائی یعنی مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے ،پاکستان اِس خطہ کا تسلیم شدہ ایک زمینی ’اسٹیک ہولڈر‘ ہے، لہذاء پاکستان کو کسی بھی اعتبار سے اور نکتہ ِٗ نظر سے’ بائی پاس‘ کرکے اب کوئی فیصلہ پاکستان پر ٹھونسا نہیں جاسکتا۔